Thursday, July 5, 2018

اسکول سے پہلے اسکول نہیں - Say No To Pre-School


کہتے ہیں دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب صنعتی انقلاب آیا تو مرد و عورت دونوں گھروں سے باہر نکل آئے اور ملک و قوم کی ترقی کے لئے دونوں ہر شعبہ ہائے زندگی میں شانہ بشانہ جُت گئے، اس صنعتی انقلاب نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا، انہی دنوں کئی نئی ایجادات ہوئیں جس سے نقل و حمل اور ترسیل کے ذرائع 
بڑھ گئے ۔۔۔ 
 اُس ہی انقلابی دور میں اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ جب ماں اور باپ دونوں گھر کے باہرہوں تو بچوں کو ابتدائی تعلیم و تربیت کا بیڑا کون اُٹھائے ۔۔ اس کے لئے چرچز، یا اُن بزرگ عورتوں نے خدمات پیش کیں جو اُس وقت صنعتی ترقی کے لئے اور کوئی کام نہیں کر سکتی تھیں،
اس طرح دنیا میں پری اسکولنگ کا تعارف ہوا، یعنی اسکول سے پہلے اسکول۔۔ جہاں بچہ روزمرّہ زندگی کے ادب و آداب سیکھتا ہے۔ ترقی کرنے کے بعد اُس قوم نے اس روش کو چھوڑ دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے، مگر ترقی پذیر ممالک میں یہ وائرس کی طرح سرائیت کرتا رہا ، بالخصوص پاکستان میں اب ہر گلی محلے میں اسکول کھلے نظر آتے ہیں، اور ہر دوسری ماں اُس دن کا انتظار کرتی ہے جب بچہ ڈھائی سال کا ہو اور وہ اُسے کسی اچھے پری اسکول میں داخل کروا کر اپنی جان چھڑا لے، اور بچے کو اسکول کے حوالے کر کے اب وہ بلکل بری الذمہ ہے۔۔ 
دکھ یہ ہے کہ ملک کی اقتصادیات اتنی کمزور ہیں کہ کئی مائیں جو بچوں کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتیں وہ بھی اپنی نوکریوں کی وجہ سے بچوں کو پری اسکول کے حوالے کردیتی ہیں، وہ بڑے بڑے بین الاقوامی ادارے بھی جہاں مردوں سے زیادہ عورتیں ملازم ہیں وہ بھی  ڈے کئیر جیسی سہولت فراہم نہیں کرتے۔۔ اور پھر کئی عورتیں خود سے زیادہ دوسروں کی ذمہ داریوں کا بوجھ اُٹھاتی ہیں، اُن کے لئے ماں کے کردار سے زیادہ اہم بہو اور بیوی کا   کردار ہوتا ہے، اور ایسی غیر انسانی توقعات کی زد میں ماں کہیں پیچھے رہ جاتی ہے اور پری اسکولز کا کاروبار چمک جاتا ہے

تمام ترقی یافتہ ممالک جو تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں وہاں سات سال کی عمر سے پہلے کوئی بچہ اسکول نہیں جاتا ، اور سات سال تک پری اسکولنگ کے بجائے ہوم اسکولنگ کی جاتی ہے، یعنی ہر وہ ممکن چیز جو پری پرائمری کلاسس میں سکھائی جاتی ہیں وہ مائیں گھر پر ہی بچوں کو سکھاتی ہیں۔ یا پھر کسی تجربے کار خاتون کی مدد لیتی ہیں، 
دورِ جدید میں ہونے والی کئی تحقیقات یہ بات ثابت کرتی ہیں، کہ چھوٹے بچوں پر بڑے بستوں کا بوجھ، صبح اٹھنے کی سختی اور کام کا دباؤ کوئی بھی مثبت اثرات مرتب نہیں کرتے۔۔ اور تحقیقات تک جانے کی کیا ضرورت ہے، اگر ہم بچوں کی حالت پر خود غور کریں تو اندازہ ہوجائے گا کہ کیسے اُن کے جسم اور ذہن اس مشقت سے متاثر ہوتے ہیں
 بلاشبہ والدین بچے کے بہتر مستقبل کے لئے اُس کو اچھی سے اچھی جگہ تعلیم دلوانا چاہتے ہیں، مگر اس کے برعکس اُن کا نقصان کردیتے ہیں، کم عمری میں ہی اتنی تھکن اور ذہنی دباؤ بچے کے مزاج کو چڑچڑا بنا دیتا ہے، جس کی وجہ سے اُسکی خوارک میں کمی آجاتی ہے۔۔ نتیجتاً اُس کی صحت خراب ہوتی ہے اور وہ آئندہ آنے والی تعلیم کے لئے پہلے ہی کمزور ہوجاتا ہے
احادیثِ مبارکہ میں بھی کئی جگہ بچوں پر کم سنی میں کسی بھی قسم کی سختی کرنا منع ہے یہاں تک کہ نماز اور دین کے دوسرے معاملات میں بھی اُن پر کسی قسم کے فرائض کی پابندی نہیں
بچوں کی تربیت کے متعلق اہم احادیث میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک سے سات سال کی عمر میں بچے کو سینے سے لگا کر رکھا جائے، کیونکہ یہ سال اُس کو  والدین اور اہلِ خانہ سے زہنی وابستگی پیدا کرنے کے لئے بہت اہم ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان سالوں میں بچے پر سختی کرنا منع ہے تاکہ بچے ضدی یا سرکش نہ بن جائے اور اُس کے دل میں اہلِ خانہ کے لئے نفرت کے جذبات نہ پیدا ہوں۔۔
 والدین کو اب یہ شعوری کوشش کرنی چاہئے کہ بچے کو جب تک ہو سکے گھر میں ہی بھرپور توجہ دیں اُس کو کھیلنے کودنے اور کھیل سے تھک ہار کر بھر پور خوارک اور نیند لینے دیں۔ جہاں تک ممکن ہو بچے کو گھر پر ہی ابتدائی تعلیم سے متعارف کروائیں۔۔ اس کے لئے صرف وقت اور تحمل کی خاص ضرورت ہے جو والدین خصوصاً ماں کو اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا، باقی فی زمانہ اس مشن کو پورا کرنے کے لئے ہر طرح کے وسائل بازار اور انٹرنیٹ پر موجود ہیں، مگر چند سالوں تک اُٹھائی گئی یہ تکلیف بچے کو بہت سی تکلیفوں سے بچا کر اُس کے اچھے مستقبل کی ضمانت دے سکتی ہے۔

اللہ ہمیں اپنوں سے چھوٹوں کی بہترین رہنمائی کرنے کے قابل بنائے اور ہماری نسلوں کو ذہنی جسمانی اور روحانی سکون دے ہم  سب  کو  ہمارے  نیک  مقاصد  میں  کامیاب  کرے  اور  ہمیں  معاشرے  کی  فلاح  کے  لئے  فعال  کردار  ادا  کرنے کی  توفیق  دے۔  آمین

Wednesday, July 4, 2018

Feminist دینِ

اس سال آٹھ مارچ پر نکلنے والی عجیب و غریب ریلی نے ملک بھر کے مردوں میں غم و غصے کی لہر دوڑادی تھی۔۔ اس ریلی میں عورتیں کچھ ایسے انوکھے مطالبات کرتی نظر آئیں جو انتہائی ناقابلِ قبول تھے، ویسے بھی جس معاشرے کی زیادہ تر آبادی عورتوں کو اُن کے بنیادی حقوق بھی نہ دیتی ہو اُن سے اتنے بے باک مطالبوں پر اور امید بھی کیا کی جا سکتی تھی بجز اس کے کہ وہ اسکی شدید خلاف ورزی کرتے اور عورتوں پر فتوات لگا دیتے۔۔ اور یہی ہوا،
مطالبات کچھ یوں تھے

 لوگوں کا ایک گروہ ایسا ہے جو ان مطالبات کو بے حد آزاد خیال اور معاشرے کے لئے تباہ کن سمجھتا ہے۔۔
اور دوسرا وہ جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ مطالبات خطرناک نہیں بس انہیں سمجھنا مشکل ہے، جیسے خواتین یہ چاہتی ہیں کہ کچن کی ذمہ داری کا لیبل اُن پر سے ہٹا دیا جائے
مگر وہیں چند مذہبی اقدار کی بری طرح توہیں کی گئی
ان مطالبات کی زبردست جوابی کاروائی کی گئی اور شعبہ ہائے زندگی سے مرد نکل کر عورتوں کے مقابل کھڑے ہوگئے، 
یہاں تک کہ ایک تصویر میں مولوی صاحب نے بینر پکڑ رکھا تھا کہ ’’اپنے جنازے خود پڑھاؤ‘‘ 
یہاں مجھے ذاتی طور ہر عورتوں سے یہ اختلاف ہے کہ حقوق مانگنے کے وقت تمام اخلاقی ضابطے توڑ دئے جاتے ہیں مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ پیشہ ورانہ زندگی میں یہی عورتیں اپنا عورت کارڈ استعمال کر کے مختلف آسانیاں طلب کرتی نظر آتی ہین جیسے گھر کی ذمہ داریوں کا بہانہ کر کے دیر سے آنا اور جلدی چلے جانا وغیرہ وغیرہ
دراصل مسئلہ فیمنزم نہیں ہے، اس کی تعریف تو بہت عام ہے ، یعنی ایسے لوگ جو اس بات کے حامی ہیں کہ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرسکتی ہیں۔ اور اس سوچ میں کوئی قباحت نہیں، قباحت تو یہ ہے کہ جو لوگ عورتوں کے حقوق کے علمبردار بنے پھرتے ہیں اُنہوں نے عام سی بات کو اتنے بھونڈے انداز میں پیش کیا ہے کہ اس نے لوگوں میں ایک عجیب سرکشی کی کیفیت پیدا کردی ہے۔۔ چاہے وہ اس کے حامی ہوں یا مخالف سب ایکسٹریمسٹ ہوگئے ہیں۔۔ جبکہ دین اسلام تو خود فیمینسٹ دین ہے! جی ہاں دین اسلام نے عورتوں کو جو مرتبہ دیا ہے اُسکی نفی کوئی معاشرہ نہیں کر سکتا
 لوگوں کی اس خود ساختہ مسئلے پر بحث دیکھتے ہوئے دل چاہتا تھا کہ میں بھی اس میں اپنا حصہ ڈالوں مگر کچھ وقت نے مہلت نہ دی یا شاید یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اللہ سبحانہ و تعالی مجھے اس معاملے کا ایک اور رُخ دکھانا چاہتا تھا، اور وہ مجھے اپنے حرم لے گیا 
جہاں سعی کرتے ہوئے مجھے اچانک خیال آیا کہ جو دین عورت کو اتنی عزت دیتا ہو کہ اُس کی اپنی اولاد کے لئے کی گئی دوڑ دھوپ کو رہتی دنیا تک اپنی عبادت کا لازمی حصہ بنا دے اُس دین سے تعلق رکھنے والی عورت کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے یہ ذلت اور خواری اُٹھانے کی کیا ضرورت ہے
جب  میں اُن ستونوں میں آگے پیچھے متعدد مردوں کو بھاگتے ہوئے دیکھتی تھی تو سوچتی تھی کہ یہ کس کی تقلید کررہے ہیں؟ یہ کیوں نہیں سوچ رہے کہ عورت کا تعلق تو کھانا بنانے اور گھر صاف رکھنے سے ہے، تو یہ عورت ہونے کی کون سی معراج ہے جس کے لئے دنیا بھر کے مختلف معاشرتوں سے تعلق رکھنے والے مرد اپنی عبادتوں کو مقبول کرنے کے لئے بس بھاگتے جا رہی ہیں۔۔ 
اور یہ بات خود عورتیں کیوں نہیں سوچتیں کہ خدا نے اُنہیں کہاں کہاں معزز بنایا ہے۔۔ 
محمد ﷺ کوخود شادی کی پیشکش کرنے والی اپنے شہر کی ایک بااثر خاتون تھیں، جنہوں نے بعد ازاں مال و دولت اور اثر و رسوخ سے دینِ اسلام کی بھی بھرپور خدمت کی
اس کے علاوہ دینِ اسلام کی پہلی شہید بھی ایک خاتون تھیں، حضرت مریمؑ کا رتبہ بھی کسی سے چھپا نہیں وہ پیغمبر نہ تھیں مگر قرآن نے اُن کا ذکر بلند کیا، اور اُنہیں رہتی دنیا تک پاکیزگی اور عصمت کی مثال بنایا 
اسی طرح کئی جگہ بیوی، بہن، بیٹی اور ماں ہر روپ میں عورت کے عظیم الشان مرتبے کی مثالیں موجود ہیں، مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقی طور پر نہیں کیا گیا، بلکہ اس بات کا احساس دلانے کے لئے کیا گیا کہ عورتیں بھی معاشرت اور مذہب میں خاطر خواہ حصہ رکھتی ہیں، 

     اسلام میں معاشرتی حیثیت سے عورتوں کو اتنا بلند مقام حاصل ہے کہ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ  ارشاد ربانی ہے کہ:

                وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن کَرِہْتُمُوہُنَّ فَعَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْْئاً وَیَجْعَلَ اللّہُ فِیْہِ خَیْْراً کَثِیْراً(النساء: ۱۹)
                اور ان عورتوں کے ساتھ حسنِ معاشرت کے ساتھ زندگی گزارو اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم کوئی چیز ناپسند کرو اور اللہ اس میں خیر کثیر رکھ دے۔

                 معاشرت کے معنی ہیں، مل جل کر زندگی گزارنا، اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک تو مردوں کو عورتوں سے مل جل کر زندگی گزارنے کا حکم دیاہے۔

شوہر کے انتخاب کے سلسلے میں اسلام نے عورت پر بڑی حد تک آزادی دی ہے۔ نکاح کے سلسلے میں لڑکیوں کی مرضی
 اور ان کی اجازت ہر حالت میں ضروری قرار دی گئی ہے۔ ارشاد نبوی ہے:

                لَایُنْکَحُ الْاَیْمُ حَتّٰی تُسْتَأمَرُ وَلاَ تُنْکَحُ الْبِکْرُ حتی تُسْتأذن(۱۲)

                شوہر دیدہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے مشورہ نہ لیاجائے اور کنواری عورت کا نکاح بھی اس کی اجازت حاصل کیے بغیر نہ کیا جائے۔(۱۳)

                اگر بچپن میں کسی کا نکاح ہوگیا ہو، بالغ ہونے پر لڑکی کی مرضی اس میں شامل نہ ہو تو اسے اختیار ہے کہ اس نکاح کو وہ رد کرسکتی ہے، ایسے میں اس پر کوئی جبر نہیں کرسکتا۔

                 اسلام نے عورت کو خلع کاحق دیا ہے کہ اگر ناپسندیدہ ظالم اور ناکارہ شوہر ہے تو بیوی نکاح کو فسخ کرسکتی ہے اور یہ حقوق عدالت کے ذریعے دلائے جاتے ہیں۔

جہاں دیگر معاشروں نے عورت کو کانٹے کی طرح زندگی کی رہ گزر سے مٹانے کی کوشش کی تو اس کے برعکس اسلامی معاشرہ نے بعض حالتوں میں اسے مردوں سے زیادہ فوقیت اور عزت واحترام عطا کیا ہے۔  حدیث مبارک ہے

                حُبِّبَ الَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَاءُ والطِّیُبُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَیْنِيْ فِی الصَّلوٰةِ(۸)
                مجھے دنیا کی چیزوں میں سے عورت اور خوشبو پسند ہے اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے۔

                اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت سے بیزاری اور نفرت کوئی زہد وتقویٰ کی دلیل نہیں ہے، انسان خدا کا محبوب اس وقت ہوسکتاہے جب وہ اللہ کی تمام نعمتوں کی قدر کرے

اسی طرح علم کی فرضیت بھی دونوں کے لئے یکساں ہے، دینِ اسلام عورت کو علم حاصل کرنے کے معاملے میں بھرپور حوصلہ افزا ہے


تو پھر یہ جنگ کس چیز کے لئے ہے اور کس سے ہے، جب اللہ کا دین عورت کو تمام حقوق دے رہا ہے، صرف یہ دین عورت کو اپنا حسن اور وقار وائم رکھنے کے لئے چند متعین کردہ حدود میں رہنے کا حکم دیتا ہے، مگر اُن حدود سے کسی بھی صورت وہ مرد سے کم تر نہیں ہو جاتی۔۔ اُس کے حقوق کا سب سے بڑا علمبردار تو اُس کا اپنا دین ہے۔۔ اسی لئے میں کہتی ہوں کہ دینِ اسلام ایک فیمنسٹ دین ہے، اور فیمنسٹ ہونے میں کوئی برائی نہیں جب تک آپ اللہ کی بنائی ہوئی کوئی حد نہ توڑیں اور صرف معاشرتی اور مذہبی معاملات میں عزت اور برابری کی حامی ہوں

اللہ  ہم  سب  کو  ہمارے  نیک  مقاصد  میں  کامیاب  کرے,دین کو بہتر طور پر سمجھنے،  اور  ہمیں  معاشرے  کی  فلاح  کے  لئے  فعال  کردار  ادا  کرنے کی  توفیق  دے۔  آمین

لنچ باکس

میرے سارے دن کا موڈ خراب کرنے کے لئے یہ ناشتے کا ڈبہّ کافی ہے‘‘، صمد غصے سے ڈبے میں رکھے سیندوچ کو دیکھ رہا تھا جس میں سے ٹماٹر اور کھیرے باہر جھانک رہے تھے۔۔ اتنے میں میسج کی بیپ بجی اور اسکرین پر ثمرہ کا میسج دیکھ کر غصہ مزید بڑھ گیا۔۔
’’تم نے لنچ کرلیا؟‘‘ اُس نے پوچھا تھا۔۔
دل تو کررہا ہے بولوں یہ جو تم نے دیا ہے! یہ لنچ کہلانے کے لائق ہے؟؟ صمد نے خود سے کہا
’’نہیں‘‘، اُس نے مختصراً لکھ بھیجا
’’کیوں؟؟، کھا لینا چاہیئے تمہیں اب تک۔۔ ‘‘ اُس نے پھر میسج کیا
’’ہاں بس تھوڑا کام ختم کر لوں پھر کھاتا ہوں‘‘ جیسا بھی تھا کھانا تو وہی تھا۔
’’اوکےجلدی کھا لینا، ٹیک کئیر‘‘ ثمرہ نے جواب دیا  
صمد نے موبائل کو نخوت سے دیکھا اور ایک طرف رکھ دیا۔۔

**** 


’’پتہ ہے آج آفس میں کتنا مزہ آیا‘‘ ثمرہ دھپ سے بستر پر بیٹھی اور صمد کے قریب ہوتے ہوئے بولی
صمد بدستور موبائل میں دیکھتا رہا۔۔
’’صمد؟‘‘ ثمرہ نے اُس کی بے رُخی محسوس کی ’’کیا ہوا؟
’’کچھ نہیں
’’کیا پرابلم ہے؟؟
ثمرہ آفس کے علاوہ بھی لائف میں بہت کچھ ہے، تم سے کتنی بار کہا ہے کہ گھر پر اور مجھ پر بھی فوکس کرو، کوئی تمہیں کچھ کہتا نہیں ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم کبھی سدھرنے کی کوشش ہی نہ کرو‘‘
سدھرنے کی کوشش؟؟‘‘ آر یو سیرئیس؟؟ ایسا کیا کیِا ہے میں نے، اور کس بات کا دھیان نہیں رکھا میں نے، ثمرہ حیرت سے اُس کی طرف دیکھ رہی تھی
تمہارے سوال میں ہی جواب ہے، کہ تم نے کیا ہی کیا ہے، تم نے کچھ بھی نہیں کہا، تمہیں ایک سینڈوچ تک بنانا نہیں آتا۔۔ تنگ آگیا ہوں میں یہ کھیرا ٹماٹر کھا کر۔۔
’’صمد تم مجھ سے ایسے اس لئے بات کررہے ہو کیونکہ مجھے سینڈوچ بنانا نہیں آتا۔۔
’’ہاں اور اس لئے بھی کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ تمہاری اس نوکری سے میں اور میرا گھر سَفَر کرتا ہے، تمہارے اس بے تُکے شوق کی خاطر ۔۔
’’میرے اس بے تکے شوق کی خاطر تم ڈھنگ کا لنچ نہیں کر پاتے؟ ثمرہ نے اُس کی بات کاٹ دی۔۔ 
صمد خاموش ہوگیا مگر او کا غصہ برقرار تھا، اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنی بات ثمرہ کو کیسے سمجھائے
’’ میں نے تم سے کبھی نہیں بولا کہ میں ماسٹر شیف ہوں، جس شوق کو تم بے تُکا کہہ رہے ہو وہ میری لائف میں تم سے پہلے آیا تھا، اور ویسے بھی شادی کے لئے میں نے کام کے ٹائمنگ میں اتنی لیوریج لی ہے کہ میرا پروموشن متاثر ہوا ہے۔۔ میں نے اپنے چھہ سال کے کرئیر کو تمہارے لئے ، تمہارا لنچ بنانے کے لئے خراب کردیا ہے، ثمرہ کو شدید غصہ آرہا تھا
مجھے تم سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی، صمد نے غصے سے کہا 
فائن! ثمرہ منہ موڑ کر سو گئی

*****


اگلے دن صمد کی آنکھ کھلی تو ثمرہ بستر پر نہیں تھی، اور ابھی دونوں کے آفس جانے میں بہت وقت تھا، صمد کو تشویش ہوئی پھر اسے رات کی لڑائی یاد آئی اور اُس کا دل دھک سے رہ گیا، کہیں ثمرہ مجھے چھوڑ کر تو نہیں چلی گئی ، ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اُس کے ذہن میں ایک کوندہ لپکا تھا، اور اُس نے خود کو ساٹھ سال کی عمر میں اکیلا تصور کیا۔۔ 
اف !! وہ اُٹھ کر باہر بھاگا
دیکھا تو ثمرہ کچن میں تھی، اُس کا ٹیبلیٹ سامنے کچن کاؤنٹر پر پڑا تھا جس میں سے ترکیب دیکھ کر اُس نے ناشتے کے لئے آلو کے پراٹھے اور لنچ میں کلب سینڈوچ بنائے تھے، مگر اس سب کے لئے اُس کو بہت جلدی اٹھنا پڑا تھا۔۔ 
صمد کو سمجھ نہیں آیا کہ خوش ہو یا شرمندہ۔۔ پھر اُس کے اندر کے شیوونسٹ نے اُسے کہا کہ اُس کی ڈانٹ سے ثمرہ سدھر گئی ہے۔۔
ثمرہ نے اُس سے کوئی بات نہیں کی، اُس نے ناشتہ کیا، کپڑے استری کئے، سب چیزیں جگہ پر واپس رکھیں، اور آفس کے لئے نکل گئی۔۔ 
دو دن تک یہی روٹین رہا، صبح جلدی اُٹھنے کی وجہ سے وہ رات کو تھک کر جلدی سوجاتی تھی، 

اب لنچ اچھا بناؤگی تو منہ بھی بنا کر رکھو گی کیا۔۔؟ صمد نے ایک صبح ثمرہ سے کہا 
تمہیں اچھے لنچ سے مطلب ہے وہ تمہیں مل رہا ہے۔۔ 
ثمرہ تمہیں پتہ ہے ایسا نہیں ہے۔۔
مجھے کچھ نہیں پتہ صمد، مجھے بس وہ پتہ ہے جو تم نے مجھے فیل کروایا ہے، میں یہ سب کرنا چاہتی ہوں ، میں تمہارے لئے تمہارے آرام کے لئے یہ سب کر سکتی ہوں، لیکن میں یہ سب محبت سے کرنا چاہتی ہوں مجبوری سے نہیں، میں جو ہوں جیسی ہوں ویسے رہتے ہوئے بھی یہ سب کر لوں گی، لیکن جس طرح تم نے اُس دن بی ہیو کیا، مجھے بہت انسلٹنگ لگا۔۔ 
وہ اپنی بات کر کے نکل گئی، صمد ایک بار پھر غصے میں تھا۔۔ 

تیسرے دن جب ثمرہ  میکے میں تھی،، امی نے صمد سے پوچھا
’’تم نے ثمرہ کو کچھ بولا ہے؟‘‘ امی چشمے کے پیچھے سے اُس کو گھور رہی تھیں جیسے اُس کا چہرہ پڑھنا چاہتی ہوں
’’نہیں‘‘، صمد نے نظریں چرا لیں
’’جھوٹ مت بولو‘‘ امی نے گھرکا
’’ارے بھئی کیا ہوا‘‘ ابو بھی متوجہ ہوگئے
’’آپ تو اس کو کچھ بولتی نہیں، تو مجھے ہی بولنا پڑے گا‘‘ صمد نے ناراضی سے کہا
’’کیا مطلب؟ کیا بولوں اُسے‘‘ امی نے پوچھا
’’آپ کیسی ساس ہیں؟َ وہ ٹھیک سے کھانا نہیں بناتی اور آپ اُسے کچھ بھی نہیں سمجھاتیں، آپ اُسے کیا دیکھ کر لائی ہیں‘‘ صمد نے ساری بھڑاس نکال دی
’’اوہ! تو تم چاہتے تھے کہ اچھا کھانا پکانے والی بہو لائی جائے،‘‘ 
’’امی بات کو غلط مطلب مت دیں، وہ ان معاملات میں کتنی لاپروا ہے، اس کو گھر مینج کرنا نہیں آتا‘‘ 
’’صمد گھر مینج کرنا اور گھر کے کام کرنا سیکھا جا سکتا ہے، لیکن اگر کوئی بری نیت اور بری فطرت کا ہو تو اچھائی نہیں سیکھ سکتا، ایٹ لیسٹ وہ ایک صاف دل کی لڑکی ہے، اپنی غلطیوں کو سمجھتی ہے، مجھ سے اکثر کئی چیزیں پوچھتی ہے، سیکھنے کی کوشش کرتی ہے، میرے لئے اتنا کافی ہے، میں انسانوں کو اُن کے اسکلز پر جج نہیں کرسکتی مگر افسوس کہ میرا اپنا بیٹا اتنا بے بصیرت ہے‘‘ 
بس شروع عورتوں کی وکالت‘‘ صمد غصے سے اٹھ کر چلا گیا

*****

تھوڑے دن بعد آفس میں اُسے ایک پرانے دوست کی کال ریسیو ہوئی ، اور وہ اُس سے ملنےاُسکے آفس پہنچ گیا
عثمان سے مل کر اور اُس کی فیلڈ کے بارے میں جان کر اُسے بہت مزہ آیا،، باتوں باتوں میں ہی عثمان نے اُسکے سامنے اپنا لنچ باکس کھول لیا۔۔ اور اُس سے ضد کی کہ ساتھ کھا کر جائے
’’نہیں تم کھاؤ، بھابی نے تمہارے لئے دیا ہے۔۔ ‘‘ صمد نے نرمی سے منع کیا
’’ارے نہیں وہ ہمیشہ دو لوگوں کا کھانا دیتی ہے۔۔ ‘‘ یہ کہتے کہتے عثمان وہ عظیم الشان لنچ باکس کھولا
دم کیا قیمہ، لچھے دار پراٹھے ، اچار ، سلاد ، رائتہ اور شاہی ٹکڑے۔۔ 
یہ لنچ باکس ہے یا دعوت؟؟ صمد نے حیرانی سے بولا
’’ہا ہا ہا ۔۔ یار تمہیں تو پتہ ہے کہ میں کھانے کا کتنا شوقین ہوں، امّی نے بہت مشکل سے ڈھونڈا ہے عظمی کو۔۔ بہت زبردست کھانا پکاتی ہے، تم چکھو‘‘ عثمان نے اُس کو کہا
اور چکھنے کے بعد صمد کے دل کی حالت اور خراب ہوگئی، یار ایسی بھی بیویاں ہوتی ہیں۔۔ اتنا زبردست کھانا
واقعی بھابی تو ماسٹر شیف ہیں۔۔ صمد نے کہا اور پھر اُسے ثمرہ کا جملہ یاد آیا ’’ میں نے تم سے کبھی نہیں بولا کہ میں ماسٹر شیف ہوں، صمد کی آہ نکل گئی
بھابی ہاؤس وائف ہیں؟ صمد نے پوچھا
ہممم کہہ سکتے ہو، شادی سے پہلے وہ ایک فیشن ڈزائننگ فرم میں انٹرن تھی، اب وہ گھر سے آن لائن ڈزائنر شاپ چلاتی ہے، اُس کی ایک فرینڈ اُس کی پارٹنر ہے اور ایک رائڈر ہے۔۔ اچھی ارننگ ہو جاتی ہے اور مجھے جو گھر سے باہر نکلنے کا ایشوتھا وہ بھی ختم، دراصل میں کمفرٹیبل نہیں ہوں بیوی  کو اس طرح باہر کام کرنے دینے کے۔۔ عثمان کہہ رہا تھا
صمد کے افسوس میں اضافہ ہورہا تھا
چلو گُڈ، آل پرفیکٹ‘‘ صمد نے بوجھل دل سے کہا
’’نہیں یار آل پرفیکٹ کب ہوتا ہے،، آج کل بہت ٹینس ہوں‘‘ عثمان نے کہا
ارے کیوں کیا ہوا‘ صمد نے پوچھا
’’یار بس امی خوش نہیں ہیں عظمی سے، کہتی ہیں اس کا یہ کام بند کروا دو، اب میں کس منہ سے کام بند کرواؤں جبکہ وہ ہر چیز اتنی اچھی طرح مینج کرتی ہے۔۔ گھر کو، میری بیٹی کو، اپنے کام کو، تم یقین نہیں کرو گے کہ امی کو ہل کر پانی بھی نہیں پینا پڑتا، اُس نے گھر کے معاملات سے اُنہیں بری الذمہ کردیا ہے ۔۔ مگر پچھلے کچھ دن سے امی بہت عجیب بی ہیو کررہی ہیں۔۔پتہ نہیں کیوں، اُن کا بی پی بھی نارمل نہیں آرہا۔۔ عثمان افسوس سے کہہ رہا تھا
افف! اتنی پرفیکٹ بہو سے بھی اتنی شکایتیں اور ایک میری اماں ہیں۔۔ صمد نے دل میں سوچا۔۔ 
’’خیر تم کسی دن لاؤ نا بھابی کو عظمی سے ملوانے ۔۔ عثمان نے موضوع بدلا۔۔ 
’’ہاں ضرور‘‘ ملاقات تمام ہوئی مگر پھر ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا۔۔ صمد دل ہی دل میں عظمی بھابی سے بے حد متاثر ہو چکا تھا، اور اسکے ذہن میں اُن کی ایک شبیہہ بن گئی تھی، ملگجے کپڑوں میں مزیدار لوازمات بناتی ہوئی، بکھرے ہوئے بالوں سے بچی کو سنبھالتے ہوئے، گہرے سیاہ حلقوں والی آنکھوں سے کپڑے ڈیزائن کرتے ہوئے، اُس کی شدید خواہش تھی کہ ثمرہ اُن سے ملے اور اُن سے کچھ گُر سیکھ لے۔۔ اور پھر ایک دن عثمان کی باقاعدہ دعوت موصول ہوئی اور اُس نے فوراً حامی بھر لی۔۔ 
اور وہاں جا کر تو صمد کے لئے سانس لینا اور بھی مشکل ہوگیا۔۔ عظمی اس کی سوچ کے بر عکس انتہائی خوبصورت حلیے میں تھی، اس کا چہرہ بے حد فریش تھا، لگ رہا تھا کہ وہ خود کو بھرپور توجہ دیتی ہے، صمد کو ثمرہ پر مزید غصہ آیا، 
ایک میری بیوی ہے، ناشتہ بنانے کے لئے جلدی اٹھنا پڑے تو سارا دن منہ پر بارا بجتے رہتے ہیں، اُس نے سوچا
اُس کے دل میں عظمی کے بت کے چاروں طرف پکی اینٹوں والا مندر بن گیا۔۔
دعوت پر تکلف تھی، کھانے سے پہلے سوُپ اور چکن لالی پاپس، کھانے میں جس قسم کی بریانی اور کڑھائی سَرو کی گئی تھی اُس فلیور کی یہ دونوں ڈشز صمد نے کہیں اور نہیں  کھائیں تھیں، مگر جو مچھلی اُنہوں نے بنائی تھی اُس کا ذائقہ بہترین ریستورنٹ جیسا تھا۔۔ میٹھے میں رس ملائی اور گلاب جامن دیکھ کر صمد کا منہ کھلا رہ گیا کیونکہ وہ بھی عظمی کے ہاتھ کی بنی تھیں۔۔
وہ سوچ رہا تھا کہ ثمرہ پر اس دعوت کا بہت اچھا پریشر بن گیا ہوگا، کیونکہ وہ تو کسی بھی دعوت کے لئے یہ سب اکیلے نہیں بنا پاتی، اور اگر بنا لیتی تو دعوت ختم ہونے تک خود بے ہوش ہو جاتی۔۔ 
پھر اُس کو اپنی کم مائیگی کا شدید احساس ہوا، کاش کہ ثمرہ بھی عظمی بھابی جیسی ہوتی، اُس نے دل کی گہرائیوں سے دعا کی تھی۔۔
واپسی پر ثمرہ نے اُس کو بتایا کہ
 ’’میں نے بھابی کا اسٹوڈیو دیکھا ، اوپر والی منزل پر ہے ‘‘
’’اچھا‘‘
’’بہت اچھے ڈیزائن ہیں صمد‘‘ 
’’ہمم اُنہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ اچھے ہی ڈیزائن ہوں گے‘‘ صمد نے کہا
’’یار لیکن تمہیں پتہ ہے صمد، کچھ بہت عجیب ہے اُس پورے سیِن میں‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’پتہ نہیں! 
’’کیا پتہ نہیں‘‘
’’مجھے بس کچھ ٹھیک نہیں لگا، آنٹی کا رویہ بہت عجیب تھا اپنی بہو کے ساتھ، اور بھابی کے ری ایکشن بھی۔۔ بھابی مجھے تھوڑی عجیب لگیں جیسے وہ ویسی نہیں ہیں جیسی بن رہی ہیں خیر‘‘
’’جل رہی ہو؟‘‘ صمد کو بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا
’’ کیا مطلب؟ کس چیز سے؟‘‘ ثمرہ نے نا سمجھی سے اُس کی طرف دیکھا
’’اُن کی پرفیکشن سے‘‘ صمد نے استہزئیہ لہجے میں بولا
اور ثمرہ اُسکا طنز سمجھ گئی، اُس کی آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے مگر وہ ضبط کر کے بیٹھ گئی، بحث کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔ 


*****
پھرچند دن بعد عثمان نے صمد کو بتایا کہ وہ کمپنی کے کام کے سلسلے میں ترکی جا رہا ہے، اور اُس کو تین ہفتے لگ جائیں گے۔۔
اُن تین ہفتوں میں وہ وقتاً فوقتاً فیس بک پر اُس کی ترکی میں مختلف مقامات پر تصاویر دیکھتا رہا، مگر تین ہفتوں بعد وہ اُس سے رابطہ کرنا یاد نہ رکھ  سکا۔۔ تقریباً ڈیڑھ مہینے بعد اُس کو اچانک احساس ہوا کہ عثمان نے بھی اُس سے رابطہ نہیں کیا
صمد نے کال کی مگر فون بدستور بند تھا، فیس بک واٹس ایپ وہ کہیں بھی دستیاب نہ تھا، اُس نے ہفتہ اتوار بڑی مشکل سے گزارے، ثمرہ سے بھی ذکر کیا، اُس کو بھ یتشویش ہوئی کہ عثمان ترکی سے خیر و عافیت کے ساتھ پاکستان آگیا ہو، اور پھر پیر کے روز صبح اپنے آفس جانے سے پہلے وہ عثمان کے آفس پہنچ گیا۔۔
وہاں جا کر اُسے پتہ چلا کہ عثمان جب سے ترکی سے واپس آیا ہے اُس نے جوائننگ نہیں دی اور فی الوقت وہ اسپتال میں داخل ہے۔۔صمد اُسکے دفتر سے نکل کر سیدھا اسپتال پہنچا، وارڈ کے باہر ہی عثمان کی امی اپنے بھانجے کے ساتھ کھڑی تھیں، اور وہ اُنہیں سمجاھ رہا تھا
’’خالہ ایسے نہیں کریں، آپ گھر چلیں، روز روز ایسے بیٹھنے کا کیا فائدہ،
 انکی آنکھیں خشک تھیں مگر چہرے پر بے حد کرب تھا
’’اسلام علیکم‘‘ صمد نے قریب جا کر کہا۔
’’صمد بیٹا، تمہیں بھی معلوم ہوگیا‘‘ آنٹی نے کہا
’’ آنٹی میں کب سے رابطے کی کوشش کرہا تھا، مجھے تو معلوم ہی نہیں ہو سکا کہ کیا ہوا، آج پریشان ہو کر آفس گیا تو اُن لوگوں نے بتایا کہ عثمان یہاں ہے‘‘ میں نے بتایا
’’آفس والے؟؟ آفس والوں کو کیا پتہ ہے؟؟ ‘‘ آنٹی کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں، صمد کو بے حد عجیب لگا
’’ اُنہیں تو بس یہ پتہ ہے کہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے عثمان یہاں داخل ہے، کیوں آنٹی کیا ہوا ہے ؟؟ ایسا کیا ہے جو کسی کو نہیں پتہ‘‘ صمد نے بھی ڈر کر پوچھا۔۔
آنٹی کی خشک آنکھوں میں سیلاب آگیا، صمد کا خوف مزید بڑھ گیا تھا۔، کہیں اسکا خوب رو جوان جہان دوست کسی جان لیوا بیماری میں تو نہیں پھنس گیا تھا۔ 
آنٹی نے اُسے کچھ نہیں بتایا، عثمان دواؤں کے اثر کی وجہ سے مستقل نیند میں تھا۔۔ 
صمد کئی دیر وہاں کھڑا رہا۔۔ 
’’آنٹی نماز پڑھنے اُٹھیں تو اس نے عثمان کے کزن کو جا پکڑا، اور وہ لڑکا اپنی کم عقلی کے باعث سب بول گیا
دراصل خالہ کہ جو بہو ہیں نا عظمی بھابی، عثمان بھائی کی وائف۔۔ وہ اپنی شاپ کے رائڈر کے ساتھ بھاگ گئیں، شادی سے پہلے سے افئیر تھا اُن کا۔۔ آنٹی نے ایک دو بار اُنہیں اوپر والی منزل میں رائڈر سے بات چیت کرتے بھی دیکھا تھا، اسی لئے وہ عثمان بھی سے کہتی تھیں کہ ان کا کام بند کروا دو۔۔ بھابی اس کام سے خوب پیسے جمع کررہی تھیں۔۔ اور جیسے ہی عثمان بھائی اتنے ٹائم کے لئے گئے اُنہوں نے سامان سمیٹنا شروع کردیا۔۔ وہ اپنی بیٹی کو بھی چھوڑ گئیں‘اسی لئے عثمان بھائی کو نروس بریک ڈاؤن ہوگیا ہے، ڈاکٹر نے اُنہیں ٹریکولائزر دیا ہوا ہے، کیونکہ ہوش میں آکر وہ پھر سے اعصاب کھونے لگتے ہیں‘‘
سولہ سترہ سال کے لڑکے کے منہ سے دوست کی بیوی کے بارے میں سن کر صمد کے سر پر بم پھوٹنے لگے
صمد کے لئے وہاں کھڑے رہنا مشکل ہوگیا، وہ یہ سوچ سکتا تھا کہ اُس کا دوست کسی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوگیا لیکن یہ بات اُس کے لئے بلکل نا قابلِ برداشت تھی کہ وہ جس کو گھر کی عزت بنا کر رکھتا ہو وہی عورت اُس کی عزت کا جنازہ نکال دے، 
’’میں دوست ہو کر یہ نہیں سہہ پا رہا تو عثمان اور آنٹی کی کیا حالت ہوگی‘‘ اُس نے سوچا
اچانک امی کی آواز اُس کے کانوں میں گونجنے لگی
’’صمد گھر مینج کرنا اور گھر کے کام کرنا سیکھا جا سکتا ہے، لیکن اگر کوئی بری نیت اور بری فطرت کا ہو تو اچھائی نہیں سیکھ سکتا، ایٹ لیسٹ وہ ایک صاف دل کی لڑکی ہے، اپنی غلطیوں کو سمجھتی ہے، مجھ سے اکثر کئی چیزیں پوچھتی ہے، سیکھنے کی کوشش کرتی ہے، میرے لئے اتنا کافی ہے، میں انسانوں کو اُن کے اسکلز پر جج نہیں کرسکتی مگر افسوس کہ میرا اپنا بیٹا اتنا بے بصیرت ہے‘‘ 
اُس کے دل میں شدید چبھن کا احساس ہوا 
اُسے یاد آیا کہ اُس نے کس قدر دل سے اللہ سے کہا تھا کہ ثمرہ بھی عظمی بھابی جیسی ہوجائے
’’اوہ مائے گاڈ، اللہ پلیز۔۔۔ میری بیوی کو ایسا ہی رکھنا پلیز۔۔ میں تو یہ سوچ کر ہی مر جاؤں گا کہ وہ میرے ساتھ ایسا کرے، اف کبھی نہیں‘‘ 
اُس ہی وقت فون بجنے لگا، اُس نے دیکھا تو ثمرہ کی کال تھی۔۔
’’ہیلو‘‘
’’ہاں صمد، کھانا کھا لیا؟‘‘
’’نہیں‘‘ صمد کے گلے میں آنسو پھنس گئے
’’کیوں نہیں کھایا، کتنی بار کہا ہے کہ دوپہر میں وقت پر کھا لیا کرو‘‘ ثمرہ روٹین کی طرح اُس کو کھانا نہ کھانے پر ڈانٹ رہی تھی، اور اُس کو آج احساس ہوا تھا کہ ثمرہ اچھا لنچ نہیں بناسکتی تھی مگر وہ اپنے طور پر اُس کا خیال رکھنے کی پوری کوشش کرتی تھی، وہ روز آفس میں لنچ کرنے سے پہلے اُس سے ضرور پوچھتی تھی کہ صمد نے لنچ کیا یا نہیں۔۔ 
صمد کا ضبط ٹوٹ گیا، وہ رونے لگا
’’صمد؟؟ کیا ہوا تمہیں؟ تم ٹھیک ہو؟‘‘ ثمرہ نے بہت بے چین ہو کر پوچھا تھا
’’ آئی ایم سوری ثمرہ‘‘ صمد نے بمشکل آواز نکالی
’’کس بات کا‘‘ ثمرہ نے حیرت سے پوچھا
’’پلیز مجھے معاف کردینا میں بہت سیلفش ہوں‘‘ صمد نے بچوں کی طرح روتے ہوئے کہا
’’صمد تم نے دوسری شادی تو نہیں کر لی نا؟‘‘ ثمرہ نے بے یقینی سے پوچھا
’’ایڈیٹ‘‘ صمد نے غصے سے کہا 
’’کیا ہوا؟‘‘ ثمرہ نے پوچھا
’’میں دوسری کہاں سے کروں گا‘‘ صمد نے کہا
’’تو پھر یہ کیا کررہے ہو؟ رو کیوں رہے ہو‘‘ ثمرہ نے پوچھا
’’ کچھ نہیں، تم آفس سے کب نکلو گی‘‘ صمد نے آنسو پونچھ کر اپنی سانس بحال کی
’’ابھی تو دو گھنٹے ہیں‘‘ ثمرہ نے بتایا
’’ٹھیک ہے میں آؤں گا تمہیں لینے‘‘ صمد نے کہا
’’خیریت‘‘ ؟
’’ہاں، نئی بیوی کے لئے ولیمے کا جوڑا تمہاری پسند سے لینا ہے، صمد نے کہا 
’’شٹ اپ، ٹائم سے آجانا‘‘ ثمرہ نے ہنستے ہوئے فون بند کردیا۔۔ 
 ثمرہ کی ہنسی سن کرصمد نے ایک نظر آسمان کی طرف دیکھ کر دل میں کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکر الحمداللہ   

Sunday, June 10, 2018

عالمی یومِ بحر ۲۰۱۸


عالمی یومِ بحر ۲۰۱۸ ؁


پلاسٹک سے ہونے والی آلودگی کی روک تھام
اور
سمندر کو صحت مندبنانے کی تجاویزات کی حوصلہ افزائی




خالقِ کائنات نے بھی دنیا کو کس قدر بیش قیمت نعمتوں سے مالا مال کررکھا ہے، حیرت انگیز طور پر ان نعمتوں کا صحیح توازن ہی اس کرّہ ارض کی بقا کا واحد راستہ ہے مگر بنی نوع انسان نے اپنی تمام تر صلاحیات کا استعمال کر کے اس توازن کو حتی الامکان بگاڑے رکھا ہے، بلاشبہ قدرتی وسائل کے معاملے میںیہ لاپرواہ رویہ ایک گھاٹے کاسودا ثابت ہوا ہے اورفی زمانہ ان نعمتوں کا بیان کسی خسارے کی روداد سا بن گیا ہے۔۔ اور میں بھی ایسی ہی ایک روداد ہوں۔
میَں بحرِ ہند کے وسیع و عریض دامن کا ایک حصہ ہوں، جو شمال مغرب کی سمت سے جنم لے کر بھارت، عمان، پاکستان اور یمن کے درمیان بہہ رہا ہے، میَں خلیجِ عمان کوپانی کی پتلی سی گزرگاہ ’’ہرمز‘‘ کی مدد سے خلیجِ فارس سے جوڑنے کا ذریعہ ہوں، یہی نہیں بلکہ جنوب مغربی سمت سے میں خلیجِ عدن کو ریڈ سی سے جا ملاتا ہوں۔۔ جی ہاں۔۔ میں بحیرۂ عرب ہوں!

میری اہمیت و افادیت سے کسی کو انکار نہیں ، خود قرآن مجھے اللہ کی نعمتوں میں شمار کر کے سورۃ النحل کی آیت ۱۴ میرا ذکر اس طرح کرتا ہے کہ
’’اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں۔ اور اس لیے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو تاکہ اس کا شکر کرو‘‘ ۔
اس آیت میں اللہ تعالی سمندر کو ایک فائدہ مند وسیلے کے طور پر پیش کرتا ہے جس سے انسان متعدد فائدے حاصل کر سکتا ہے مگر افسوس کہ انسان نے ان قدرتی وسائل کی قدر نہیں جانی، وہ ان سے فائدے ضرور حاصل کرتا ہے مگربدلے میں ان کا خیال نہیں رکھتا ، اسی لیے مجھ جیسے کئی وسائل بدحالی کاشکار ہیں، اور فائدہ پہنچانے کے بجائے خطرات کا پیش خیمہ بن گئے ہیں۔اور آج میں بات کروں گا ایشیائی ممالک بلخصوص پاکستان میں اپنی موجودگی اور اپنے حالات کی۔ 
پاکستان کی جغرافیائی اہمیت سے کسی کو انکار نہیںیہ بلاشبہ خطے کے اعتبار سے دوسرے کئی ملکوں کے مقابلے ایک امتیازی حیثیت کا حامل ہے، پھر چاہے اس حیثیت میں اضافہ کرنے والی شمال میں موجود بلند و بانگ برف پوش قراقرم کی پہاڑیاں ہوں یا پھرایشیا کا تیسرا بڑا صحرا ئے تھر، وہیں اس کی زرخیز زمین اور پھر میری موجودگی نے اسے متعدد خوبیوں کا مجموعہ بنا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ ہی ایک ممتاز حیثیت کا حامل رہا ہے۔
پاکستان میں میری شناخت اُس ۸۰۰ کلومیٹر لمبی ساحلی پٹی سے ہوتی ہے جوسندھ سے بلوچستان تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس ساحلی پٹی کوصوبۂ سندھ میں کراچی بندرگاہ اورصوبۂ بلوچستان میں گوادر بندرگاہ کی بدولت ملک کی صنعتی ترقی میں خاطرخواہ اضافہ کرنے کاشرف حاصل ہے۔ان بندرگاہوں کی وجہ سے یہ صوبے ملک کے نمایاں تجارتی مراکز ہیں۔میں متعدد مچھلیوں کے ساتھ ساتھ کئی قسم کی وہیل مچھلیوں، کچھوؤں، ڈولفن، سیپیوں والے متعدد جانور، اور کورل ریفز کا بھی گھر ہوں۔ میرے ساحل سے آنے والی ٹھنڈی ہواؤں نے شہر کے موسموں کو بھی باقی شہروں سے منفرد بنائے رکھا ہے، مون سون کے مہینوں میں سمندری ہوائیں بارشوں کا لطف دوبالا کئے دیتی ہیں۔جہاں ایک طرف گرمیوں کے موسم میں چلنے والی سمندری ہوائیں کسی عطیہ خداوند سے کم نہیں،وہیں میرا مزج بگڑنے پر کئی بار شہر کو سمندری طوفانوں جیسے خدشات کا بھی سامنا رہا ہے۔متعدد اہم باتوں کے علاوہ اسی ساحل سے میری بدترین یادبھی وابستہ ہے جب ۲۰۰۳ ؁ میں، مَیں ایک تکلیف دہ سانحے سے دوچار ہوا جس میں سمندری پانی اور حیات کئی عرصے کے لئے سیاہی میں ڈوب گئے ۔
کئی سو سال پہلے جب بھارت اور پاکستان برّصغیر کے نام سے جانے جاتے تھے تب بھی میری ساحلی پٹی نے صوبۂ سندھ کے شہر کراچی کو ایک امتیازی حیثیت دے رکھی تھی،گو اُس وقت کراچی ،کراچی نہیں بلکہ ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سی بندرگاہ، کولاچی تھا اور اسکی آبادی صرف ایک لاکھ ماہی گیروں پرہی مشتمل تھی۔ چونکہ بحیرۂ عرب سمندری حیات کے معاملے میں زرخیز مانا جاتا ہے اس لئے یہ پہلے بھی ماہی گیروں کے ذریعۂ معاش کا اہم مقام سمجھا جاتا تھا اور اب بھی ہے۔میرے وسییع و عؑ ریض د امن میں کولاچی کے ماہی گیروں کے لئے پاپلیٹ، پلّہ، اور سُرمئی مچھلی جیسی لذیذ خوراک کے علاوہ کئی قسم کے جھینگے اورانواع واقسام کے سمندری جانور ہیں جوصرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرونِ ممالک میں بھی لوگوں کی خوراک کے طور پر بے حد مرغوب سمجھے جاتے ہیں، اسی زرخیز سمندری حیات کی بدولت ماہی گیری کا یہ عام سا پیشہ صنعتی سطح تک ترقی کرتا گیا۔
وقت گزرتا گیا اور برٹش راج میں اس چھوٹے سے شہر کی اہمیت مزید بڑھ گئی اب یہ صرف بندرگاہ نہیں بلکہ صنعت و تجارت کے مرکز میں تبدیل ہوتا جا رہا تھااور میرا ساحل ملک میں درآمدات وبرآمدات کا بہترین ذریعہ بنا۔ ۱۸۹۹ ؁ تک کراچی بندرگاہ مشرق میں گندم کی برآمدات کرنے والی سب سے بڑ ی بندرگاہ بن چکی تھی۔
ترقی کے راستے پر ایک بار چل نکلنے کا بعد یہ شہر پھر کہاں رُکا،چند سو ماہی گیروں کی آبادی پر مشتمل یہ شہر اب ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے اور کئی مختلف زبانیں بولنے والے تقریباً۲ کروڑ سے زائد افراد کا گھر بن چکا ہے،جہاں ماہی گیری کی صنعت میں اب لگ بھگ ۸۰ ہزار کے قریب ماہی گیر شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کپڑا،چمڑا، ربڑ،پلاسٹک،ادویات، اور اشیأخوردونوش کی صنعتیں اس شہر کی شناخت کا حصہ ہیں،مگر دن دگنی رات چوگنی ترقی کے اس سفرکو دیکھنے میں سب سے زیاد ہ ظلم بھی مَیں نے ہی سہا ہے! 
شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور وسیع و عریض رقبے پر پھیلی ان صنعتوں نے سمندر کے سکون کو برباد کرکے رکھ دیا۔ سمندری پانی کی تمام خصوصیات کو بدل کر اُسے ایک کثیف چیز میں تبدیل کردیا اور اس پانی میں سانس لینے والی زندگی کے لئے جینا دو بھر کردیا۔سمندر کی ٹھنڈی ہوائیں جو شہریوں کے لئے تازگی اور فرحت کا احساس لاتی تھیں، اب بدبودار تھپیڑوں کی صورت انسانوں کو سمندر سے دور بھگا دیتی ہیں۔ 
یہ عظیم الشان صنعتیں جہاں شہر کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، وہیں یہ مجموعی طور پر ایک بڑی مقدار میں زہریلے مادّوں والا فضلہ پیدا کرنے کی بھی ذمہ دار ہیں ،ایسے مادے ہوا اور زمین کے ساتھ ساتھ پانی کو بھی آلودہ کر دیتے ہیں، کیونکہ یہ صنعتی فضلہ کسی بھی قسم کے حفاظتی عمل سے گزارے بغیر سمندر کے پانی میں شامل کردیا جاتا ہے، جس سے سمندری پانی آلودہ اور سمندری حیات بے حد متاثر ہوتی ہے۔

کراچی شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود شہر میں سیوریج اور سالڈ ویسٹ کے انتظامات بدستور عدم توجہی کا شکار ہیں۔شہر میں ایسی سرکاری کچرا کنڈیاں کم ہی ہیں جہاں پر کچرے کو صحیح طریقے سے ٹھکانے لگایا جا سکے ، اس لئے رہائشی علاقوں کے کچرے کوبھی جلا کر یا بغیر جلائے سمندر ہی کی نذر کردیا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی کی احتسابی کمیٹی کے مطابق روزانہ ۴۷۲ملین گیلن سیوریج میری نذر کردیا جاتا ہے۔ یہ فضلہ کورنگی انڈسٹریل ایریا، نہرِ خیام، کینجھر جھیل، اور ملیر ندی کے راستے مجھ تک پہنچایا جاتا ہے۔
سندھ اینوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر جنرل ، نعیم مغل نے بتایا کہ ’’ کراچی میں کُل دس ہزار مختلف صنعتی مراکز ہیں جو مجموعی طور پر ہر روز ۸۰ ملین گیلن فضلہ پیدا کرتے ہیں، اس فضلے میں متعدد زہریلے مادے اور کیمیکل موجود ہوتے ہیں اور یہ سب براہِ راست سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے ، اس کے علاوہ شہر کے رہائشی علاقوں میں سے ہر روز ۰۰۰،۱۲ ٹن کچرا اکھٹا کیا جاتا ہے لیکن کوئی لینڈفل نہ ہونے کی وجہ سے اُسے بھی سمندر بُرد کردیا جاتا ہے۔ ان رہائشی علاقوں سے آنے والے کچرے کی اکثریت پلاسٹک پر مشتمل ہے جو سمندری حیات کا بدترین دشمن ہے‘‘
پلاسٹک کیا ہے؟ اور یہ مجھ میں پناہ لینے والی حیات کو کس طرح متاثر کرتی ہے؟ یہ حقائق کوئی سمندر سے ہی پوچھے ۔۔ شہریوں کے لئے یہ پلاسٹک روزمرہ استعمال کی جانے والی ایک عام چیز ہے۔مختلف مہنگی دھاتوں سے احتراز کے پیش نظر برتنوں سے لے کر آلات تک اب ہر چیز پلاسٹک میں دستیاب ہے۔ اپنی دستیابی اور پائیداری کی بدولت یہ غیر محسوس طریقے سے زندگیوں کا حصہ بن چکی ہے۔ استعمال کے وقت انتہائی آسان لگنے والی یہ پلاسٹک بعد از استعمال جب کوڑے کرکٹ کا حصہ بن جاتی ہے تو ماحول پر سب سے زیادہ مضر اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ حیاتیاتی فضلے یعنی organic wasteمثلاً پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے اور دیگر باقیات کی طرح زمین یا پانی میں شامل ہو کر اپنی صورت بدل کر ماحول دوست صورت اختیار نہیں کرتی بلکہ کئی سال تک ماحول میں موجود رہ کر اسے نقصان پہنچانے کا ذریعہ بنتی رہتی ہے۔۔

روزمرہ کچرے میں کم ازکم بھی۱۰ فیصد پلاسٹک پائی جاتی ہے، یہ پلاسٹک اپنی بناوٹ میں موجود کیمیائی مادوں کی وجہ سے تنزلی یعنیdegradation کا شکار نہیں ہوتی بلکہ سالہا سال ماحول میں موجود رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ایک عام پلاسٹک کی بوتل ۴۰۰ سال جبکہ مچھلی پکڑنے کے لئے استعمال کئے جانے والا جال ۶۰۰ سال تک سمندر کے پانی میں اپنی صورت برقراررکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بحرِ اوقیانوس میں پچھلے چند سالوں میں کچرے کے ڈھیر سے بنے جزیرے نمودار ہوچکے ہیں۔یہ وہی کچرا ہے جو بنی نوع انسان وقتاً فوقتاً میری نذر کرتی رہتی ہے چاہے وہ صنعتوں سے آئے، رہائشی سے علاقوں سے یا سیرو تفریح کے لئے آنے والے لوگ تحفتاًمیری طرف اچھال جائیں یہ سب جمع ہو کرایسی ہی صورت اختیار کرتا ہے۔ایسے ہی چند حقائق کی بنیاد پر دنیا کے کئی محققین کی رائے ہے کہ ۲۰۵۰ ؁ تک سمندر میں مچھلیاں کم اور پلاسٹک کے زیادہ پائے جانے کا امکان ہے۔ 
سمندری پانی میں پلاسٹک اپنی موجودگی سے ’’بائی سیفنول‘‘ جیسے ماحول دشمن کیمیائی مادے کا اضافہ کرکے اسے کثیف بناتی ہے جسکی وجہ سے سمندری حیات بدستور تباہ حالی کا شکار ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ساحلی علاقے سے ۱۲۹ کلو میٹر تک اب مچھلیوں کا کوئی نام و نشان نہیں، اور ماہی گیر سمندر میں کئی گھنٹوں کی مسافت طے کرکے مچھلیوں اور جھینگوں کو تلاش کرتے ہیں۔خود میرے ساحل کے ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ پہلے میری ساحلی پٹی سے ہی اُنہیں خاطر خواہ مقدار میں مچھلیاں مل جاتی تھیں مگر اب اُنہیں سمندر میں چھ سے سات گھنٹے کا سفر کر کے تسلی بخش مقدار میں مچھلی ملتی ہے۔
مقدار کے ساتھ ساتھ سمندری خوار ک کا معیار بھی پستی کی طرف گامزن ہے،مچھلیاں نہ صرف اپنی ساخت میں کمزور دکھائی دینے لگی ہیں بلکہ ان سے ملنے والی غذائیت بھی متواتر کمی کا شکار ہے۔ پلاسٹک سے پھیلنے والی کثافت مچھلیوں کے جسم کا مستقل حصہ بنتی جا رہی ہے اور ایسی مچھلیوں کو خوراک کے طور پر استعمال کرنے سے انسان کینسر اور کئی دوسرے موذی امراض میں مبتلا ہونے کے خطرات سے دوچار ہے ۔مچھلیوں کے علاوہ دوسرے سمندری جانور بھی اس آلودگی کے سبب اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور اُن کی نسلیں خاتمے کی طرف رواں دواں ہیں، متعدد قسم کے کچھوے پلاسٹک کی تھیلیوں کو جیلی فش سمجھ کر نگلنے کی کوشش کرنے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، سمندری جانوروں کی بقا کے لئے انتہائی اہم کورل ریفز اب پتھر بن چکے ہیں، اور پچھلے کئی سالوں میں ڈولفنز اور وہیل مچھلیوں نے میرے ساحل کے پاس آنا چھوڑ دیا ہے، یہ ساری علامات مجھے اس بات سے خبرادر کرتی ہیں کہ ان جانوروں کی نسلوں کی تباہی سے قدرتی ماحولیاتی نظام بہت جلد اپنا توازن کھو دے گا، اور اگر ایسا ہوا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان انسانوں کو ہی ہوگا۔جس طرح اب سمندر کے کثیف پانی سے مسلسل قریب رہنے والے ماہی گیر بھی اب کئی قسم کی طبی شکایات درج کرواتے نظر آتے ہیں۔ ماہی گیروں میں اس کثافت سے جلد، تنفس، اور معدے کی کئی بیماریوں کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ 
ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتی فضلے کی بدولت مجھ سے معاش تلاش کرنے والے ماہی گیر اب کرومیم ، کیڈمیم اور لیڈ جیسی دھات کے زہریلے اثرات کا شکار ہورہے ہیں۔ ایسے اثرات کا انکشاف انسانوں کے لئے خطرے کی گھنٹی سے کم 



ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کسی سے چھپے نہیں یہ ایک قدرتی عمل ہے مگر انسانی افعال اس سے نمٹنے کو مشکل تر بنانے کے ذمہ دار ہیں۔ ۲۰۱۶ ؁ میں جرمنی کے ’’تھنک ٹینک‘‘ جرمن واچ کی شائع کردہ ایک فہرست میں ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کی نشاندہی کی گئی ، اس فہرست میں پاکستان پہلے پانچویں نمبر پر ہے۔ 
عالمی تپش یعنی global warming کی وجہ سے ساری دنیا ماحولیاتی مسائل سے دوچار ہے، انسان اپنے ماحول سے لاپرواہی برتتے ہوئے ایک ماحول دشمن روّیہ اختیار کئے ہوئے ہیں، جس میں اُسے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے پائیدارئ وسائل کا کوئی خیال نہیں، پھر چاہے وہ زمینی وسائل ہوں یا آبی۔۔ انسان تو جس ہوا میں سانس لیتا ہے اُسکو بھی آلودہ کر چھوڑا ہے، اور خود کو کثافت کے اس دلدل میں پھنسا کر وہ ترقی کی کون سی منازل طے کررہا ہے یہ وہ خود بھی نہیں جانتا،وہ بس ایک دوڑکاحصہ بن گیا ہے، جس کا اختتام شاید اس سیارے کی تباہی پر ہوگا۔ 
عالمی تپش کے پیشِ نظردنیا بھر میں موسم تیزی سے بدل رہا ہے، گرمیاں ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ رہی ہیں،اوزون لئیرکی خستہ حالی کے باعث سورج اپنی تمام تر صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرتے ہوئے برفانی تودوں کو تیزی سے پگھلا رہا ہے ،ان برفانی تودوں کا پانی دنیا بھر کے سمندروں سے جا ملتا ہے۔جس کی وجہ سے پچھلی دہائی میں سمندری سطح میں ۱۰ سینٹی میٹر تک اضافہ ہوا ہے، سمندری سطح کا یہ اضافہ سمندری طوفانوں کی شرح میں زیادتی کا پیش خیمہ ہے، یوں تو بحیرۂ عرب میں ان طوفانوں کی شرح نسبتاًکم ہے اور ان کے ممکنہ رُخ بھارت کے شہر گجرات، پاکستان میں بدین/تھرپارکر، کراچی/ٹھٹھہ، گوادر یا عمان کی ساحلی پٹی کی طرف ہوتا ہے۔ لیکن ان تبدیلیوں کے باعث اب شہرِ کراچی میں موجود میری ساحلی پٹی پران طوفانوں کا خدشہ قدرے بڑھ گیا ہے۔دو کروڑ سے زائد کی آبادی والے شہرکے لئے یہ خطرہ کتنابڑا ہے اس کا اندازہ کرنا بہت آسان ہے مگر اس کے باوجود اسکی روک تھام کے لئے کئے جانے والے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔



المیہ یہ ہے کہ مجھے قدرتی طور پر نتھار دینے والے تمر کے درختوں کو بھی ترقی کی نذر کر کے میرے لئے اپنا بچاؤ مزید مشکل کردیا۔ تمر کے یہ درخت نہ صرف مختلف قسم کی مچھلیوں،کیکڑوں اور جھینگوں کے نورسیدہ انڈوں کو نشونما کے لئے جگہ دیتے ہیں، بلکہ قدرتی طور پر طوفان کے مقابلے میں بھی شہریوں کے محافظ ہیں،تمر کے یہ درخت طوفان کے آنے پر پانی کے تیز بہاؤ کو قابو کرنے میں مدد دیتے ہیں جس کے نتیجے میں طوفان سے ہونے والے نقصانات کا اندیشہ تقریباً ختم ہوجاتا ہے۔ سمندری پانی کی یہ گزرگاہیں پانی کو صاف کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں مگر فی زمانہ مجھے محفوظ رکھنے والے یہ درخت بھی محفوظ نہیں۔

جہازرانی اور بندرگاہوں کی وفاقی وزارت کے سیکریٹری خالد پروز نے ایک اندازے کے مطابق بتایاکہ’ کراچی بندرگاہ کے علاقے سے تقریباً ۲۷۵ ملین گیلن سیوریج کا فضلہ سمندر برد کیا جاتا ہے جبکہ ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی سے سمندر میں بہائے جانے والے سیوریج فضلے کی مقدار ۱۳۶ ملین گیلن ہے۔ایسی صورتِ حال میں کراچی بندرگاہ پر موجود تمر کے یہ قدرتی جنگلات بلاشبہ ایک اثاثے کی حیثیت رکھتے ہیں مگر بندرگاہ پر ہونے والی تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان جنگلات کی نگہداشت ایک مشکل امر ہے ۔



جہازرانی بندرگاہوں پر ہونے والی تجارتی سرگرمیوں کا لازمی حصہ ہے مگر اس سے بھی سمندر کو کئی قسم کی آلودگی کا سامنا ہے۔ایسی صورتحال کے باوجود تجارتی سرگرمیوں کو روکنا یقیناًممکن نہیں مگر اُس کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے اقدامات کرنا لازم ہے۔ جس میں تمر کے درختوں کی شجرکاری اور نگہداشت سرِفہرست ہے۔ تاکہ میری قدرتی صفائی کے عمل کو یقینی بنایا جاسکے اورماحولیاتی تبدیلی کے باعث تجارتی عوامل میں بھی کبھی رکاوٹ نہ آئے۔ 
انسانیت کو بلاشبہ اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے مگر اُسے اشرف باقی تمام مخلوق اور قدرتی وسائل پر غالب آنے کے لئے نہیں بنایا بلکہ اُنہیں اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتے ہوئے آئندہ نسلوں کے استفادے کو بھی یقینی بنانا ہے،وہ اس سیارے کا مالک نہیں ہے بلکہ اس پورے قدرتی نظام کو ان مختلف مخلوق اور وسائل کے ساتھ بانٹ رہا ہے۔اُسے ان وسائل سے کام لیتے ہوئے انہیں تباہ و برباد نہیں کرنا بلکہ انکی قدرتی صورت کو محفوظ رکھنا ہے، تاکہ نسل در نسل نوعِ انسانی ان سے فائدہ لیتی رہے۔
مختلف زمینی اور آبی وسائل کی خستہ حالی سیارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی لئے ان کے تحفظ کی ذمہ داری انسان پر ہی سب سے زیادہ ہے۔ اس تحفظ کے عمل کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ ماحول کی طرف اپنے روّیے کو تبدیل کرلے، اپنے اندر ماحول کے متعلق حسّاسیت پیدا کرے۔۔انفرادی سطح پر کی جانے والی کاوشیں اجتماعی صورت میں کارگر ثابت ہوتی ہیں، جیسے میںَ بوند بوند سے مل کر سمندر بن جاتا ہوں، اور کتنے طریقوں سے نوعِ انسان کی فلاح میں مددگار ہوں۔ 
پلاسٹک کے مصنوعات کو ماحول سے ختم کرنانا ممکن ہے بجز اس کے کہ اس کا استعمال ہی ختم کردیا جائے، ورنہ وہ کسی نہ کسی صورت زمیں پر یا سمندر میں ماحول کا حصہ بن کر ماحول کو نقصان پہنچاتا رہے گا۔
پولیتھین بیگز کے بجائے کپڑے کے تھیلوں کے استعمال کو ترجیح دی جائے۔
سٹائروفوم کے کپ اور پانی پینے کیلئے پلاسٹک کی بوتلوں کے استعمال کی مکمل تردید ہونی چاہیئے ۔
پلاسٹک ریپرز اور پلاسٹک سے بنی دوسری چیزیں جیسے قلم ، تار یا پھر کھلونوں کے ٹوٹ جانے پر کچرے میں پھینکنے کے بجائے ری سائیکل کر کے کسی اور صورت میں استعمال کے قابل بنا لیا جائے، تاکہ وہ کچرے کے ڈھیر کا حصہ بن کر زمین یا پانی کو آلودہ کرنے کاسبب نہ بنیں۔
اور سب سے اہم یہ کہ سیر و تفریح کے غرض سے میرے ساحل پر آنے والے لوگ مجھے آلودہ نہ کرکے جائیں، کوشش کریں کہ اول توایسی کوئی چیز ساتھ نہ لائیں جو بعد از استعمال کچر ے کا حصہ بن جائے اور اگر کچرا جمع ہو بھی جائے تو اُسے ساحل پر نہ پھیلائیں، اپنے پولیتھین بیگز کو میرے کچھوؤں سے دور رکھیں۔ 
حکومتی عہدیداروں سے میری التجاء ہے کہ
حکومتی سطح پر پلاسٹک مصنوعات کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جائیں تا کہ لوگوں کے لئے انفرادی طور پر اس کا متبادل ڈھونڈنا اور استعمال کرنا آسان ہو
رہائشی علاقوں کے کچرے کی چھانٹی اور ری سائکلنگ سے اُسے کار آمد بنایا جائے تاکہ کچرے کی مقدار میں کمی آئے اوراس کو ٹھکانے لگانے کے لئے زمینی اور آبی وسائل کا ضیاع نہ کرنا پڑے 
صنعتوں کو اس بات کا پابند بنایاجائے کہ اپنے فضلے کو حفاظتی اقدامات سے گزارے بغیر مجھ میں نہ ملائیں تاکہ مجھ میں سانس لینے والی زندگی اور مجھ سے معاش تلاش کرنے والے انسان متاثر نہ ہو سکیں۔ 
کئی ترقی یافتہ ممالک کی طرح سیوریج کے پانی کو مختلف پلانٹز کے زریعے ممکنہ حد تک صاف کرکے دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ہونے والی پانی کی قلت جیسے مسائل سے نمٹنے کا انتظام ہو اور ملک کے زرعی شعبے کو کسی نقصان سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ 



کاش بنی آدم میری سر پٹختی لہروں کی آہ و فغاں سن لے، جو اپنے ہر طرزِ عمل سے اُسے یہ باور کروانا چاہتی ہیں کہ اللہ کے حکم کے مطابق مجھ
سے فائدہ لیتے رہو، اور بدلے میں مجھے نقصان نہ پہنچاؤ۔ورنہ ان نقصانات کا بدلہ لینا قدرت بھی جانتی ہے۔ 

Tuesday, March 6, 2018

بیچاری عورت

پتہ نہیں لوگ اتنے خود غرض کیسے ہوتے ہیں کہ اپنی خواہشوں کے پیچھے باقی تمام لوگوں کا سکون داؤ پر لگائے رکھتے ہیں‘‘
’’ہاں بیٹی بس یہی دنیا ہے، ابھی سے قیامت کا سماٴ ہے، سب اپنی اپنی میں لگے ہیں‘‘
اماں اور ثانیہ بظاہر ڈرامے پر تبصرہ کررہے تھے مگر اُن کی آنکھوں کے اشارے اور مخصوص جسمانی زبان یہ جتانے کے لئے کافی تھی کہ دراصل وہ صائمہ پر طنز کررہے ہیں، اور اللہ کے فضل سے چپ رہنے والوں میں سے تو بیگم صائمہ بھی نہیں تھیں، اُنہوں نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے لازمی دینا تھا
آج کل کسی کے پیچھے مرنے کا بھی تو زمانہ نہیں رہا امیّ، یہاں لوگوں کے لئے کچھ بھی کر لو شکایتیں کم نہیں ہوتیں، اس لئے اچھا ہے کہ انسان دوسروں کے حقوق پورے کرنے میں اپنے حق کو نہ مرنے دے
آپ تو حقوق کی بات ایسے کررہی ہیں جیسے ملک میں سب سے زیادہ فرض شناس ہیں‘‘۔ ثانیہ کو شروع ہونے کے لئے جو موقع چاہئے تھا وہ مل گیا تھا۔
سب سے زیادہ نہیں لیکن الحمداللہ کئی لوگوں سے زیادہ، کم از کم اگر کسی کو آسانی نہیں پہنچاتی تو کسی کی اذیت کا سامان بھی نہیں بنتی۔‘‘ صائمہ نے برابر کی ٹکر دی۔
اماں نے میری طرف دیکھا، میں بہروں کی طرح ٹی وی کو دیکھتا رہا، کسی ایک کے حق میں بولنے کا مطلب دوسرے کے سامنے مجرم بننا تھا
ثانیہ نے پھر کوئی جواب دینے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ صائمہ نے کھانا لگ گیا کا نعرہ بلند کر کے منہ بند کروا دیا۔
کھانا خاموشی میں کھایا گیا۔ مگر سب ایک دوسرے کو معنی خیز نظروں سے دیکھتے رہے۔ سب کے دل میں نہ ختم ہونے والے شکوے ہیں
اماں کو لگتا ہے صائمہ گھر کی ذمہ داری مکمل طور سے نہیں اُٹھا پاتی، اُس کی وجہ سے ثانیہ کو تکلیف ہوتی ہے، صائمہ کو لگتا ہے کہ وہ اپنے عزائم پورا کرنے کی تگ و دو  میں گھر کو حتی الامکان توجہ دینے کی کوشش کرتی ہے مگر اُسکی کاوشوں کو ہمیشہ تنقیدی نظروں سے دیکھ کر رد کر دیا جاتا ہے، ثانیہ کو لگتا ہے کہ اُسکو اچھی، ملنسار اور گھریلو بھابی نہ مل سکی جو ہمیشہ اُسکو خود سے برتر سمجھتی اور اُس کے لاڈ اُٹھاتی، اور ان سب کے بیچ میں، مَیں؟ میَں ایک مرد ہوں جس پر یہ الزام ہے کہ  وہ عورت کے دکھ درد اور اُسکی قربانیوں کو سمجھ ہی نہیں سکتا، جس ماں نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہمیں پالا پوسہ اُسکو لگتا ہے کہ بیوی کی خاطر ہم نے اُس کی قدر و منزلت کو فراموش کردیا، جس بیوی کے لئے ہم نے یہ الزام سر لیا ہے اُسکو لگتا ہے کہ ہم ماں کی باتوں میں آکر اُسکی حق تلفی کر جاتے ہیں، اور بچی بہن تو اُس کی اپنی بھاوج سے نفرت اتنی شدید ہوگئی ہے کہ بھائی کی محبت پر حاوی ہے۔ 
گھر میں ہر وقت ایک جنگ ہے کہ کون کس کو بہتر جواب دیتا ہے، ہر وقت ایک منہ زبانی جنگ۔۔۔۔ جس دن صائمہ جیت جائے اُسکا موڈ اچھا رہتا ہے جس دن ثانیہ جیت جائے تو وہ اُڑی اُڑی پھرتی ہے۔

مگر پھر بھی یہ تمام عورتیں بیچاری ہیں۔ ان کے دکھ لاتعداد ہیں جن میں سے اکثر ان کےاپنے بنائے ہوئے ہیں۔۔ مگر کیا کہیے۔۔ 
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                 


تمہیں اسماٴ یاد ہے؟ صائمہ نے مجھ سے پوچھا
کون اسماٴ؟
وہی جس نے لاسٹ ائیر مجھے نکلوانے کا خوب جتن کیا تھا۔۔
اوہ ہاں یاد آگیا، کیا ہوا اُسے
میںَ نے اُس سے اگلا پچھلا سب بدلہ برابر کرلیا آج، امید ہے کہ اب وہ کہیں اور نوکری تلاش کرنا شروع کردے گی۔۔ صائمہ نے خوش ہو کر بتایا
مگر جب اُس نے تفصیل بتانے کے لئے میری طرف دیکھا تو اُسے احساس ہوا کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے
کیا ہوا؟ سنو تو میں  نے کیا کِیا؟
مجھے نہیں سننا۔۔ مجھے ایسی کوئی بات نہیں سننی جس میں تم نے کسی اخلاقی پستی کا مظاہرہ کیا ہو، میرے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ میں اپنے شریک سفر کی عزت کروں کہ وہ ایک اچھ انسان ہے، ایسی باتوں سے تمہاری عزت گھٹتی ہے۔۔ مری آواز خود بخود گھٹ رہی تھی۔۔
تمہیں یاد نہیں ہے کہ اُس نے میرے ساتھ کیا کیا تھا؟ صائمہ نے ناراض ہو کر کہا
سب یاد ہے، اور یہ بھی یاد ہے کہ تمہارا اب تک کا ریکارڈ اتنا شاندار ہے، تمہارے ٹیلنٹ کے لوگ کتنے معترف ہیں اسلئے کوئی سازش تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکی، اور یہ بھی یاد ہے کہ یہ سب محسوس کر کے مجھے کتنا فخر ہوا تھا۔۔
تو کیا میں اُس سے بدلا نہ لیتی۔۔ صائمہ نے توجیہات پیش کی
مجھے لگا تھا کہ تم نے اپنے ٹیلنٹ کے زور پر خود کو منوا کر بہت بہتر بدلہ لے لیا ہے، مجھے نہیں پتہ تھا کہ تمہارے نزدیک اُس اچیومنٹ کی کوئی اہمیت نہ تھی
صائمہ شرمندگی سے خاموش ہوگئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                     


کل دوپہر گھر آیا تو اماں جلی بیٹھی تھیں
کیا ہوگیا اماں سب خیر ہے؟ میں نے حال پوچھا
کیا خیر ہوگی، کتنی بار کہا ہے تم لوگوں کو کہ نانی کو یہاں لے آؤ۔ لیکن تم بے غیرتوں کو کوئی اثر نہیں ہے، کیونکہ وہ آگئیں تو تمہاری بیوی کو آوارہ گردی چھوڑ کر اُنکی خدمت میں لگنا پڑے گا۔۔ اب مرو تم سب فقیر کے فقیر۔۔ 
کیا ہوا ہے اماں؟ 
چھوٹی کو لکھ دیا ہے اماں نے سب، کہتی ہیں اُس نے بیوگی میں اور اُس کی بیٹیوں نے یتیمی میں میری بہت خدمت کی ہے، تو میرے مرنے کے بعد ان کے سر پر چھت تو رہے گی،
اوہ! یہ تو اچھی بات ہے، اور نانو کے پاس اُس چھوٹے سے گھر کے علاوہ اور تھا بھی کیا اُنہیں دینے کے لئے۔۔ میں نے اطمینان سے کہا
ارے لعنت ہو تم پر، تمہاری ماں کا حق مارا گیا اور تم تسلی کررہے ہو، اماں نے غصے میں کہا
اماں اللہ نے تو ہمیں اپنا گھر دیا ہے، وہ لڑکیاں یتیم ہیں۔۔ میں نے سمجھانا چاہا
ابا بھی بیچ میں بول پڑے۔۔ کب سے اسے یہی سمجھا رہا ہوں، کہ خود کو گنہگار نہ کر۔۔ میں یہ گھر لکھ دیتا ہوں تجھے بس چپ ہوجا۔۔
میں نے اور ابا نے ایک دوسرے کو افسوس سے دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                     

آج میں چھت پر چلا گیا، ثانیہ وہاں کسی سے فون پر بات کررہی تھی، میں کافی کا مگ لے کر منڈیر کے پاس کھڑا ہوگیا، اُسکی باتیں جاری رہیں،
مَیں نے تو ہیڈ کو جا کر صاف صاف کہہ دیا ہے کہ علینہ مجھ سے جونئیر ہے اگر اُس نے پرزینٹیشن دی، تو میں میٹنگ میں نہیں بیٹھوں گی، ہونہہ۔۔۔ کہہ رہے تھے کہ ہمیں اُسکو موقع دینا ہے اُس میں پوٹینشل ہے۔۔ میں نے کہا تو یہ پوٹینشل آیا کہاں سے؟ ہونہہ۔۔ دو سال میرے انڈر کام کیا ہے اُس نے، انٹرنی تھی یہ لڑکی۔۔ بڑی آئی پریزنٹیشن دینے۔۔۔ ثانیہ نخوت سے کہہ رہی تھی۔۔ 
کھلی چھت پر بھی گھٹن کا احساس بہت بڑھ گیا۔۔ میں مگ لے کر واپس کمرے میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                     


باباآآ۔۔ یہ دیکھیں۔۔۔ صائمہ تقریباً چیختی ہوئی آئی تھی۔۔ اُس کے ہاتھ میں گلابی لفافہ تھا۔۔ میں سمجھ گیا تھا کہ یہ اُسکی کسی پروفیشنل اچیومنٹ کے بارے میں ہے۔۔ کیونکہ بابا اُسکی تعلیمی اور پروفیشنل قابلیت کے سب سے بڑے قدردان تھے تو اُس نے سب سے پہلے اُن ہی سے شئیر کرنا تھا۔۔
واہ بھئی کیا مل گیا جو آپ کے چہرے پر ایسی خوشی ہے۔۔ بابا نے کہا
یہ دیکھیں۔۔ اس سال خواتین کے عالمی دن پر مجھے ایوارڈ دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سال کی تھیم پریس سے متعلق ہے توہمارے میگزین آفس نے اس تنظیم کو میرا سارا ریکارڈ بھیج کر مجھے نامزد کروایا ہے۔۔ وہ بے حد خوش تھی
ارے واہ، زبردست، بہت خوشی کی بات ہے۔۔ اس ہی بات پر آج تم اپنا اسپیشل میٹھا بنا کر کھلاؤ۔۔ بابا نے خوشی سے کہا جب کہ اماں اور ثانیہ بہروں کی طرح ٹی وی دیکھتے رہے۔۔
صائمہ اُن دونوں کی طرف دیکھا کہ شاید کچھ تعریف و توصیف اُدھر سے بھی ملے۔۔ مگر وہاں ہمیشہ کی طرح مقابلے بازی کے نت نئے طریقوں ہر غور جاری تھا۔۔ 
ضروربناؤں گی۔۔ اُس نے بابا سے کہا۔
مگر ایک بات اور ہے، مجھے وہاں ایک چھوٹی سی تقریر کرنی ہے۔۔ میں کیا بولوں بابا؟ کچھ ایسا بتائیں کہ بس سب کو میری بات یاد رہ جائے۔۔۔ صائمہ نے جوش سے کہا
زبان کے معاملے میں تو آپ ماشااللہ سب سے تیز ہیں بھابی، آپ کو اس کے لئے بابا کی مدد کی کیا ضرورت؟ ثانیہ نے کہا
صائمہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے شاید وہ اپنی خوشی کے موقعے پر ایسے جملے کی توقع نہیں کررہی تھی۔۔۔
بابا نے ثانیہ کو گھورا۔۔ ثانیہ نے رُخ پھیر لیا۔۔۔
صائمہ نے بابا کی خاموشی محسوس کی تو ایک بار پھر کہا۔۔ بابا بتائیں نا؟ کیا بولوں آپ کی برادری کے خلاف۔۔ 
بابا ہنس گئے۔۔ ہماری برادری کے خلاف کیوں۔۔ ؟
بھئی مردوں سے اپنے حقوق کی لڑائی ہی تو لڑ رہی ہیں ہم عورتیں۔۔ وہ دھپ سے کرُسی پر بیٹھ گئی شاید اُسے لگ رہا تھا کہ اب ایک لمبی بحث چھڑ جائے گی۔۔
ہممم۔۔ دیکھو سب سے پہلے تو میں تمہیں کہوں گا کہ جس کی سوچ اچھی ہوتی ہے اُس کی باتیں بھی اچھی ہوجاتی ہیں، اُسکو تقریر کرنے میں مسئلہ پیش نہیں آتا۔۔ اور اچھی سوچ کا مطلب ہے تعصب سے عاری سوچ۔۔ جس میں دوہرا معیار نہ ہو۔۔۔ سب سے پہلے تو یہ سوچنا چھوڑ دو کہ عورت کی حمایت میں بولنے کا مطلب ہے کہ مرد کے خلاف بولنا۔۔ ایسا نہیں ہے۔۔ بابا نے نرمی سے کہا
بابا سب سے بڑے تعصب کی بات توآپ نے خود کہہ دی۔۔ ثانیہ بہت جوش سے پلٹی تھی اور اُس نے ثابت کردیا تھا کہ جہاں مردوں کے خلاف بات ہو عورتیں اپنے سارے اختلاف بھول کر اکھٹی ہوجاتی ہیں۔۔
واقعی؟؟ بابا نے اُس سے پوچھا
جی ہاں بابا۔۔ مردوں کی وجہ سے ہی تو یہ سارے جھگڑے ہیں، یہ بقا کی جنگ ہم کس کے خلاف لڑ رہے ہیں۔۔ ثانیہ نے کہا۔۔
اوہ اچھا اچھا۔۔ یہ مسائل مردوں کے بنائے ہوئے ہیں۔۔ بابا نے معصومیت سے کہا۔۔
اچھا تو شاید میری ہی سوچ الگ ہے۔۔ مجھے ہی اب تک لگتا رہا کہ زیادہ تر وہی مرد عورتوں کی عزت نہیں کرتے جن کی ماں نے اُنہیں اس بارے اچھی تربیت نہیں دی ہوتی۔۔ اوروہ خبریں پڑھ کر تو میری روح کانپ جاتی تھی جب ساسیں جہیز اور اولاد کے جھگڑوں پر بہوؤں کی طلاقیں کروادیتی ہیں۔۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ ساس نندوں کے ساتھ روز مرہ ہونے والی ناچاقی بھی مردوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔۔ اور جب سے خواتیں نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنی قابلیت منوانا شروع کی ہے تو اکثر دفاتر میں بھی وہی ساس نندوں والا ماحول دکھائی دیتا ہے۔۔ کیوں صائمہ بیٹی؟ میں غلط ہوں؟ بابا نے صائمہ کی طرف دیکھا۔۔ صائمہ نظریں جھکا کر بیٹھی رہی۔۔ 
بابا نے پھر ثانیہ کی طرف دیکھا۔۔ تم بتاؤ ثانیہ۔۔ 
ثانیہ حیرانی سے بابا کو دیکھتی رہی کہ وہ کیا کہہ گئے ہیں۔۔۔
ہممم۔۔۔ اب خاموشی جواب ہے۔۔ ٹھیک ہے ۔۔ اس کا مطلب میرے مشاہدات درست تھے اور اب تم لوگوں کو قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔۔ تو صائمہ تم میری طرف سے تقریر میں جا کر یہ کہنا کہ بہنوں! مردوں سے حقوق لینے کی بات رہنے دیں، پہلے آپ عورتیں آپس میں اپنے معاملات درست کرلیں، ایک دوسرے کے لئے دل بڑا کریں، آپ ایک دوسرے کی طاقت بن جائیں تو مرد کون ہوتے ہیں آپ کے حقوق چھیننے والے 
!!!!

Sunday, February 25, 2018

باغی یا بے عقل؟

دورِ حاضر میں معاشرہ جس بے راہ روی کا شکار ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، لبرل اور سیکیولر نظریات کو فروغ دینے کے لئے مختلف عناصرتندہی سے کام کررہے ہیں، جس میں میڈیا سرِ فہرست ہے، کیونکہ یہ اُن چند ذرائع میں سے ایک ہے جو کم وقت میں زیادہ لوگوں تک نہ صرف رسائی رکھتا ہے بلکہ بے حد موثر طریقے سے لوگوں کے ذہنوں کو قابو کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے، جیسے کئی گھنٹے تعفن زدہ ماحول میں کام کرنے کے بعد انسانی حسیات بُو محسوس کرنے کے قابل نہیں رہتیں اسی طرح برے کاموں کی خوبصورت انداز میں بارہا یاد دہانی کے بعد اُن کی برائی بھی برائی معلوم نہیں ہوتی۔ اور اس کام کا بیڑا مارننگ شوز سے لے کر ہر انٹرٹینمنٹ چینل نے اُٹھایا ہوا ہے۔

لیکن اب بات صرف شادی، طلاق اور گلی محلوں کے معاشقوں سے نکل کر خود ساختہ سلیبرٹیز تک پہنچ گئی ہے، کیونکہ یہاں اس سوچ کو عام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی کے افعال کی اچھائی یا برائی کا تعین کرنے والے ہم کوئی نہیں ہوتے یہ تو اُس شخص کی ذاتی رائے ہے کہ وہ کس چیز کو اچھا اور کسے برا خیال کرتا ہے، گویا یہ سوچ دینِ اسلام کے چند اہم ترین اصولوں میں سے ایک کی سراسر نفی ہے جس کے تحت ہر اہلِ ایمان یہ مانتا ہے کہ ہم سب مسلمانوں کو اچھائی اور برائی میں تمیز اور تفریق کرنے والا ہونا چاہیے نیز اللہ سبحانہ و تعالی خود بھی حق اور باطل کو الگ الگ ظاہر کردیتے ہیں، 

قندیل بلوچ نامی خود ساختہ سوشل میڈیا سلیبرٹی کی وجہ شہرت  اُسکی اُوٹ پٹانگ بے باک ویڈیوز تھیں، مگر آہستہ آہستہ الیکٹرانک میڈیا نے اُس کو ایک سنسنی خبر بنانا شروع کردیا، جن ٹاک شوز میں ملک کے اہم مسائل پر بات کر کے لوگوں میں شعور و آگہی کو فروغ دینا چاہئے وہاں میزبان متعدد بار قندیل بلوچ  کو مدعو کر کے اُسکی ویڈیوز پر تبادلہ خیال کرتے رہے، ہر شخص اپنے تئیں اس معاملے ہر رائے رکھتا تھا، کچھ اُس کو گالیاں دیتے تھے، کچھ دوستی کی پیشکش کرتے   رہے، کچھ نے اُس سے ہمدردی ظاہر کی، چند لبرلز نے لوگوں کو 
non judgmental
ہونے کی مشہورِ زمانہ ترغیب دی اور ملک کی ایک بہت بڑی آبادی صرف وقت گزاری کے لئے اُن ویڈیوز سے محظوظ    
ہوتے رہے،
اور پھر ایک دن اس سب تماشے کا اختتام قندیل بلوچ کی موت پر ہوا، 
مگر یہ اختتام قرار نہیں پایا یہاں سے ایک نئی تحریک کا آغاز ہوا جہاں حقوقِ نسواں کی متعدد تنظیموں نے عورت کی آزادی کی حمایت اور غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کی شدید مخالفت کی، بات یہیں تک رہتی تو شاید قابلِ قبول ہوتی کچھ تنظیموں نے تو ہمدردی کی انتہا میں اُسکو شہید کے درجے تک پہنچا دیا۔ اِلاّ ماشاؑاللہ

مگر بات یہاں بھی ختم نہیں ہوئی، کئی سالوں سے جس قندیل بلوچ کا تماشا بنوانے میں جس میڈیا نے اہم کردار ادا کیا، وہی اُسکی موت کو بھی بہت ذہانت سے استعمال کرنے کی ایک ترکیب لے آیا، جس کا نتیجہ حال ہی میں پیش ہونے والا ڈرامہ ’باغی‘ تھا۔ جس نے نہ صرف چینل کی ٹی آر پی میں بیش قیمت اضافہ کیا بلکہ یوٹیوب پر بھی سینکڑوں صارفین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ 

افسوس اس بات کا ہے کہ ایک عبرت لینے والی ایک کہانی کو انتہائی متاثر کن چیز بنا کر پیش کیا گیا، جس کے بعد کوئی بھی لڑکی معاشی حالات، گھریلو مسائل یا محض چند بچکانہ خواہشوں کے حصول کے بہانے اب با آسانی دلائل کے ساتھ ڈٹ سکتی ہے، اور خود کو ’’باغی‘‘ تصور کر کے ایک نئی خود ساختہ سلیبرٹی بن سکتی ہے۔

مزید دل شکن بات یہ ہے کہ لاکھوں فن کاروں ، ہدایت کاروں، تخلیق کاروں اور ادیبوں کے ہوتے ہوئے بھی ہم 
 تخلیق نہیں کر سکتے۔ original content

نیز یہ کہ ماڈل کی زندگی میں پیش آنے والے چھوٹے چھوٹے واقعات کی عکس بندی کے لئے انڈسٹری کے کئی نامور فنکاروں کو ڈرامے میں شامل کیا گیا، جس سے لوگوں کے ذہنوں میں بلاواسطہ یہ خیال پختہ ہوجاتا ہے کہ ملک کے کئی بڑے فنکار اس طریقہ کار کے حامی ہیں

اگلا ہتھیار موسیقی کا ہے جس سے ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی کو نشے کی حد تک عشق ہے، اور یہ ہتھیار یہاں بھی کار گر ثابت ہوا، گلوکار کی درد بھری آواز نے الفاظ میں جان ڈال دی، گانے کے بیشتر بول یہ ظاہر کرتے رہے کہ ماڈل انتہائی تکلیف میں ہے اور اپنے حالات سے مجبور ہو کر وہ بغاوت کرنے کے لئے مجبور ہے،

ڈرامے میں کئی ایک جگہ تکنیکی غلطیاں بھی محسوس کی جاسکتی تھیں، جیسے گاؤں  میں رہنے والی لڑکی فوزیہ جو پورا دن پنجابی بولتی نظر آتی تھی وہ رات کو اپنے بستر پر لیٹ کر جب خود سے بات کرتی تھی تو اُسکی زبان اُردو ہوجاتی تھی،

اسی طرح ماڈل کو جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں کوٹ ادو کی رہائشی بتایا گیا جہاں پر سرائیکی زبان بولی جاتی ہے، جبکہ ڈرامے میں گاؤں کے تمام رہائشی پنجابی بولتے رہے،


ڈرامے میں کئی ایک جگہ کہانی کو مصلحتاً یا ضرورتاً تبدیل کیا گیا جو اخلاقی طور پر کسی بھی سوانح کے لئے ٹھیک نہیں، نیز ماڈل کی زندگی کے کئی غیر اخلاقی پہلوؤں کو ڈھکے چھپے انداز میں اس طرح دکھایا گیا کہ اُن کی برائی ناظر پر واضح نہ ہو سکے۔ 

اب بات کرتے ہیں ڈرامے کی کہانی کی، یا یوں کہہ لیں ماڈل کی زندگی کی، ڈرامے کے آغاز سے ہی کئی منفی اور مثبت چیزوں کو آپس میں اس طرح گڈمڈ کر کے دکھایا گیا جس سے ناظرین پر مرکزی کردار کی ہر بری عادت پر اچھائی کا پردہ پڑ جائے، جیسے کہ لڑائی یا بدتمیزی کر کے کسی کے حق میں بولنا، حالانکہ حق گو ہونے کےلئے منہ پھٹ اور بد تمیز ہونا قطعی ضروری نہیں

بچکانہ اور حقیقت سے دور خواہشوں کی تکمیل کے لئے کسی بھی حد تک چلے جانا، شوبز کو کمائی اور شہرت حاصل کرنے کا آسان طریقہ سمجھنا، کئی قسطوں تک کہانی کا مرکز تھے

پسند کی شادی اور شادی کے بعد کی زندگی کے بارے میں توقعات اور غیر حقیقت پسندانہ روّیہ بھی مادل کی زندگی  کو خراب کرنے کی اہم وجہ دکھائی دیتا رہا، مگر اُسکو دکھانے کے انداز کی بدولت ماڈل کو وہاں بھی ڈھیروں ہمدردیاں موصول ہوتی رہیں

ہر بار طلاق کی وجہ ماڈل کی غصیلی طبیعت اور سینہ تان کر طلاق مانگنا تھا، جس پر وہ بعد ازاں خود کو ملامت بھی کرتی دکھائی گئی

شوبز میں قدم رکھنے کی کوششوں کے دوران بھی اُسکو جگہ جگہ اپنی بچکانہ اورشدید رد عمل کی وجہ سے نقصان اُٹھانا پڑا

اور ایک مرتبہ اس گندگی میں پیر رکھنے کے بعد وہ دیکھتے ہی دیکھتے اس دلدل میں دھنستی رہی،
محفوظ چار دیواری میں مرد کے آگے عزت کے لئے آواز اّٹھانے والی لڑکی  دنیا بھر کے سامنے ذلت اُٹھاتی رہی،
پھر اپنی ساری زندگی کی ذلت کے بدلے وہ اپنے خاندان کی بھلائی کے لئے کوشاں رہی مگر وہاں بھی اُسے مایوسی کا سامنا ہوا کیونکہ حرام رزق پر پلنے والے جسم اور ذہن وہی کچھ کر سکتے ہیں جو ماڈل کے خاندان نے کیا۔

ڈرامے کے اختتام پر یہ دکھانا چاہا کہ ماڈل ذلت و رسوائی کی یہ زندگی چھوڑ کر دوبارہ کسی چار دیواری میں جانا چاپتی تھی مگر دنیا نے اُسے اس کا موقع نہ دیا، اور خود ہی منصف بن کر اُس کو ختم کردیا۔۔ یہاں ہر شخص کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ وجہ چاہے کچھ بھی ہو، زندگی ہر کسی کو تصحیح کا موقعہ نہیں دیتی اس لئے ہمیں حتی ال امکان اللہ سے ڈرنا چاہئے اور خود کو سیدھے راستے کی طرف گھسیٹنا چاہیے۔ 

اس تمام کہانی میں واضح کرنے کی باتیں یہ تھیں کہ تعلیم تربیت اور شعور کی کمی کی وجہ سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں کتنی ہی عورتیں نہ صرف ذلت کی زندگی گزارتی ہیں بلکہ اسی ذلت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں 

ساتھ ہی یہ کہ ہر وہ لڑکی جو اپنی کامیابی اور اپنے مستقبل کے لئے خواب دیکھتی ہے وہ یہ جان لے کہ دنیا وہ نہیں ہے جو رنگین میگزین اور ٹی وی ڈراموں میں نظر آتی ہے یہاں ہر کوئی اپنے طے شدہ راستوں کی بنیاد پر خود اپنے لئے جنت اور دوزخ کا انتخاب کرتا ہے۔

پھر بھی ہماری اللہ سے دعا ہے کہ وہ ظالموں سے بدلہ لے، اور مرحومہ کی مغفرت فرما کر اُس کے درجات بلند کردے۔ آمین


Friday, February 9, 2018

سنڈریلا - After the Shoe-Fit

میَں سنڈریلا ہوں۔۔ اور میں کسی تعارف کی محتاج نہیں، دنیا کے ہر کونے میں بسنے والی لڑکی نے میری کہانی سُنی اور کبھی نہ کبھی کسی لمحے میں اس کہانی کو جینے کی تمّنا ضرور کی ہے، لیکن یہ کہانی اور اس کے کئی ایسے حقائق ہیں جو کسی نے نہیں سُنے کیونکہ یہ کہانی ہمیشہ راوی نے آپ تک پہنچائی ہے، اور اپنی زندگی کی کہانی دوسرے کے نظریے سے دیکھی جائے تو بہت مختلف محسوس ہوتی ہے! 
میں صرف ’’ایلا‘‘ تھی لیکن میری کہانی اور شہزادے کی لازوال محبت نے مجھے سنڈریلا کے نام سے مشہور کردیا، یہ نام بھی شہزادے کی محبت کی طرح لازوال رہا، لیکن یہ میرا نام نہیں ہے، میں ایلا ہوں چاہے دنیا مجھے کچھ بھی کہے، نئے نام اور نئی زندگی کے یہ حسین تخیل دل دماغ میں رنگ ضرور بھر دیتے ہیں مگر جب ان لمحوں کو جینا پڑتا ہے تو ہم خود سے سوال کرتے ہیں کہ کیا  اس نئی زندگی کے لئے ہم نے خود کو چھوڑ دیا؟
میں سارے شہر میں اپنی رحمدلی کی وجہ سے مشہور تھی، ایسی معصوم رحمدلی جو ہر اک کے لئے یکساں تھی، اُس میں کوئی تفریق نہ تھی، میری زندگی سادہ تھی اور میں اُس میں خوش تھی۔۔ ہاں یہ بات ضرور تھی کہ ہر ایک کی طرح میری زندگی بھی پرفیکٹ نہ تھی۔۔ میرے آس پاس موجود لوگوں نے میری محبت کی قدر نہ کی، اور مجھے خاندانی اعتبار سے معیاری زندگی نہ ملی، مگر اس میں میرا قصور نہیں تھا، سو میں نے اس پر افسوس نہ کیا، اور خود پر محنت کرتی رہی۔۔ میں اپنی زندگی میں خوش تھی، بطخوں کو کھانا کھلا کر، مرغیوں کے پیچھے بھاگ کر، اور فارغ اوقات میں ڈبل روٹیاں بیک کر کے میرے دن رات اچھے گزر جاتے تھے، اس دن رات میں بظاہر کوئی کمی نہ تھی سوائے محبت بھرے رشتوں کے، جن کے بغیر میں نے جینا سیکھ ہی لیا تھا۔۔
 پھر اچانک ایک نئے ایڈونچر نے میرے جسم میں برق سی دوڑادی،
 شہر میں کتنا بڑا اہتمام ہورہا تھا، رنگ و نور کی بارش سے بھیگا شاہی محل ساری عوام کے لئے کھولا جا رہا تھا، میں بھی چاہتی تھی کہ اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر زندگی میں ایک بار شاہی محل دیکھ لوں لیکن یہ اتنا آسان نہ تھا، اس کے لئے خدا نے ایک روحانی ماں بھیج کر میری زندگی کو ایک جادوئی موڑ دیا، اور میں شاہی محل تک پہنچا دی گئی، وہاں پہنچ کر احساس ہوا کہ خداوند نے مجھے شاہی محل کے لئے نہیں بلکہ شہزادہ تھامس کے لئے وہاں بھیجا تھا۔۔
 شہزادے کے حسنِ نظر نے مصنوعی مسکراہٹوں اور منافق نیتوں والے چہروں کے بیچ میں میرے چہرے کو پسند کیا، اُس نے چند لمحوں میں ایک طویل سفر کر کے  اس بات کا فیصلہ کیا کہ میں الگ ہوں، اور یہ انفرادیت اتنی خاص ہے کہ وہ اپنے اور میرے بیچ حائل کئی تفریقات کے خلاف کھڑا ہو کر بھی مجھے اپنا لے گا، میں وہاں سے نکل گئی، مگر وہ میرا کانچ کا جوتا لئے مجھے ڈھونڈتا رہا۔۔ 
اُس کی محبت میرے لئے کسی نعمت سے کم نہ تھی، کیونکہ میری زندگی میں یہ واحد کمی تھی، اور ایسی کمی جس کو میں نے کبھی پورا کرنے کی کوشش نہ کی، بلکہ خود ہمیشہ دوسروں کی زندگی میں اس کمی کو پورا کرتی رہی۔ 
شہزادے کے لئے مجھ سے پیار کرنا کیوں آسان ہوا میں کبھی نہیں سمجھ سکی۔۔
شاید اس لئے کہ وہ مرد ہے اور مرد کے لئے سب آسان ہے، وہ محبت کر کے بھی ہر چیز پر قابض رہنا جانتا ہے، وہ محبت کرتا ہے مگر خود کو نہیں لُٹاتا۔۔ 
اب تک آپ سب نے جو کہانی سُنی ہے وہ جوتا فِٹ آنے پر ختم ہوجاتی ہے، جبکہ میری اصلی کہانی اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔۔

محبت کرنا بلاشبہ ایک حسین ترین احساس ہے اور یہ اپنی خالص حالت میں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے، مگر اس کا اگلا مرحلہ اس احساس کو نبھانے کا ہے۔۔ ہم سب انسانوں کی پہلی محبت ہم ’خود‘ ہوتے ہیں،  مگر کبھی کبھی کسی سے محبت کر کے ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم خود سے محبت کرنے کے قابل نہیں رہے، 
شہزادے سے شادی کا دن آگیا تھا، اور اُس دن مجھے ادراک ہوا کہ عورت کے لئے اپنا گھر اور اپنے لوگ چھوڑنا اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا جتنا خود اپنے آپ کو چھوڑنا ہوتا ہے، میں ایلا سے شہزادی سنڈریلا تھامس بن رہی تھی، مگر مجھے سنڈریلا نامی  نئی زندگی کی خوشی کے ساتھ ساتھ معصوم ایلا کی موت کا بہت افسوس تھا۔۔
سارے شہر کی لڑکیاں شہزادہ تھامس سے شادی کرنے اور شاہی محل میں رہنے کی خواہش مند تھیں، مگر یہ تاج میرے سرَ پہنایا گیا، اُس وقت کئی آنکھیں مجھ پر رشک اور حَسد سے اُٹھتی رہیں، مگر کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ اِس تاج کے وزن نے  میرے سِر اور گردن تمام عمر جھکائے رکھنی ہے، شاہی محل میں قدم رکھتے ہی مجھے احساس ہوا کہ باہر سے اس محل کی دیواریں جتنی شاندار ہیں اندر رہنے والوں کے دل اُتنے ہی تنگ ہیں، شاہی محل کے لئے میں ایک غیر ضروری اضافہ تھی جس کے ہونے یا نہ ہونے سے شاہی زندگیوں پر کوئی اثر نہ پڑتا،  میری کم مائیگی کا احساس مزید بڑھ گیا۔۔  میں  مس فٹ تھی، شاید میں شاہی زندگی کے قابل نہ تھی، میں ایک آزاد روح تھی، ایک ایسا سورج جس کی حدت اور روشنی سب کے لئے تھی، شاہی محل نے اس سورج کو طاقچے میں بند کر کے اس کی رونق محفوط کرنی چاہی، اس کی تقدیس کو بڑھانا چاہا کیونکہ اگر شاہی خاندان کی بہو بطخوں کے پیچھے بھاگے اور ڈبل روٹی بیک کرے تو شاہی خاندان کی عزت گھٹتی ہے،
شہزادہ چاہتا تھا میں اُسکی مشکور رہوں کہ وہ مجھے اس زندگی میں لایا تھا، وہ خوش تھا، اُس کی زندگی مکمل تھی۔۔ کیونکہ اُس نے میرے لئے شاہی محل نہیں چھوڑا تھا، میں نے اُس کے لئے اپنی سادہ زندگی چھوڑی تھی، اُس نے اپنے روزمرہ کے شاہی معمولات نہیں چھوڑے تھے، اُس کی زندگی میں وہ سب تھا جو میرے آنے سے پہلے بھی ہوتا تھا، اور میں اُن سب میں ایک اضافہ تھی، مگر میری زندگی سے وہ سب چلا گیا تھا جو میرا تھا، اور میرے پاس اب صرف شہزادہ تھا۔۔  
میرے بارے میں ہر وہ چیز جو میرے لئے باعثِ خوشی تھی وہ مجھ سے ختم ہوتی جا رہی تھی، میرے دن رات، میرے الفاظ یہاں تک کہ میری سوچ بھی میری اپنی نہ رہی تھی، کچھ اپنا تھا تو صرف شہزادے کی محبت جو قلعے میں بند شہزادی کے جسم سے ساری سوئیاں نکال دیتی تھی۔۔ حقائق کا یہ بیان اس لئے تھا تا کہ ہر وہ لڑکی جو بچپن سے اب تک میری کہانی سے فینٹاسائز ہو کر سنڈریلا بننے کے خواب دیکھتی آئی ہے، وہ یہ جان لے کہ ’فیری ٹیل‘ تو وہیں ختم ہوگئی تھی جہاں وہ جوتا مجھے فِٹ آیا تھا، مگر زندگی وہاں ختم نہیں ہوتی، 

Best Blogs

Reflective Journal ربوبیت کا

انسان  کے  لئے  دنیا  میں  جو  چیز سب  سے  زیادہ  اہم  ہے  وہ  ہے  ’’تعلق‘‘ خواہ  وہ  خونی  رشتے  ہوں،  معاشرتی  تعلقات،  یا  ارد  گرد  کے  ...