Friday, July 21, 2017

شاپنگ مالز بحیثیتِ تفریحی مقامات

موسم گرما کی طویل تعطیلات جہاں آغاز میں ایک لمبے آرام و سکون کی نوید لے کر آتی ہیں، وہیں گزرتے گزرتے اِن کا گزارنا مشکل ہوجاتا ہے اور آرام کر کر کے انسان اوب جاتا ہے۔ اسی لئے یہ تعطیلات اکثر متعدد پکنکوں اور تفریحی مقامات پر سیر و تفریح کی نذر ہوجایا کرتی ہیں۔ گو کہ بچپن گزرے کافی وقت نہیں ہوا اسلئے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے بچپن میں یہ تعطیلات کیسی ہوتی تھیں، امیّ تو صبح مرغے کی بانگ کے ساتھ اُٹھ جانے کی عادی رہی ہیں اور ایک بار وہ اُٹھ جائیں تو کسی کو سونے نہیں دیتیں تھیں، سو تعطیلات میں بھی ہم اکثر سویرے ہی اُٹھ جایا کرتے۔۔ مشترکہ خاندانی نظام کے کئی فائدوں میں سے ایک یہ بھی فائدہ تھا کہ گھر کے باہر جا کر کھیلنے کے لئے دوست نہیں بنانے پڑتے تھے، گھر کے صحن میں ہی سہولت سے سارا دن دھما چوکڑی مچائی جا سکتی تھی، پھر اسی اہتمام سے دن کے باقی کام ہوتے تھے جیسے آم کھانا، کھانے پر فرمائیشیں کرنا، اور ہوم ورک کرتے ہوئے ڈانٹ کھانا وغیرہ وغیرہ جب پھوپھی کے بچے اپنے گھر لوٹتے تو ہم بھی نانی کے گھر کو رختِ سفر باندھتے، نانی کے گھر کے مزے ہی اور ہوا کرتے ہیں، ویسے تو وہاں ہونا خود ہی ایک سیر و تفریح ہے پھر بھی ماموں اکثر یا تو قریبی پارکوں میں گھُما لاتے یا کبھی زیادہ موڈ میں ہوں تو ہم کسی بڑے تفریحی پارک بھی گھوم آتے۔۔ اسی طرح ایسی کئی تعطیلات میں ہم نے سمندر کی بھی خوب سیر کی ہے۔
 الغرض کوئی دس پندرہ سال پہلے بچوں کی تفریحات یہی تھیں اور اس کے لئے وہ بڑوں کی شمولیت کے بھی محتاج تھے۔ ایسی ہی طویل چھٹیاں اس سال بھی آئیں جیسی پچھلے چند سالوں سے آتی ہین جس میں نہ کوئی نانی کے گھر جا پاتا ہے، اور نہ کوئی پھوپھی کے بچے ہمارے یہاں آ پاتے ہیں، ٹیکنالوجی نے لوگوں کو ذہنی طور پر یہ باور کروادیا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں اتنے قریب کہ دنیا کے کسی کونے میں بیٹھے جب چاہیں ایک دوسرے تک مکمل رسائی حاصل کرسکتے ہیں، اور اسی جھوٹے احساس نے قرب اور فاصلوں کی معنویت کو مسخ کردیا ہے، ایسے حالات میں وہ دس سال پہلے والی ملاقاتوں اور باتوں کا تو سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے، مگر جس چیز میں ایک عجیب سا بدلاؤ آیا ہے وہ ہے ’’تفریحی مقامات‘‘ کراچی شہر کا بے ہنگم  ٹریفک تو ویسے ہی انسان کو باہر نکلتے ہوئے ہراساں کردیتا ہے اوپر سے شہر کے حالات اور خود کراچی والوں نے اپنے اعمال کی شامت سے اپنی زندگیاں مشکل بنا دی ہیں، پارکوں کو اب محفوظ نہیں چھوڑا کہ کوئی شخص کھُلی ہوا میں سکون کا سانس ہی لے لے، سمندر کو گٹر بنا دیا ہے، یعنی تفریح کی نیت سے باہر نکلنے والا شخص اچھا خاصا ذہنی دباؤ لے کر گھر لوٹے۔۔
جی تجربہ  کچھ ایسا ہی عجیب تھا جب میَں نے ایک دن کسی جگہ گھوم آنے کا سوچا، اور ہر ممکن طریقے سے اس سوچ کو پوار کرنے کی تگ و دو کی۔۔ لیکن تمام لوگوں کی مشترکہ رائے ایک نئے شاپنگ مال جانے کی تھی جبکہ جہاں تک میری معلومات تھی خریدنا تو ہمیں کچھ نہیں تھا! خیر وہاں جا کر معلوم ہوا کہ خریدنے تو یہاں کوئی نہیں آتا سو ہم بھی اعتماد سے ادھر ادھر گھومتے رہے اور اے سی کی ہوا کھاتے رہے۔ 




                                             


تشویش تب ہوئی جب بصیرت وہ دکھانے لگی جو وہاں موجود اور گھر بیٹھے لوگ جو ان شاپنگ مالز کو تفریحی مقام سمجھتے ہیں وہ نہیں دیکھ پاتے۔ ایشیا کے سب سے بڑے مال میں  جہاں ایک کونے سے دوسرے کونے تک مہنگے برانڈ کی دکانیں ہیں مگر خریدنے والے دور دور تک نہیں! ہوں بھی کیسے جب کراچی کی اسّی فیصد آبادی کی قوتِ خرید ہی اتنی نہیں، جہاں غریب لوگ عیدوں پر بھی نئے کپڑے نہیں بنا پاتے وہ عید کے دن تیار ہو کر ایسے ہی کسی مال میں پہنچ جاتے ہیں اور دس دس ہزار کے مہنگے جوڑے دیکھ کر حسرت کرتے ہیں، سیلفیاں بناتے ہیں اور واپسی میں سوئیٹ کارنز کھا کر آجاتے ہیں بعد ازاں فیسبک پر ایک اسٹیٹس لگایا جاتا ہے کہ فیلنگ یہ فیلنگ وہ۔۔  
بچپن میں برکاتِ حیدری مارکیٹ  سے ملحق ایک مسجد کی دیوار پر حدیث  پڑھی تھی کہ
 بستی کے بدترین مقامات اُن کے بازار ہیں

تب یہ بات سمجھ نہیں آئی تھی، اُس وقت یہ سوچا تھا کہ شاید بازار میں اکثر لوگ فضول خرچی کرجاتے ہیں تو اسی لئے یہ بد ترین مقام ہوتے ہونگے، مگر اب ان شاپنگ مالز میں دعوتِ نظارا بن کر آنے والی بچیوں کو دیکھ کر اُس حدیث کا ہر لفظ ہتھوڑے کی طرح سر پر لگتا ہے۔
یہ ایک برائی کتنی برائیوں کو جنم دے رہی ہے، ہماری نسلیں کس بے اراہ روی کی طرف گامزن ہیں، دکھاوا اور نمود و نمائش جیسی مہلک بیماری ان کی زندگیوں کا لازمی حصہ بن گئی ہے، آنکھوں سے حیا مکمل جاتی جا رہی ہے۔ 
تہذیب، ثقافت اور مذہبی ضابطوں کی بات تو بہت بعد کی ہے، ہم تو اپنی بنیادی سماجی اقدار کو بھی پیچھے چھوڑ آئے ہیں، یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ان اقدار کو پیچھے چھوڑنے سے ہم آگے نہیں بڑھتے بلکہ پاتال میں پہنچ جاتے ہیں۔۔ اور پاتال میں پچھتاوں کا ایک گہرا اندھیرا ہے۔ 
ایک بزرگ یہ واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ اُن کے پاس ایک نوجوان یہ مسئلہ لے کر آیا کہ روزانہ اُس کے راستے میں بازار پڑتا ہے اور وہ بد نظری سے نہیں بچ پاتا، بزرگ نے اُسکو دودھ سے بھرا ایک گلاس دیا اور کہا کہ تم  بازار سے گزرو تو اس بات کا دھیان رکھنا کہ دودھ نہ چھلکے، نوجوان دونوں ہاتھوں میں دودھ تھامے رہا اور نظر دودھ سے ہٹنے نہ دی، ایک قطرہ بھی چھلک نہ پایا۔ سرشاری کی سی کیفیت میں بزرگ کے پاس پہنچا بزرگ نے کہا آج خود سے بد نظری کی شکایت تو نہ ہوئی، نوجوان نے کہا میرا دھیان دودھ سے ہٹ ہی نہ سکا جو کسی اور طرف جاتا۔ بزرگ نے کہا کہ اگر تم روزانہ بازار سے گزرتے وقت آخرت پر اور اللہ کے سامنے جواب دہ ہونے پر ایسے ہی دھیان رکھو تو بھی نظر اُٹھ نہ پائے گی۔۔

یہ بات تو طے ہے کہ ہم نے اللہ کے حضور اپنی جواب دہی کو یکسر فراموش کردیا
 ہے۔ اور اس کے نتائج ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں بھگتنے پڑ رہے ہیں، رشتے ہوں یا رزق برکت اٹھتی جا رہی ہے۔ ہمارے بچے اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کا استعمال غیر نافع چیزوں کے لئے کرتے نظر آتے ہیں، سوچوں میں ایک عجیب انتشار کی سی کیفیت رہتی ہے۔۔
لیکن ہم سکون کی تلاش میں پھر اُنہی چیزوں کا رُخ کرتے ہیں کو فطرت سے بلکل اُلٹ ہیں
شاپنگ مالز جیسی رنگین جگہوں کو تفریحی مقامات بنانے کے بجائے انسان کا تعلق قدرت، قدرتی مناظر اور ان سب کے پیدا کرنے والے سے جوڑنا چاہیے، اس ضمن میں ماں باپ اور اہلِ خانہ کی ذمہ داری بہت زیادہ بنتی ہے کہ وہ چھوٹوں کو تفریح کے لئے مثبت مواقع فراہم کریں اور اُنہیں ایسی چیزوں سے متاثر نہ ہونے دیں۔ مگر اس سب کے لئے پہلے ماں باپ خود اپنی سوچ کا احتساب کریں کہ کہیں وہ بھی ایسی ہی وقتی اور سستی تفریح کے لئے طویل مدتی نقصان اُٹھانے کے حامی تو نہیں

اللہ  ہم  سب  کو  ہمارے  نیک  مقاصد  میں  کامیاب  کرے  اور  ہمیں  معاشرے  کی  فلاح  کے  لئے  فعال  کردار  ادا  کرنے کی  توفیق  دے۔ 
  آمین  

Saturday, April 1, 2017

الإجابة من طرف القرآن الكريم

جائے  نماز  پر  بیٹھا  لڑکا  عجیب  شش و پنج  کا  شکار  تھا،  اُسکی  زندگی  حاصل  اور  لا حاصل  کا  ایک  عجیب سا  امتزاج  تھی، دیکھو  تو  نعمتوں کا  ایک  انبار تھا  جس  کی  وجہ  سے  ایک  دنیا  اُسکی  گرویدہ  تھی۔۔ سوچو  تو  محرومیوں  کا  ایک  نا  ختم  ہونے  والا  اندھیرا  تھا۔۔ جس  سے  لڑتے  لڑتے  اُس  نے  اب  تک  کا  سفر  طے کیا  تھا  اور  ہمیشہ  کوشش  کی  تھی  کہ  اپنے  اندر  کے  اندھیرے  کو  دوسروں کی  زندگی  میں  روشنیاں  بھر  کر  ختم  کرنا ہے۔۔

وہ  رونا  چاہ  رہا  تھا  مگر  رو  نہیں پا  رہا  تھا اور  جب  رونا  نہیں  چاہتا  تھا  تو  آنسو  اُبلنے  لگتے  ۔۔ یقین  اور  بے  یقینی  کے  درمیان  دل  ڈانواڈول  ہورہا  تھا۔۔ ایمان  کا  تقاضا  تھا  کہ  راضی  بہ  رضا  رہا  جاتا۔۔ اور  فطرت  میں  اس  قدر  اِرتعاش  کہ  فیصلہ  کے  انتظار  کی  کوئی  گنجائش  نہ  تھی۔۔
مگر  وہ  اللہ  سے  سوال  کررہا  تھا  اُن  تمام  الجھنوں  کا  جن  میں  وہ  پھنسایا  گیا  تھا، ایسے  سوال  جن  میں شکوہ نہیں  تھا۔۔ آزردگی اور  افسوس  تھا،  خوف  تھا  کہ  کہیں  وہ  غلطی  پر  تو  نہیں۔۔
خوف  تھا  کہ  اگر  اُس  کا  سر  جھکا  تو  حق  کا  سر  جھک  جائے  گا۔۔ وہ  اُس  کے  قرآن  پڑھنے  کا وقت  نہ  تھا مگر  اُس کا  جواب  تو  اللہ  نے  قران  میں  پہلے  ہی  لکھ  دیا  تھا تو  وہ  آنسو  روکنے  اور  ٹپکانے  کی  سعی کرتا  ہوا  قرآن  اُٹھا  لایا  اور  ایک  سورۃ  میں  اُسکو  سارے  ہی  جواب  اللہ  نے  دے  دئے  تھے

حق  کے  لئے  آواز  اُٹھانا  قطعی  مشکل  نہیں،  مشکل  اُن  حالات  کا  سامنا  ہے  جو  اُس  آواز  کے  گونجنے  سے  انسان  سے  آ  ٹکراتے  ہیں۔۔ لیکن  انسان  اللہ  کے  بھروسے  وہ  بھی  کر  گزرتا  ہے۔۔ اُس  نے  بھی  یہی  کیا  تھا۔۔  اپنے  آس  پاس  کے  لوگوں  کے  لئے،  وہ  تو  اِس  جھگڑے  میں  کہیں  تھا  ہی  نہیں۔۔ مگر اُسے  اس  ہی  بات کی  سزا  دی  گئی۔۔ کیونکہ  اسکا  یقین  تھا  کہ  دنیا  کی  زندگی  محض  دھوکہ  ہے  اور ہم  یہاں  آسائش  کے  لئے  نہیں  آزمائش  کے  لئے  بھیجے  گئے  ہیں اور  ہو  سکتا  ہے  کہ  اللہ  اس  سے  یہیں  آزما  رہا  ہو،  وہ  اللہ اور رسول اللہ  ﷺ  کی  بتائی  ہوئی  باتوں کو صرف  لوگوں  پر  رعب  جھاڑنے  کے  لئے  نہیں  کرتا تھا۔۔ اُنہیں  دل  سے  مانتا  تھا۔۔ اسلئے  وہ  نڈر  تھا
 ڈرنا  تو اُنہیں  چاہیے  جو  لوگوں  کے  سامنے اللہ  کا  نام  لیتے ہیں  مگر  لوگوں  کے  خوف  اور  وقتی  فوائد  کے  لئے  دنیاوی فرعونوں  کے  مقرب  بنے  رہتے  ہیں،
قرآن  کے ورق اُس  کے  آنسوؤں  سے  بھیگتے  رہے اور  اُسکا  دل  قرآنِ  مبین  کی  روشنی  سے  پُر  ہوتا  گیا۔۔

لوگوں  کے  مکر  اور  جھوٹی  دوستی نے  مجھے  کس  قدر  نقصان  پہنچایا

اللہ سبحانہ  و  تعالیٰ نے سورۃ  فاطر  میں  فرمایا 
اﷲ انسانوں کے لئے (اپنے خزانۂ) رحمت سے جو کچھ کھول دے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے، اور جو روک لے تو اس کے بعد کوئی اسے چھوڑنے والا نہیں، اور وہی غالب ہے بڑی حکمت والا ہے  آیت  نمبر دو


  لوگوں  کے  مجموعے  کو  کوئی  بھی  عام  سماجی معاشی  یا  ذاتی  صورتحال  بتائی  جائے  تو  وہ  فوراً  آپکو  بتا  دیں  گے  کہ  یہ  کہاں  تک  حق  ہے  اور  اس  میں  کس  قدر  حق  تلفی  ہے۔۔ مگر  جب اُس  حق  تلفی  کی  خلاف ورزی  کرنے  کے  لئے  اکھٹا  ہونے  کا  وقت  آئے  تو  ہر کوئی  مجبوریاں  بیان  کرنے  لگتا  ہے۔۔ کوئی  ضرورتوں  کا  رونا  روئے  گا۔ کوئی  اپنے  تعلقات  کی  دہائیاں  دے  گا۔۔ 
اللہ  کی  وحدانیت  کی  چیخ  چیخ  کر دہائیاں دینے  والے  لوگوں  کو یہ  یاد  کیوں  نہیں آتا  کہ  رازق  اللہ  ہے،  اُس  سے  ڈرنا  انسان  کی  سب  سے  بڑی  ضرورت  اور  مجبوری  ہے  اور  یہی تعلق  باقی  تمام  تعلقات  پر  بھاری  ہے۔۔ اور  دنیا  میں  ملنے  والے  تمام  فائدے  اور  نقصانات  کس  قدر  عارضی  ہیں

اے لوگو! بیشک اﷲ کا وعدہ سچا ہے سو دنیا کی زندگی تمہیں ہرگز فریب نہ دے دے، اور نہ وہ دغا باز شیطان تمہیں اﷲ (کے نام) سے دھوکہ دے۔ سورۃ فاطر  آیت  نمبر ۵

لیکن  انسان  اپنے  ہر  غلط عمل  کا  ایک جواز  رکھتا  ہے  کیونکہ  اُسکی  نظر  میں  اُس ہی  کا  عمل  صحیح  ہے،  لیکن انسان  یہ  کیسے  بھول  جاتا  ہے  کہ  وہ  خدا  کو  دھوکہ  نہیں  دے  سکتا 

 سو بیشک اﷲ جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے، سو (اے جانِ جہاں!) ان پر حسرت اور فرطِ غم میں آپ کی جان نہ جاتی رہے، بیشک وہ جو کچھ سرانجام دیتے ہیں اﷲ اسے خوب جاننے والا ہے ۔  آیت  نمبر ۸

وہ  اللہ  سے  اپنے  تقدس  کا  سوال  کررہا  تھا  اور  فریب کاروں  کی  چالوں  سے  پریشان  تھا

جو شخص عزت چاہتا ہے تو اﷲ ہی کے لئے ساری عزت ہے، پاکیزہ کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور وہی نیک عمل(کے مدارج) کو بلند فرماتا ہے، اور جو لوگ بری چالوں میں لگے رہتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر و فریب نیست و نابود ہو جائے گا،  آیت  نمبر  ۱۰

وہ  حیران  تھا  کہ  زبان  زدِ  عام  ایک  محاورے  کی  طرح  کہیں  وہ  بھی  تو  کسی  کا  کیا  نہیں بھگت  رہا،  کہیں  یہ  اُس  سے  پہلے  والوں  کے  گناہ  تو  نہیں  جو  اُس  پر  آپڑے  ہوں؟

اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بارِ (گناہ) نہ اٹھا سکے گا، اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا (دوسرے کو) اپنا بوجھ بٹانے کے لئے بلائے گا تو اس سے کچھ بھی بوجھ نہ اٹھایا جا سکے گا خواہ قریبی رشتہ دار ہی ہو، (اے حبیب!) آپ ان ہی لوگوں کو ڈر سناتے ہیں جو اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کوئی پاکیزگی حاصل کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے پاک ہوتا ہے، اور اﷲ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے،  آیت  نمبر  ۱۸

پھر  وہ  کیوں  اُن  لوگوں  سے  کٹ  گیا  تھا  جن  کی  بھلائی  کے  لئے  اور  حق  تلفیوں  کے  لئے اُس  نے  آواز  اُٹھائی  تھی،  اُسکو  کنارے  کیوں  لگیا  گیا،  وہ  اُن  میں  سے  ایک  کیوں  نہ  تھا؟

اور اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے،    آیت  نمبر ۱۹

پھر  لوگ  کیوں  نہیں  سمجھتے  کیسے  بہک  جاتے  ہیں؟

ان میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے درمیان میں رہنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے اﷲ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والے بھی ہیں، یہی (آگے نکل کر کامل ہو جانا ہی) بڑا فضل ہے،  آیت نمبر  ۳۲

کون  جانتا  ہے  کہ  میَں  نے  اپنے  کام  سے  اور  اپنے  ہر  عمل  سے  کس  قدر  دیانت  کا  مظاہرہ  کیا  تھا،  ہر  عدالت میں،  مَیں  ہی  غلط  گردانا  جاؤں  گا۔۔ اُس  نے  دکھ  سے  سوچا

بیشک اﷲ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جاننے والا ہے، یقیناً وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں سے خوب واقف ہے،  آیت  نمبر  ۳۸

کیا  لوگ  یہ  سمجھتے  ہیں  کہ  وہ  لوگوں  کا  حق  مار  کر بھی  ہمیشہ  اقتدار پر  قائم  رہ  سکیں  گے،  اور  اُنکو  کوئی  طاقت اُنکی  جگہ  سے ہلا  نہیں  سکتی؟

کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں ہیں کہ دیکھ لیتے کہ اُن لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو اِن سے پہلے تھے حالانکہ وہ اِن سے کہیں زیادہ زورآور تھے  آیت  نمبر  ۴۴

تو  اللہ  حساب  کیوں  نہیں  کرتا  فیصلہ  کیوں  نہیں  سُنا  دیتا۔۔ وہ  کیوں  چھوڑے  رکھتا  ہے  ایسے  لوگوں  جو  دوسروں  کو  کلفت  اُٹھانے  پر  مجبور  کرتے  ہیں؟

وہ انہیں مقررہ مدّت تک مہلت دے رہا ہے۔ پھر جب ان کا مقررہ وقت آجائے گا تو بیشک اﷲ اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے،  آیت  نمبر  ۵۴  

اور  یہ  اللہ  سے  اُسکی  آخری  جرح  تھی،  اللہ  کا  وعدا بے  شک سچا  ہے  تو  پورا  ہوگا۔۔ اللہ  اُنہیں اپنی  منشاؑ  اور  اُنکے  فیصلے  کی  گھڑی  تک  کی  مہلت  دیتا  ہے،  جب اللہ  چاہے  گا  حق  اور  باطل  کا  فیصلہ  کردے  گا۔۔ 

کیونکہ  سورۃ  سبا  میں  بھی  اللہ  تعالی  کا  ارشاد  ہے  کہ
اے  محمد ﷺ فرما دیجئے: ہم سب کو ہمارا رب جمع فرمائے گا پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا، اور وہ خوب فیصلہ فرمانے والا خوب جاننے والا ہے،  آیت  نمبر  ۲۶


Saturday, March 11, 2017

عصرِ حاضر کے ابلیس

دینِ  اسلام  کی  تاریخ  کے  تین  اہم  واقعات  جو  انسانی  کردار  کی  تعمیر کے 
 لئے  اپنے  اندر  بہت  بڑی  مثالیں  رکھتے  ہیں  وہ  بلترتیب 
۔1 ابلیس  کا  تکبر  تھا،  جس  نے  اُسے  جنّت  سے  نکلوایا  تھا۔۔ حیرت  کی  بات  یہ  ہے  کہ  ابلیس  اس  واقعے  سے  پہلے  جن  ہونے  کے  باوجود  فرشتوں  کا  سردار  تھا،  کیونکہ  اُسکی  عبادت  اللہ  کے  حضور  مقبول  تھی  مگر  صرف  احساسِ  برتری  کے  زعم  نے  اُسکو  حکم  عدولی  کا  مرتکب  کیا۔۔
ایسے  ابلیس  ہمارے  درمیان  بھی  ہر  جگہ  موجود  ہوتے  ہیں،  جو  دین  کا  لبادہ  صرف  اسلئے  اوڑھتے  ہیں  کہ  لوگوں  پر  اپنے  اچھے  اعمال  کی  دھاک  بٹھا  سکیں۔۔  ہم  انسانوں  کے  بارے  میں  رائے  قائم  کرنے  میں  اتنی  جلدی  کردیتے  ہیں کہ  جب  انسان  گرگٹ  جیسے  رنگ  دکھاتا  ہے  تو  ہم  دنگ  رہ  جاتے  ہیں  کہ  ایک  چہرے  کے  آگے  کتنے  نقاب  ہیں،  حیرت  ہوتی  ہے  کہ  ایسے  لوگ  اپنے  منہ  سے  اللہ  کا  نام  کیسے  لے  لیتے  ہیں۔۔
ہمارے  محلے  میں  ایک  صاحب  سرکاری  افسر  تھے، اُنکے  بارے  میں مشہور  تھا  کہ دنیا  کا  کوئی  ایسا  عیب  نہیں  جو  اِس  شخص  میں  نہ  ہو،  اور  کوئی  ایسی  بری  عادت  نہیں جو  انکو  نہ  ہو۔۔ شراب  سے  لے  کر  غریبوں  اور  مظلوموں  کو  طیش  میں آکر  پیٹ  دینے  تک  محلے  والے  اُنکے  تمام  عیوب  کے  گواہ  تھے، مگر  سب  اُن  سے  اچھی  علیک  سلیک  رکھنے  پر مجبور  تھے  کیونکہ  وہ  بالآخر ایک  اثر  و  رسوخ رکھتے تھے ۔۔ ایک  دن  محلے  کی  ایک  خاتون نے  بتایا  کہ  اُن صاحب  نے میرے  شوہر  کا  کام  نکلوانے  سے  منع  کردیا  کہا  کہ  میں اوپر  کی  کمائی  لے  کر ہاتھ  گندے  نہیں  کرتا۔۔ خاتون  بڑی  ناراضگی  کا  اظہار  کرتے  ہوئے  بولیں  کہ ’’ پارسا  تو  ایسے  بن  رہے  ہیں  جیسے  ہم  انکی  اصلیت  نہیں جانتے‘‘  اُس  وقت  تک  باقی  محلے داروں  نے بھی  یہی  خیال  کیا  کہ  یقیناً  اُن  میں یہ  برائی  بھی  لازمی  ہوگی۔۔ پھر  کچھ  دنوں  بعد  محلے  کی  ایک  تقریب  میں  لوگوں  نے دیکھا  کہ  کھانا  ختم  کر  کے  جہاں  باقی  لوگ  غیبتیں اور  عیب  جوئی  میں  مشغول  تھے۔۔  وہیں  وہ  صاحب  اللہ کا  شکر  ادا  کررہے  تھے۔۔ ایک  سیکنڈ  کے  ہزارویں  حصے  میں  میرے  ذہن  میں  یہ  خیال  آیا۔۔ کہ  شاید اللہ  اِنکو  اس  عمل  کی  وجہ  سے  بخش  دے  گا  اور  ہم  سب  پکڑے  جائیں گے۔۔
 اللہ  تبارک و  تعالی  نے  حضرت  موسیٰ  سے  کہا  تھا  کہ  خود  سے  کمتر  کوئی  تلاش  کر  لاؤ۔۔ اور  سارا  دن  تگ  و  دو  کرنے  کا  بعد بھی حضرت  خالی  ہاتھ  لوٹے  اور  فرمایا  کہ  یا اللہ  میں  نے  خود  سے کمتر  کسی  کو  نہ  پایا۔۔ اللہ سبحانہ  وتعالی  نے  ارشاد کیا  کہ  اگر تم  بکری  کا  بچہ  بھی  لے  آتے  تو  پیغمبری  منصب  کے اہل  نہ رہتے ۔۔ اللہ  تو  جانتا  ہی  تھا  کہ  اُسکے  مبعوث  کئے ہوئے  نبی  معمولی  سے  معمولی  اخلاقی  کمزوری  بھی  نہیں رکھتے۔۔ مگر اس  واقعے  کے  باعث  رہتی  دنیا  تک  کہ انسانوں  کے  لئے  ایک  سیکھ  بھیج  دی  کہ  کبھی  خود  کو  برتر  و  بہتر  نہ سمجھو  کیونکہ  یہ  ابلیسیت ہے۔۔  

۔2 حضرت  آدم  علیہ سلام  کی  جنت  سے  رخصتی۔۔ اس واقعے  سے  ہمیں  یہ  سبق  ملتا   ہے  کہ  اللہ  کی  برگزیدہ  ہستیاں  بھی  انسان  ہونے  کی  حیثیت  سے  غلطیوں  کا  ارتکاب  کرسکتی  ہیں  اور  اللہ  اُنہیں  بھی ان  غلطیوں  کے  لئے   خاص  طریقوں  سے  گنجائش  دیتا  ہے۔۔ بے  شک  مکمل  اور بے  عیب  صرف  اللہ  کی  ذات  ہے۔۔ اور  انسان کی غلطیاں  اور  اُن  غلطیوں  پر  ندامت  ہی  اُسے  انسان بنائے  رکھتی  ہے۔۔ یہ  احساس  کہ  غلطی  کبھی  ہماری  ہو  ہی  نہیں  سکتی  ہمیں  صرف  پھاڑ  ماس  کے  ابلیس  بناتی  ہے ۔۔ 
 انبیاؑ  اکرام جیسی  ہستیوں  نے  بھی  اللہ  کے  حضور  اپنی  غلطیوں کا  اعتراف  کیا اور  یہی  اعتراف  انسانیت  کی  معراج  ہے۔۔
 یہ اعتراف  دراصل  اِس  بات  کی  نشاندہی  ہے  کہ  انسان  اپنے  اعمال  کے  معاملے  میں  اللہ  سے  ڈرتا  ہے نہ  کہ  اس  بات  سے  کہ  لوگ  اِن غلطیوں  کے  بعد  اُسے  کس  طرح  سے  دیکھیں  گے۔۔ لوگوں  کا  خوف  رکھنے  والے انسان  ایک  برائی  کو  دوسری  برائی  سے  چھپاتے  چلے  جاتے ہیں  کیونکہ  اس  سے  اُنکی  جھوٹی انا  کو  تسکین  ملتی  ہے۔۔ اور  یہی  عمل  دہراتے  دہراتے  وہ  اللہ  کی  رحمت  سے  دور  اور  اخلاقی  پستی  کے  دلدل  میں  دھنستے  چلے  جاتے  ہیں۔۔ اور پھر  خود  کو  غلط  نہ  ماننا  انسان  کو  اُس  ہی ابلیسیت  تک لے  جاتا  ہے۔۔ 
دینِ  اسلام  کی  عظیم  ہستیوں نے  جن  میں  سے  چند  کو  اللہ  تبارک  و  تعالی  نے دنیا  ہی  میں جنت  کی  بشارت  دے  دی تھی۔۔ اپنی زندگیاں  اللہ  کے  خوف  میں  رو  رو  کر  اور  حقوق اللہ اور  حقوق العباد  کو پورا  کرتے  ہوئے  گزاری  ہیں۔۔۔ تو  ہم صرف دن  میں  پانچ  بار  زمیں  پر  سر  مار کر  کس  زعم  میں مبتلا  ہیں۔؟  
چہروں  پر  نقاب ڈال  کر  سمجھتے ہیں کہ  ہمیں  پرہیزگاری  کا  سرٹیفکیٹ  مل  گیا۔۔ مگر  جب  منہ  کھولتے  ہیں  تو فرعونیت  بھی  شرمندہ  ہوجاتی  ہے۔ 
لوگوں کو لتاڑ  لتاڑ  کر  دین  سکھاتے  ہیں  مگر  خود  عالم  بے  عمل کی  زندہ  تصویر  ہیں
۔3 تیسرا  اہم  واقعہ  بھی  ہم  پچھلے  دو  واقعات کی طرح  ہمیشہ  سے  سنتے  آئے  ہیں  مگر  اُس کے  معنی  اخذ  کرنے  میں  اکژ لوگ  چُوک  جاتے  ہیں۔۔
 انسانیت کا  پہلا  قتل  جو  ایک  بھائی  نے  اپنے  بھائی  کا  کیا۔۔۔ ہابیل  کے قتل  کا  بہانہ  شاید ایک عورت  رہی  ہو مگر  اسکے  پیچھے  جو  جذبہ  کار  فرما  تھا  وہ  حسد  اور  رقابت کا  تھا۔۔  اللہ  کے  حضور  ہابیل  کی  قربانی  کا  قبولیت۔۔ اور  قابیل  کی  بددیانتی  کی  نشاندہی نے  قابیل  کو  اللہ  کی  قدرت  اور  اُسکی  لازوال  بادشاہت  کا  اقرار  کرنے  کے  بجائے اپنے سے  زیادہ  بہتر  اور  دیانت  دار  شخص  کا  دشمن  بنا  دیا۔۔ پس  تب سے  اب  تک  دنیا  میں  یہ  رواج  قائم  رہا  ہے  کہ  اگر  آپ  کسی  کی  طرح نہیں بن  سکتے  یا  اللہ نے  آپکو  اُس سے  مختلف  چیزوں میں  بہتر  بنایا  ہے  تو  آپ  اُس  سے  نفرت کرلیں۔۔ اور  جب  موقع  ملے  اُسکی  گردن  اُڑا  دیں۔۔ اور  یہ  ابلیسیت کی  معراج   ہے جسے لوگ عصرِ حاضر میں  اپنی عقلمندی  اور کامیابی  گردانتے  ہیں 

دینِ  اسلام  کی  تاریخ  صرف  دینِ  اسلام  کی  نہیں  بلکہ  بلا مبالغہ  تمام  انسانیت  کی  تاریخ  ہے،  اور  انسان  کی  تخلیق  سے  لے  کر  اب تک  انسان  کے  سامنے  آنے والے  تمام ممکنہ چیلنجز  کے  لئے  ایک  استاد  کی  حیثیت  رکھتی  ہے اور اُسکے  کردار  کی  تعمیر  کے  لئے   بھی  یہ  ایک  بہترین  رہنما  ہے۔  مگر  اس  رہنمائی  اور  اس  استاد  سے  مستفید ہونے  کے  لئے  خود  انسان  کا  ایمان  مضبوط  ہونا  چاہیئے  کیونکہ  ایمان  ہی  وہ  روشنی  ہے  جو  انسان کا  اندر  شفاف  رکھ  سکتی  ہے،  بغیر  ایمان  کے  انسان  کچھ  نہیں۔ 
 دنیا میں  بڑھتی  ہوئی  برائیاں  اور  نفسا  نفسی کا  یہ  عالم  ہے  کہ انسان  کو  اپنے  مفاد کے  علاوہ  کچھ  نہیں  سوجھتا۔۔ وہ  زمانہ  بھی  آ  ہی  پہنچا  ہے  کہ  اولاد  والدین  سے  اور  والدین  اولاد  سے  مخلص  نہیں۔۔  اِسکی  دو  وجوہات  جو  میں  نے  اپنے  تجربے  اور  عقل  سے  اخذ کی  ہیں  وہ  یہ  کہ
۔1  ہم  انسانوں  میں  اللہ  کا  خوف  ختم  ہوتا  جا  رہا  ہے۔۔ ہم  منہ  زبانی  تو  اللہ  اللہ  کرتے  ہیں  مگر  جب  عمل  پر  بات  آتی  ہے  تو  ہم  دنیاوی  مفاد  کو  ترجیح  دیتے  ہیں۔ انسانوں  کا  بد ترین  طبقہ  وہ  ہے  جو  دنیاوی  مفادات  کو  دین کے  چغے  میں  لپیٹ  کر پیش  کرتا  ہے۔
۔2  دوسری  وجہ  پہلی  وجہ  کا  ہی  نتیجہ  ہے،  ہم  یہ  بھول  جاتے  ہیں  کہ  ہمیں  واپس  اللہ  کے  حضور  جانا  ہے  جہاں  حقوق  اللہ  اور حقوق  العباد  کی  جواب  دہی  کرنی  ہوگی
نتیجتاً  یہ کیفیات  اُنہیں  غیر محسوس  طریقے  سے  بد اخلاق  بنا  دیتی  ہے
رسول اللہﷺ  نے  فرمایا : کیا  میں  تمہیں  جہنمی لوگوں  کے  بارے  میں  نہ   بتاؤں؟  ہر  سخت  مزاج ، بد اخلاق  اور  تکبر کرنے والا ،  جہنمی  ہے۔


ملک  اور  قوم  اور  دیگر  چھوٹے  بڑے  اداروں میں  رذیل  لوگوں  کی  حکمرانی  اور  شرفاٴ  کا  استحصال،  دین  کے  نام  پر  دنیا  کا  کمایا  جانا،  خائن  کو  امانتدار  اور  امانتدار  کو  خائن  سمجھا  جانا،  قیامت  کی  بہتّر  بڑی  نشانیوں  میں  سے  چند ہیں۔۔
قیامت  قریب  ہے،  اور  یہ  جیسے  جیسے  قریب  آتی  رہے  گی۔۔ ابلیسیت  کا  دور  دورہ  ہوگا  اور ہر  وہ  شخص  جو  خیر  کا  کام  کرے  گا  اور حق  بات  بولے  گا  وہ  رگڑے  میں آتا  رہے  گا۔۔  اللہ  ہمیں  ان  فتنوں  اور  ایسے  منافقین  کے شر  سے  محفوظ  رکھے۔۔
اللہ  ہم  سب  کو  ہمارے  نیک  مقاصد  میں  کامیاب  کرے  اور  ہمیں  معاشرے  کی  فلاح  کے  لئے  فعال  کردار  ادا  کرنے کی  توفیق  دے۔ 
  آمین 

Thursday, February 23, 2017

پرائیوٹ اسکول مافیا ۔ منافع خوری اور ملک کا مستقبل

ایسا مکتب بھی کوئی شہر میں کھولے ناصر

 جہاں آدمی کو _________ انسان بنایا جائے


پاکستان  جیسے ترقی  پذیر  ممالک  میں جہاں  دیگر  شعبہٴ  ہائے  زندگی  بدحالی  کی  نذر  ہیں  وہیں  ہمارا  شعبہٴ  تعلیم  بھی  بدستور  پاتال  کی  جانب  رواں دواں  ہے۔  پاکستان  کے  آئین  کی  شق  نمبر  ۲۵ ۔ اے  کے  مطابق  حکومت  پر  یہ  ذمہ داری عائد  ہے  کہ  وہ  ۳  سے  ۱۶  سال  کی  عمر  کے  بچوں  کو  مفت  تعلیم  کی  سہولت مہیا  کرے،  مگر  ملک  کے  سرکاری  اسکول  دھوبی  گھاٹ  کا منظر  پیش  کرتے  ہیں اور  سرکاری  اساتذہ  گھر  بیٹھ کر  صحیح  معنوں  میں  ملک  کی  جڑیں کھود  رہے  ہیں۔ ۲۰۱۶  میں  کئے  جانے  والے اعداد  و  شمار کے  مطابق ملک  کی شرح  خواندگی  ۶۰ فیصد  ہے،  مگر  قابلِ  غور  بات  یہ  ہے کہ  اِس  خواندگی  کو  جانچنے  کا  معیار  کیا  ہے؟  بتایا  جاتا  ہے کہ  پاکستان  میں  ہر  وہ  شخص  جو  اُردو  میں  اپنا  نام  لکھ  سکتا  ہو  اُسکو  خواندہ  یعنی پڑھے  لکھے  افراد میں شامل  کرلیا  جاتا  ہے۔ 

ہماری  قوم  کا  المیہ  یہ  بھی  ہے  کہ  ہم  نے  تعلیم  اور  شعور  کو ایک  دوسرے  سے  اتنا  الگ  کر دیا  ہے  کہ  علم  کے  میدان  میں  اسکے  حصول  کا  کوئی  طریقہ  نظر  نہیں آتا۔۔ کتابوں  میں  دئیے  گئے  تمام  اسباق  بلاشبہ  اپنے  اندر  ایسا  بہت  کچھ  لئے  ہوئے  ہیں  جو  طالبِ علموں  کو  معاشرے کے  لئے  فعال  بنا سکے  مگر  جس  طرح وہ سبق  طالبِ علموں  تک  پہنچایا  جاتا  ہے  اُس کے  نتیجے  میں  ایسے  ہی  غیر  ذمہ دار  اور  فکر  سے عاری  ذہن  تشکیل  دئیے  جا  سکتے  ہیں  جیسے ہمارے  ملک  میں  نظر  آتے  ہیں۔ 

اب  اِن  سرکاری  اسکول  اور  اِنکے  مسائل  کو  برطرف  کریں  کیونکہ  ہمارے  معاشرے  میں  تو  ویسے  بھی لوگ اپنے  شہری  حقوق  جاننے میں  ذرا  دلچسپی  نہیں  رکھتے۔
بات  کرتے  ہیں  ہر  گلی،  محلے  اور  نکّڑ  پر  کھلے  ’’پرائیوٹ  اسکولز‘‘  کی  جہاں  تعلیم  کے  نام  پر  نئی  نسل  کو  تباہی  کے  دہانوں  تک  پہنچانے  کا  مکمل  انتظام  ہے،  منافع  خور  کاروباری  شخصیات  کے  لئے  سرمایہ  لگانے  کے  لئے  موزوں  ترین  جگہ  اسکول  ہے۔ جہاں  وہ  اساتذہ  پونی  قیمت  میں  رکھے  جاتے  ہیں  جو  خود  تعلیمی  میدان  میں  ناکام  ہوں  اور  جنہیں  تربیت  کی  خود  اشد  ضرورت  ہو،  اور اُن  پر  ایک  انگلش  اُگلتا  ہوا  پرنسپل  بٹھا  دیا  جاتا  ہے،  بازار میں  ملنے  والی  سستی رنگین  کتابیں  یہ  دیکھے  بغیر  ہی  نصاب  میں  شامل  کردی  جاتی  ہیں  کہ  اُن  میں  لکھا  مواد  لفظ  تعلیم  سے  دور  دور  تک  کوئی  تعلق  رکھتا بھی  ہے  یا  نہیں۔ اور  پھر  اگر ماں  باپ  کی  بدنصیبی  سے اسکول  میں  پچاس  بچوں  کا  بھی  داخلہ  ہوجائے  تو  سمجھیں  دکان  چمک  گئی۔۔ ابھی  یہی  بین  کرتے  کرتے  سینہ  پیٹ  رہے  تھے  کہ  ’’مارکیٹ‘‘ میں  اسکول  کے  نام  پر  ایک  نئی  اسطلاح  متعارف  ہوئی  جو  ’’اسلامک  اسکول‘‘  ہے۔  ان  اسکولز  کی  خاص  بات  یہ  ہے  کہ  اسلام  صرف  اِن  کے  ناموں  میں  ہی  نظر  آتا ہے،  اور  دوکان  چمکانے  کے  لئے  یہ  بھی  ایک  حربہ  ہے،  اخلاقیات  سے  عاری   معاشرے  سے  ڈرے  ہوئے  ماں  باپ  کے  ذہنوں  کو  قابو  کرنے کے  لئے  یہ  اصطلاح  بہت  کامیاب  رہی  ہے۔  
کہتے  ہیں  کہ 

انٹرویو کے دوران جب ایک غیر مسلم نے قدرت اللہ شہاب سے پوچھا '' تم مذھب کا مطالعہ اسلامی آنکھ سے کرتے ہو یا انسانی آنکھ سے؟'' تو اس سوال کے جواب میں قدرت اللہ شہاب نے کہا'' جو لوگ اسلامی آنکھ اور انسانی آنکھ میں کوئی فرق روا رکھتے ہیں وہ دراصل بڑی شدید گمراہی میں مبتلا ہیں

اسلامی  اسکولوں  کے  نام  پر  بیوقوف  بننے  والے  والدین  سے  گزارش  ہے  کہ اپنی نسلوں  کو  اسلام  کے  لبادوں  میں  چھپے  ہوئے  منافقوں  کے  ہتھے  نہ  چڑھنے  دیں۔  ورنہ  اُنکو  دین  دینے  کے  بجائے  آپ  اُنہیں  دین  سے  متنفر کردیں  گے۔
بچپن  کی  ایک  یاد جو  میرے  ذہن  میں  شاید  تا حیات  تازہ  رہے گی  وہ  عمر  کے  اُس  حصے  کی  ہے  جب  بچے  شاید  بہت  چیزیں  سمجھنے  اور  سیکھنے  کی  تگ و دو  میں  ہوتے  ہیں  اور  بہت  سی  ایسی  چیزیں  نہیں  دیکھ  پاتے جو اُن  کے  لئے  کی  جا  رہی  ہوتی  ہیں  لیکن  شاید  وہ  اللہ  سبحانہ و تعالٰی  نے  آج  ہی  کے  لئے  مجھے  یاد  رکھوائی  تھی کہ  کیسے کنڈر گارٹن  میں  ہماری  ایک  ادھیڑ  عمر استاد  روزانہ  صبح  آ  کر  بلیک  بورڈ  پر  لال  اور  نیلی  چالک  سے  ویسی  ہی  سطریں  کھینچتی  تھیں جیسی  عموماً  ہماری  انگریزی  کی  کاپیوں  میں  ہوتی ہیں،  اور  جب  وہ  سفید  یا  پیلی  چالک  سے  اُن  سطروں  میں  لکھتی  تھیں  تو  مجال  ہے  کہ  کوئی  بچہ لکھائی  میں  غلطی  کردے۔  یہ  اُنکا  خلوص  تھا  جو  آج  ہماری  لکھائیوں  کی  صفائی  میں  جھلکتا  ہے،  روز  صبح  اُنکا  وہ  لائنیں  کھینچنا  مجھے  مسحور  کردیتا  تھا،  میں  اُنکی  اِس  محنت  اور  سچائی  کی  ساری  زندگی  متعرف  رہوں  گی،  کیونکہ  اُن  سے  میں  نے  اپنے  پیشے  سے  محبت  کرنا  اور  سچی  محنت  کرنا  سیکھا  تھا۔  وہ  آج  کہاں ہیں ہماری پوری جماعت  میں  سے  کوئی  نہیں  جانتا  مگر  ہم  سب  یہ  جانتے  ہیں  کہ  وہ  ہمارے  دل  میں ہمیشہ  زندہ  رہیں  گی،  اور  یہی  تو  اصلی  زندگی  ہے! اب  غور  طلب  بات یہ ہے  کہ  نہ  تو  وہ  خاتون  استاد  سر  پر  دوپٹہ  لیتی  تھیں  اور  نہ  ہی  اُنہوں  نے  کبھی  ہمارے  سامنے  اللہ  کا  نام  لیا  کیونکہ  وہ  مسیحی  تھیں۔  مگر تعلیم  کے  شعبے میں  دیانت  کا  جو  سبق  میں نے  اُن  سے  سیکھا  اُسکی  مثال  کسی  کلمہ  گو  سے  تو  دوبارہ  ملنا  نصیب  نہ  ہوئی۔
پاکستانی  معاشرے  میں  تمام  برائیوں  کی  جڑ  ہی  یہ  ہے  کہ  جس  علم  کو  مومن  کی  میراث  سمجھا  جاتا  ہے  وہ  اب  ایک  بیچنے  کی  چیز  بن  گیا  ہے،  بس  جس  دوکان دار  کی  صلاحیات  اِس  معاملے  میں  اچھی  ہیں  وہ اس  شعبے  میں  کامیاب  ہیں، اسی  لئے  کمی  کمین  لوگ  بڑی  بڑی  کرسیاں  پکڑ  کر  بیٹھ  گئے  ہیں  اور  جس  استاد  کو  ہم  مبلغ  اور  مدرس کی  حیثیت  سے  معاشرے  کی  سب  سے  قابلِ  عزت  ہستی سمجھتے  تھے  نہ  آج  اُسکا  معاشرے  میں  وہ  مقام  ہے  اور  نہ  ہی  اُس  کے  سکھائے ہوئے  علم  میں  وہ  تاثیر ہے!  اُس  پر  حد  یہ  ہے  کہ  مختلف  بننے  کے  چکر  میں  ہم  نے  دین کا نام  استعمال  کرنا  شروع  کردیا  ہے۔ 
اب ایسے  حالات  میں ماں  باپ  کی  ذمہ  داری  پہلے  سے  کئی  گُنا  بڑھ  گئی  ہے،  اُنہیں  تعلیم  و  تربیت  کے  معاملے  میں  پہلے  سے  ذیادہ  وقت اور  زیادہ  سوجھ  بوجھ  سے  کام  لینا  چاہیئے  
دکھ  اس  بات  کا  ہے  کہ  غلط کام  کرنے  والے  ڈنکے کی  چوٹ  پر  اعتماد  کے  ساتھ  غلط  کام  کرتے  ہیں  اور  مثبت  سوچ  اور  حکمتِ عملی  رکھنے  والے  لوگ  لحاظ ، مروت ،  صحیح  وقت اعتماد  کی  کمی اور مصلحت  پسندی  جیسے  جذبوں  کے  زیرِ اثر  آواز  نہیں  اُٹھاتے۔۔
کاش  کہ  صحیح  معنوں  میں  قابل  لوگ  اپنی  قابلیت  کا  صحیح  استعمال  کرنے  کا  حوصلہ  پیدا  کریں  اور  معاشرے  کو اِن  اندھیروں  سے  نکال  سکیں
اللہ  ہم  سب  کو  ہمارے  نیک  مقاصد  میں  کامیاب  کرے  اور  ہمیں  معاشرے  کی  فلاح  کے  لئے  فعال  کردار  ادا  کرنے کی  توفیق  دے۔  آمین

Thursday, December 29, 2016

روشنی کا استعارہ

قلم کار کے  ذریعے  زندگی  سے  سیکھے  ہوئے اسباق  آپ  سب  کے  ساتھ  بانٹے  اور اللہ  سبحانہ  و  تعالیٰ  کا ہمیشہ  بڑا شکر کیا  کہ  اُس  نے مجھے  روز مرہ  ہونے  والے  چھوٹے چھوٹے  واقعات  سے  زندگی  کے  بڑے  بڑے  سبق  سکھائے۔۔  لوگوں  کو  اپنی  ناکامیوں  اور  آسودہ  خواہشات  کی شکایتیں کرتے دیکھ  کر میں  ہمیشہ  اپنے  لئے شکر  کی  کوئی  وجہ  نکال  لیتی۔۔ اور میں  اُن  راستوں  پر  خوشی  خوشی  چلتی  رہی  جہاں  جہاں  اللہ  سبحانہ  و  تعالیٰ مجھے  چلاتا  رہا۔۔ اور  اب  اتنے  سال  بعد  اتنے آگے  بڑھ  کر  پیچھے  دیکھوں  تو میں  حیران  ہو جاتی  ہوں  کہ  اللہ  نے  ان  تمام نعمتوں اور اس شعور کے  لئے  مجھے  چُنا۔۔ 
جس  عمر  میں  عموماً  لوگ دنیا  کی  رنگ  اور  روشنی  میں  آنکھیں  چندھیائے  چلتے  ہیں  اُس  عمر  میں  اُس  نے الحمداللہ مجھے  اپنی  پرُنور راہِ  ہدایت  دکھائی۔۔ اور  جس  زمانے  میں  تمام  ہم عمر  اپنی  نصابی  کتابوں  سے  ہی  نالاں  تھے  اُس  وقت  میں نصاب  کے  ساتھ  ساتھ  ممتاز  مفتی  اور  اشفاق  احمد  کی  کتابیں  پڑھتی  رہی۔۔ اور  اُن  کو  پڑھ  پڑھ  کر  اُن  کے  جیسا  لکھنے  کی  مجھے  شدید  خواہش  ہوتی۔۔ مگر  تب  یہ  لگتا  تھا  کہ  میَں  نے  زندگی  کو  ابھی اُس  طرح  نہیں  سمجھا۔۔ 
اشفاق  احمد کی  تحریروں میں یوں  تو  بہت  خاص  باتیں  تھیں۔۔ مگر  جو  اُنکی  تحریروں  کو سب  سے  زیادہ جاندار  بناتے  ہیں  وہ  ہیں  اُنکے  ’’بابا‘‘  اور  بابا   کے  ڈیرے  پر  ہونے  والی  تعلیمات۔۔ سیکھنے  کو  اب  بھی  بہت  کچھ  ہے اور  سکھانے والے  بھی اپنے  تئیں  یہ  کام  کررہے  ہیں بس  ہم  ہی  آنکھیں  اور  کان  بند  کرلیتے  ہیں۔۔ دل پر  اتنے  دبیز  پردے  ڈال  لیتے  ہیں  جیسے  امی  نے ڈرائنگ  روم  میں  ڈال  رکھے  ہیں۔۔ ہمیں  لگتا  ہے  اِس  طرح  دل  باہر  کی  کثیف دنیا  سے محفوظ  رہے  گا۔۔ لیکن  یہ  بھول  جاتے  ہیں  کہ  پھر  اِس  طرح  دل  روشنیوں  سے  بھی  تو  محروم  رہ  جائے گا۔۔
خیر! ایسی  ہر  نادانی  کے  بعد  انسان  کو  سمجھ  جانا  چاہئے  کہ  ابھی  بہت  کچھ  سیکھنا  باقی ہے  اور  وہ ابھی  علم  و  معرفت  کے  میدان  میں کئی  لوگوں  سے  بہت پیچھے  ہے۔۔ دراصل  اِن  بابا  صفت  لوگوں  کی  فطرت  بھی  ہم  جیسے  ڈیڑھ  عقلمندوں  کے  لئے  بڑا  مسئلہ  ہے۔۔ یہ  اپنی  نیکیوں  کے  مشتہر  نہیں  ہوتے۔۔ یہ  اپنی صلاحیتیوں  کا  پرچار  نہیں  کرتے۔۔ اگر کرنے  لگتے  تو  شاید  ہم  پہلے  سمجھ  جاتے۔۔ مگر  جب  خدا سورج  کی  روشنی  سے  گھاس  کو  رزق  پہنچانا  چاہے  تو  سورج  کی  کیا  مجال  کے  کسرِ  نفسی  سے  کام  لے۔۔
بابا  جی  سے  میری  پہلی  ملاقات  اُس  ہی  جگہ  ہوئی  جسے  اب  میں  ڈیرہ  کہتی  ہوں  حالانکہ  اُس  پہلی  ملاقات  میں  ،  میَں  نے  اُنہیں  نہیں  پہچانا۔۔
کبھی  کبھی  اچھے لوگ  اتنے  برے  حالات  میں  اور  برے  لوگ  اتنے  اچھے  حالات  میں  ملتے  ہیں  کہ  ملاقات  اور  شخصیات  کے  تاثر  گڈمڈ  ہوجاتے  ہیں۔۔ خیر  مجھے  اُن  سے  ملانے  کا  زبردستی  اہتممام  کیا  گیا تھا  اور  ملاقات  کے  لئے  مجھے  تقریباً  ڈھائی  گھنٹے  کا  انتظار  کروایا  گیا  تھا۔۔ بہرحال جب  تک  اُنکی  حاضری  ہوئی  میں  اچھی  خاصی اُکتا  چکی  تھی۔۔ اور  وہ  ایک  کڑک  نظر  ڈال  کر  گزر  گئیں۔۔ گفتگو  ہوئی .. گو کہ  میری  طرف سے  متاثر  کن  نہ تھی  مگر  اُس  دن  اُس  بری  سی  ملاقات  میں بھی  ایک اور چیز  تھی  جو  بہت  اچھی  تھی۔۔ اُنہوں نے مجھے   لفظ  ’’اللہ‘‘  کے  معنی  سمجھائے۔۔ حیران  کر دینے  والاـ واقعی  اللہ  کی  قدرت  ایسی  ہی  تو  ہے۔  حیران  کر دینے  والی۔۔ انسانی عقل  سے  ماورا۔
 اُس  دن  میں  وہاں  سے  یہ  سوچ  کر  آئی  تھی  کہ  میں  اُن  سے  شاید  پھر  کبھی نہ  ملوں  گی۔۔ مگر  اللہ  نے  مجھے  کئی  بار  حیران  کیا
میں  اُن  کے آس  پاس  چلتی  رہی  میرے  شیشہء دل  پر  کچھ  میرے  نفس کی  گرد  تھی  کچھ  باہر  کے  پُر کثیف  ذہنوں کی  مہربانی  سے  میرا  دل  کالا  کوئلہ  ہوتا  گیا۔۔ اللہ  نے  بہتیرے  وسائل  بنائے  کبھی  گرد  جھاڑنے کی  کوشش کی  کبھی  دھونے  کی۔۔ مگر  میں  نے  دل  کی  کھڑکیوں پر  وہی  بھاری  پردے  ڈال  رکھے  تھے  جہاں  سے نہ کوئی  ہوا  داخل  ہو رہی  تھی  نہ  روشنی۔۔ میں  نے  ایک  ایسے  بابا  کو  جس  کی  مجھے  ہمیشہ  تلاش  تھی۔۔ پھپھو  سمجھ  لیا۔۔  میَں  نے  زندگی  میں کبھی  اپنی ناقص  العقلی  کا  اعتراف  نہیں  کیا  لیکن  اُنہیں  پہچاننے  کے  بعد  ہر  سانس  مجھ  پر گراں  گزرتی  رہی۔۔ میں  نے  کہا تھا  کہ میں  نے  بہت دنیا  دیکھ  لی۔۔ اُنہوں  نے  کہا  کہ  دنیا  کبھی  پرانی  نہیں ہوتی۔۔ یہ  بات  مجھے  اُن  کو  پہچاننے  کے  بعد  ہی  سمجھ  آئی 
 سورہ  الحجرات  کو  اپنی  پسندیدہ  سورہ  کہنے  کے  باوجود  میں  بد گمانیوں  میں  پڑ  گئی  اور  ایسی  پڑی  کہ  اُنہی  کو  سچ  سجمھتی  رہی۔۔ کسی  اور  زاویے  سے  سوچا  ہی  نہیں۔۔ اِس  طرح  اللہ  نے  مجھے  یہ  سکھایا  کہ شیطان  نے کس  طرح  مجھے  گھیرا  ہوا  ہے۔۔ اور  مجھے  اُس  سے  بچنے  کی  کتنی  ضرورت  ہے۔۔ 
یہ  روشنی  بھی  بابا  کی  تعلیمات  میں  ہی  تھی۔۔ بغیر  کسی  کو  مشکل  میں  ڈالے  بغیر  کسی  عدالت  میں  کھڑا  کئے۔۔ بغیر  اپنی  نیکیوں  کی  تشہیر  اور  دوسرے کے  گناہوں  کے  اعلان  کئے  اُنہوں  نے صحیح  اور  غلط  کو  ایک  مرتبہ  پھر  کھول  کر  رکھ  دیا  اور واضح  کردیا۔۔ کہ  انسان  کو  اِن  یاد  دہانیوں  کی  بار  بار  ضرورت  ہوتی  ہے۔۔ اُنہوں نے دعا کی  بنیاد  پر انسان  اور  خالق  کے  رشتے  کو  سمجھایا۔۔ کوئی  بڑی  بڑی  دلیلیں  نہیں  دیں۔۔ کوئی  کتابی  باتیں  نہیں کیں۔۔ مگر  اُس  دن  کے  بعد  سے مجھ سمیت  بہت  سے  لوگوں  کی  دعائیں  صحیح  ہوگئی  تھیں۔۔ میَں  نے  اپنے  لئے  جو  مانگنا  چھوڑ  دیا  تھا  وہ  مانگنے  کی  ہمت  مجھے  دوبارہ ہو  گئی  تھی۔۔
  میں  نے  ذکر  اذکار  کی  کئی  محفلیں  دیکھیں  تھیں۔۔ سنی  تھیں۔۔ اُن  میں  شرکت  کی  تھی۔۔ مگر  میں  اُن  کی  دعاؤں  میں  شریک نہیں  ہوتی تھی۔۔ مجھے  لوگوں  کے  الفاظ  اتنی  آسانی  سے  اثر  نہیں  کرتے۔۔ مگر ہر صبح اُس  بیس  منٹ  کی  بیٹھک کا  اب  میں اسلئے  انتظار  کرتی  ہوں  کہ میں  وہاں  اپنے  لئے  کچھ  مانگوں۔۔ مجھے  وہاں  بیٹھ  کر  لگتا  ہے  کہ اللہ  سن  رہا  ہے۔۔ میرے  دل  کا  آئینہ شفاف  نہ  بھی  ہو سکے مگر  دُھل  تو  رہا ہے۔۔ ’’بابا  جی‘‘  تو  میں  نے  اُنہیں  مان  لیا  تھا۔۔
بابا  جی  کہتے  ہیں  کہ  قیامت کے دن  جب  اُن  نعمتوں  کا  پہاڑ  لگا  ہوگا  جنہیں  ہم  نے  ضائع  کردیا  تو  ہم  کیسے  حساب  دیں  گے  یہ  سوچیں۔۔ اِسکی  فکر  نہ  کریں  کہ  یہ  پہنا  ہوا  جوڑا  دوبارہ  کیسے  پہنوں۔۔  کانٹا  بھی  چبھے  تو  شکر  کریں،  سکون  کی  تلاش  ہے  تو توقعات  کم  رکھیں۔۔ اور  یہ  سب  وہ  اتنے  عام  ہلکے  پھلکے  انداز  میں  کہتی  رہیں  کہ  خود  ہی  ماننے  کا  دل  کرتا  رہے۔۔  مجھے یقین  ہو  چلا  کہ  اثر  اُس  ہی  کی  بات  میں  ہوتا  ہے  جو  خود  عمل   
 کرتا  ہے۔۔ اور جس  کے  عمل  میں  ریاکاری  نہیں  ہوتی۔۔
میں  نے  یہ  سیکھا کہ  کچھ  لوگ  ایسے  ضرور  ہوتے  ہیں  جن  کے  آگے  چھوٹا  اور  کم تر  ہونے  کا  احساس  آپ  کو  تذلیل  نہیں  تسلی  دیتا ہے ۔۔ 
 مجھے  خوشی ہے کہ  یہ  تسلی  محسوس  کرنے کا  شرف  اللہ  نے  مجھے  دیا۔۔ اللہ  نے  سیکھنے  کی اور اپنے  نفس  کے  اندھے  پن  کو  پہچاننے  کی  توفیق     دی۔۔ 

میں  بابا  جی اور  اُن  سے سیکھے  ہوئے  علم  کی  معترف  ہوں۔۔ شکرگزار  ہوں  کہ  اُنہوں  نے  بلا  تفریق میرے  پچھلے  اعمال  کے  باوجود  مجھے  بھی  اپنی  روشنیوں  سے  مستفید  کیا
اور  میں  آئندہ  اُنکی  تمام  تعلیمات کو کسی  نہ  کسی  صورت ’’قلم کار‘‘  میں  درج  کرتی  رہوں  گی۔۔ لیکن  آج  میں  ہر  پڑھنے  والے  سے  بولوں  گی۔۔ کہ مجھ  جیسی  ہر  وَردہ  شاکر  کی  زندگی  میں  کوئی  نہ  کوئی  بابا جی  تو  ہونگی۔۔ تو  اُیسی  روشنی  کے  استعارے  کے  لئے  مجذوب  بن  جایئے  گا۔۔ زندگی  بہت  چھوٹی  ہے  اِس  میں  پچھتاوں  کے  بجائے  شکرانوں  کو  شامل  کر  لیجئے  گا،  کیونکہ  ایسی  کسی  روشنی  سے  چند  دن  ہی سہی  محروم  رہ  جانے  کا  دکھ  مجھ  سے  زیادہ  کون  جانے  گا


اللہ  ہم  سب  کو  ہمارے  نیک  مقاصد  میں  کامیاب  کرے  اور  ہمیں  معاشرے  کی  فلاح  کے  لئے  فعال  کردار  ادا  کرنے کی  توفیق  دے۔  آمین

Wednesday, December 28, 2016

نیا سال نئے ہم

نئے سال کی آمد آمد ہے۔۔ سب کچھ نیا اور خوشگوار ہونے کا احساس لوگوں کو چاروں طرف سے گھیرے رکھے گا۔۔ نیو ائیر نائٹ پر دل میں ایسے لڈّو پھوٹیں گے جیسے یکم جنوری آتے ہی زندگی سے دکھ کے بادل چھٹ جانے والے ہیں اور آئندہ زندگی پھولوں کی سیج ہوگی۔۔ جبکہ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔۔ دکھ نہ ہوں تو خوشیوں کا احساس ہی دم توڑ جائے۔۔ لیکن ہم انسان بس ایسے ہی ہیں۔۔ ایسی ہی لایعنی امیدیں باندھ بیٹھتی ہیں اور اُنکے ٹوٹنے پر کتنا ہی وقت دکھ میں گزار دیتے ہیں۔۔ زندگی میں بدلاؤ بلاشبہ بہت ضروری ہے پر کیا ہی اچھا ہو کہ یہ بدلاؤ ہم باہر کے بجائے اندر لے آئیں، تہیہ کریں کہ بس مجھ سے جو برا ہوا سو ہوا۔۔ میں نادم ہوں لیکن اب آئندہ زندگی ندامت میں ڈیپریس رہ کر نہیں بلکہ اپنی غلطیوں کو سدھار کر گزاروں گی۔۔ اللہ نے مجھے یہ زندگی دی۔۔ اور اتنی نعمتوں نے مجھے آگے پیچھے سے گھیر رکھا ہے اِن کا میں بہترین استعمال کروں گی۔۔ ایسا استعمال کہ جب میں ان نعمتوں کا شکر کروں تو سرشاری کی کیفیت سے میرا دل بھر جائے۔۔۔ میں اب لوگوں کے رویوں پر اپنا دل خراب نہیں کروں گی۔۔ میں اپنے جذبات اور اپنے ری ایکشنز کا ریموٹ دوسروں کے ہاتھ میں نہیں دوں گی۔۔ میں اپنی برائیوں کو دور کروں گی۔۔ میں علم حاصل کروں گی کہ اللہ مجھے کیسا دیکھنا چاہتا ہے اور ویسا بننے کی سعی کروں گی۔۔ کوشش کروں گی کہ اپنے افعال ، الفاظ اور انداز سے لوگوں کو آسانیاں دوں آزمائش نہ دوں۔۔ اس سال وہ سب سے خوشگوار تبدیلی جو میری زندگی میں آئیگی وہ میں خود ہوں۔۔ انشاءاللہ


Friday, December 23, 2016

اُجالا

دو  مہینے  میں علی  کی  شادی  تھی،  پیر  زمین  پر  نہیں  ٹک  رہے  تھے۔۔۔ لگتا  ہے  کل  ہی  کی  بات ہے  جب  خود  میںَ  دلہن  بن  کر  یہاں  آئی  تھی۔۔ پھر  کب  علی  اور  ماریہ  میری زندگی  میں آئے ۔۔ کب  اُن  کے  ساتھ  چھوٹے  چھوٹے  قدم  اُٹھاتی  میں  عمر  کا  اتنا  بڑا  حصہ  اتنی  جلدی  گزار  گئی۔۔ مجھے  تو  احساس  ہی  نہیں ہوا۔۔ کب  وہ  اٹھارہ سال  کی  نئی  نویلی  ڈری  سہمی  دلہن  اب ساس  بننے  جارہی  ہے۔۔ ابا  کے  گھر  میں کتنی سختیاں  جھیلییں ،  ابا  کی  قناعت  کی  عادت  کی  وجہ  سے  اپنی  تمام  خواہشات  کا گلا  گھونٹے  رکھا سوچا  تھا شوہر  سے  خوب  نخرے  اُٹھواؤں  گی۔۔ مگر  شوہر  نامدار  کی اماں  کے  آگے  تو  چنگیز  خان  بھی  پانی  بھرتا  تھا۔۔ بس  جیسے  تیسے  وہ  وقت  بھی نکال  ہی  لیا۔۔ اللہ  نے  میری  عبادتوں  اور  ریاضتوں  کا  بڑا  صلہ  دیا۔۔ مگر اب  تو  صحیح  معنوں  میں میرا  وقت  آیا  ہے،  لگتا  ہے  ساری  دنیا  کی  حکومت  ہی  مل  گئی  ہو۔۔ علی  کی  دادی  کے  بعد  گھر  اور  گھر  کے  تمام فیصلے  لینے  والی  مَیں  بن  گئی۔۔ علی  کے  ابا  نے  تو  ویسے  ہی  ساری  زندگی  اماں سے  ڈر  کر  گزاری  تھی  تو  مجھے  بھی  اُنہیں  ڈرا  کے  رکھنے  میں  زیادہ  دشواری نہ ہوئی۔۔ پھر  اللہ  نے  مجھے  بچے  بھی  بڑے  سعادت مند  دئیے،  اور  اب  ایک  اور  پروموشن  اب  تو  ساس  بن  کر  میری  چھب  ہی  اور  ہوگی۔۔ 
اتنی  ساری  تیاریوں  میں یہ  تو  یاد  ہی  نہیں  رہا  تھا  کہ  علی  کی  دلہن  اور ماریہ  کے  لئے  پارلر  کی  بُکنگ  بھی  کروانی  ہے۔۔ اِس  لئے  ایک شام  میں  نے  پرس  اُٹھایا  اور  شہر  کے  مشہور  ترین  پارلر  جا  پہنچی۔۔ پارلر  میں بھی (بلیک  فرائڈے)  کی  سیل  لگی  تھی  اور  خوب  رش تھا۔۔ میں  جس  خوشگوار  احساس  کے  ساتھ  آئی  تھی  وہ  ایک  دم  ہی  کہیں  غائب  ہوگیا۔۔ مجھے  افسوس  ہوا  کہ  ہم  اپنی  مذہبی  اقدار  کس  قدر غیر  محسوس  انداز  میں تیزی   سے  کھو  رہے  ہیں۔۔ جمعے  کے  مبارک  دن  کے  ساتھ  سیاہ  کا  لفظ  لگانا  مجھے  کس  قدر ناگوار  لگا۔۔ عید  پر  تو یہ  تمام  لوگ  دوگنی  قیتمیں  وصول  کر  اپنی  دوکان چمکاتے  ہیں  اور  کرسمس  کے  موقع  پر  مغرب  کی  اندھی  تقلید ۔ اف! لگتا  ہے  یہ  وہی  زمانہ  آ  پہنچا  ہے  جس  کے  بارے  میں  محمد  ﷺ  نے  کہا  تھا کہ  دین  پر  قائم  رہنا  گرم  انگارے کو  ہاتھ میں پکڑنے  کے  مترادف  ہوگا  (مفہوم)  انہی  سوچوں  میں  گھری  میں کاؤنٹر  سے  ہٹ  کر لابی میں آ  بیٹھی  جہاں  پہلے  سے  ہی  ایک  دلہن تیار  بیٹھی  تھی۔۔ اُسکو  دیکھ  کر  مجھے ایک  بار  پھر  اپنی  آمد  کا  مقصد  یاد  آیا  اور  میرا  موڈ  بہتر  ہونے  لگا۔۔ لیکن  کاؤنٹر  پر  رش  کی وجہ  سے  انتظار  تو  بہرحال  کرنا  ہی  تھا۔۔ سو  میں  اُس  ہی  کے  پاس  بیٹھ  گئی۔۔
ماشاءاللہ  آپ  بےحد پیاری  لگ  رہی  ہیں۔۔  سیاہ  عبائے  والی  لڑکی  نے  دلہن  سے  آکر  کہا  اور   ہمارے  سامنے  بیٹھ  گئی
دلہن  کے  چہرے  پر اپنی  تعریف  سن  کر ایک  خوبصورت  مسکراہٹ  پھیل  گئی۔۔
آپ  دونوں  ساتھ  ہیں  ؟  میں  نے  اُن  سے  پوچھا
نہیں میں  تو  کسی  کام  سے  آئی  تھی۔۔  سیاہ  عبائے  والی  لڑکی  کے  چہرے  پر  مسکراہٹ اب  بھی  تھی 
میں  بھی  اپنی  بہو  کی  بکنگ  کروانے  آئی  ہوں۔۔  میں نے  جانے  کیوں  کہہ  دیا۔۔  سیاہ  عبائے  والی  لڑکی  کی  مسکراہٹ  میں  کچھ  خاص  بات  ضرور تھی یا  شاید  میں اُس  ہی  سے  ملنے  آج  پارلر  پہنچائی  گئی  تھی۔۔ 
پارلر  بہت  اچھا  ہے  آنٹی  میری  دونوں چھوٹی  چھوٹی  بہنیں  یہیں دلہن  بنی  تھیں،  وہ  بھی  بہت  کیوٹ  لگ  رہی  تھیں۔۔  سیاہ  عبائے  والی  لڑکی  نے  خوش  دلی  سے  بتایا
چھوٹی  بہنیں ؟  اور آپ؟  میں  نے  عورتوں  والی  خصوصیت  کو  کام  میں  لاتے  ہوئے ایسا  سوال  کیا  جس  سے  مجھے  کوئی  مطلب  نہیں 
میں تو  سنگل  ہوں  ابھی۔۔  سیاہ  عبائے  والی  لڑکی  کا  چہرہ  اب  بھی  بشاش  تھا۔۔ 
مجھے  حیرت  ہوئی۔۔ وہ  کم  عمر  بھی تھی  اور  خوش  شکل بھی۔۔ پھر  اُس  کے  ماں  باپ  نے  اُسکو  چھوڑ  اُس  سے  بھی  کم  عمر بچیوں  کو  پہلے  کیوں  رخصت  کیا۔۔
لیکن  کیوں ؟  میں  پوچھے  بغیر نہیں  رہ  سکی
اُس  نے  عجیب  حیرت  سے  دیکھا  شاید  اُسے  بھی  میرا سوال  بے  مطلب  لگا  ہو۔۔
میرا مطلب  بیٹا کیا کہیں  بات ہوئی  ہے  یا  تمہاری  کوئی  خاص  ڈیمانڈ  ہے۔۔ میں  نے اپنے  تجسس کی مزید  بے  کار  وضاحت  کی۔۔
مگر  اُسکی  مسکراہٹ  بدستور  قائم  رہی،  عام  لڑکیوں  کی  طرح  نہ اُسکا  چہرہ  بجھا  نہ  وہ  پریشان  ہوئی۔۔
ممممم۔۔ ویسے  ڈیمانڈ  تو  نہیں۔۔ لیکن  آنٹی  مجھے  لگتا  ہے  کہ  ایک  لیول  کی  غیرت  مندی  تو  مردوں میں  ہونی  چاہئے۔۔
اُس  نے  کہا
مطلب؟  میں  نے پوچھا 
مطلب  یہ  کہ  آنٹی مجھے  یہ  سمجھ  نہیں آتا  کہ  جو  شخص  اور اُسکا  خاندان  لڑکی  کے  گھر  سے  آنے  والی  چیزوں  پر  اتنا  انحصار  کرتے  ہیں  وہ  بعد  میں  اُسے کیا  تحفظ  دیں  گے۔۔
کون  انحصار کرتا  ہے  بہو  کی  چیزوں  پر بیٹا
آنٹی  ایک بہت  بڑی  مثال  تو  فرنیچر  ہی  ہے۔۔ لڑکی  اپنا  بستر  تک  خود  لے  کر  جاتی  ہے، جو  شخص  اُس  کے لئے  اتنا  بھی  نہیں  کر  سکتا  وہ  لڑکی  سے  کیوں  توقع  کرتا  ہے کہ اُسکے  لئے  سب  چھوڑ  آئے  اور  خود  کو  بدل  دے،  اپنی  ہستی  مٹا  دے  اور ’’چوں‘‘  بھی  نہ  کرے !  اُسکا  لہجہ  پختہ  مگر  نرم  تھا
مگر  ہم  جس  معاشرے میں  رہتے  ہیں۔ میں نے  ایک  لولی  لنگڑی  دلیل  دینی  چاہی
معاشرہ  تو  ہم  سے  ہی  بنا  ہے  آنٹی  ۔۔ یہ  اُصول  بھی  خود  ہم  نے  ہی  اپنے  لئے  بنائے  ہیں  یہ  آسمانی  کتابوں  میں  تو  نہیں  لکھے۔۔  سیاہ  عبائے  والی  لڑکی  نے  مزید  نرمی  سے  کہا
مگر  یہ  تو  خوشی  ہے  ۔۔ لوگ  خوشی  سے  یہ  سب  دینا  دلانا  کرتے ہیں۔۔ میں  نے  کہا
یہ  تو  آپ  اُن  لڑکی  والوں  سے  پوچھیں  کہ  وہ  ساری  زندگی  اپنی  کون  کون سی  خواہشوں  کو  مارتے  ہیں  کہ  شادی  کے  وقت  سسرال  والوں  کی  خواشیں  پوری  کر  سکیں۔۔ اس  بار  اُس  کے  لہجے  میں  کاٹ تھی
تمہارے  خیالات  تو  باغیانہ ہیں۔۔ میں  نے  اُس  پر  طنز  کیا۔۔
ہاں  جی!  یہ  تو  میں  مانتی  ہوں۔۔ اِس  لئے  مجھے  ایسا  ہی  کوئی  شخص  چاہئے  جو  اتنا  مرد  بچہ  ہو  کہ  اِن  غلط  رسموں  کے  خلاف  آواز  اُٹھا  سکے۔۔ مقابلہ  کر  سکے۔۔ اُس  نے  بہت  نرمی  سے  میرے  طنز  کا جواب  گہری  مسکراہٹ  کے  ساتھ  دیا
میری  الجھن  میں  مزید  اضافہ  ہوگیا۔۔ اُسکا  سکون  دیکھنے  کے  قابل  تھا۔۔
ایسے  لوگ  بہت  کم  ہوتے  ہیں  بیٹا۔۔ میرا  لہجہ  التجائیہ  تھا  جیسے  میں  کچھ بھی  کر  کے  اُسے  قائل  کرنا  چاہتی  ہوں۔۔
یقیناً ۔۔ ایسے  لوگ  بہت  چند  ہیں۔۔ مگر مجھے یقین  ہے  کہ اگر  اللہ  نے  مجھے  اچھائی  اور  برائی  کی  تمیز سکھائی  ہے  اور  مجھے اتنا  شعور دیا  ہے  تو  میرے  لئے  ایسا ایک  شخص  بھی بنایا  ہوگا۔۔  سیاہ  عبائے  والی  لڑکی  کا  اعتماد  مجھے  بے  چین  کر  رہا تھا۔۔
اور  تمہیں  وہ  بہت  جلد  ملے  گا۔۔ پاس  بیٹھی  دلہن  نے  نم  آنکھوں سے  سیاہ   عبائے  والی  لڑکی  کو  دعا دی  تھی۔۔ 
دلہن  کی  نم  آنکھیں  بھی بہت  کچھ  کہہ  رہی تھیں
 سیاہ  عبائے  والی  لڑکی  ہمیں  اللہ  حافظ  کر  کے  دلہن  کو  جواباً  ڈھیروں  دعائیں  دیتی  چلی  گئی۔۔ مگر  اُس  کا  مسکراتا  چہرہ  اور  اُسکا  وہ  پر سکون  لہجہ  میں  ذہن  پر  نقش  ہوگیا۔۔
گھر  آکر  بھی  بے  چینی  برقرار  رہی۔۔ رات  کو بستر  پر  لیٹ  کر  ذہن  ایک عجیب  سفر  پر  نکل  گیا۔۔  یاد آرہا تھا۔۔ ابا  کی  آمدنی  کتنی  کم  تھی۔۔ جب  آپا  کی  شادی  ہوئی  ابا  کے  ماتھے پر  ہر  وقت  شکنیں  رہتی  تھیں  اماں  بولائی  بولائی  پھرتی  تھیں۔۔ چچا  میاں  اُنہی  دنوں  بیرونِ  ملک  سے  آئے  تھے۔ اُنہوں  نے  ابا  کے  ہاتھ پر  ایک  بڑی رقم  رکھی  تھی  اور  کہا تھا  کہ  یہ  میری  بھی  تو  بیٹیاں  ہیں۔۔ آپا  کی  رخصتی  کے  بعد  ابا  آنگن  میں  بیٹھ  کر  بہت  روئے  ،  ہم  سب  بہنوں  نے  سنا  تھا۔۔ وہ  اماں  سے  کہہ رہے  تھے۔۔ 
ساری  عمر  سفید  پوشی  کا  بھرم  رکھا  بیگم ۔۔ مگر  اب  کی  بار  ایسی  ضرورت  پڑ  گئی  کہ  میں  چھوٹے بھائی کو  منع  نہیں  کر  سکا۔۔ فرض  تو  میرا  تھا  کہ  میں  چھوٹوں  کو دیتا  مگر  بیٹی  کا  باپ  ہونا  کمر  کو  کبھی  جھکاتا  ہے  اور  کبھی  مکمل  توڑ دیتا ہے۔۔ سادہ  لوح  اماں  نے  اپنے  سخت  گیر  شوہر کو  پہلی  بار  روتے  دیکھا  تھا۔۔ تو  وہ  بھی  منہ  پر  دوپٹہ  رکھے  سسکیاں  روکتی  رہیں ۔۔ ابا  کو  چپ  کروانے  کی  اُن  میں  ہمت  نہ  تھی۔۔ 
پھر  ایک  کے  بعد  ایک چاروں  بیٹیوں  کی  رخصتی  ہوتی  رہی  ابا  کی  کمر  مزید  جھکتی  رہی۔۔ 
اف میں آج یہ  سب  کیا  سوچ  رہی  ہوں۔۔ ایک  چھوٹی  سی  لڑکی  کی  باتیں  کیوں  میرے  ذہن  میں  سوار  ہوگئی  ہیں۔۔ ہمیشہ  یہی  تو  ہوتا  آیا  ہے۔۔ ہر  لڑکی  اس  ہی  دوزخ  سے  گزر  کر  تو  دہلیز  پار  کرتی  ہے
معاشرہ  تو  ہم  سے  ہی  بنا  ہے  آنٹی  ۔۔ یہ  اُصول  بھی  خود  ہم  نے  ہی  اپنے  لئے  بنائے  ہیں  یہ  آسمانی  کتابوں  میں  تو  نہیں  لکھے۔۔  
اُس  لڑکی  کی  آواز  میرے  کانوں  میں  گونجی۔۔
آسمانی  کتاب؟  کیوں  لیا  اُس  نے  آسمانی  کتاب  کا  نام۔۔ کیوں  لے آئی  وہ  اس  کتاب  کو اس  معاملے  کے  بیچ  مَیں۔۔ اگر  آسمانی  کتاب  یہ  نہیں  کہتی  تو  پھر  کیا  کہتی  ہے۔۔ 
وہ  تو  کہتی  ہے کہ  اللہ  تم  پر  آسانی  چاہتا  ہے  اور تم  پر  دشواری  نہیں  چاہتا (سورہ  بقرہ)۔۔ 
تو  میں  نے  کیسے  دشواری  میں  ڈال  دیا  کسی  کو۔۔ میرے  سینے  میں  ایک  ٹیس  سی  اُٹھی  ۔۔ مجھے  تو  اپنی  عبادتوں  پر  بہت  ناز  تھا۔۔ میں  رحمن  کے  بندوں کو کبھی  کوئی  آسانی  نہ  دے  سکی  ۔۔
یہ  تو  آپ  اُن  لڑکی  والوں  سے  پوچھیں  کہ  وہ  ساری  زندگی  اپنی  کون  کون سی  خواہشوں  کو  مارتے  ہیں  کہ  شادی  کے  وقت  سسرال  والوں  کی  خواشیں  پوری  کر  سکیں۔۔
اُس  لڑکی  کی  باتوں  نے  مجھے  کٹہرے  میں لا  کھڑا  کیا۔۔ اور کٹہرا  بھی  کس  عدالت  کا۔۔ خود  اپنے  ہی  ضمیر  کا؟  انسان  کے  لئے سب  سے  زیادہ  تکلیف  دہ  خود  اپنی  ہی  نظروں  میں  گرنا  ہوتا  ہے۔۔ اور  یہ  تکلیف  سہنے  کی  مجھ  میں سکت  نہیں۔۔
میں بستر  سے  اُٹھ  کھڑی  ہوئی۔۔ تازہ  ہوا  کو  اندر  اُتارنے  کے  لئے  کھڑکی  کے  پاس  گئی  تو  دیکھا  کہ  رات  کی سیاہ  دھاری  صبح  کی  سفید  دھاری  سے  الگ  ہو  رہی  تھی۔۔ ایسا  لگا  جیسے  میرے  قلب  کے  اندر  بھی  سیاہ  اور  سفید  ایسے  ہی  الگ  ہوگیا  ہو۔۔ اللہ  سبحانہ  وتعالیٰ  نے  مجھ  پر  کس  قدر   عظیم  احسان  کردیا  ہے۔  میں  کل  ہی  علی  کی سسرال جا  کر  کہہ دوں  گی  کہ  دلہن  کے  ساتھ  کچھ  نہیں  آئیگا۔۔ اُسکو جو  بھی  پسند  ہے وہ  خود  علی  اُس  کے  لئے  خریدے  گا۔۔  ہم  اُسکے  گھر  سے  ہی  نکاح  کر  کے لے  آئینگے  اور  پھر  اُسکے  تمام  رشتے داروں  کو  خود  دعوتِ  ولیمہ  میں بلائیں  گے۔۔ یہی  سنت  ہے  اور اس  ہی  میں برکت  ہے۔۔ 
دور  اور  قریب  کی تمام  مسجدوں میں فجر  کی  اذانیں  گونج  رہی  تھیں۔۔ دور  کہیں  آسمان  پر  ایک  اُجالا  پھیل  رہا  تھا۔۔ اور  ایک  اُجالا  میرے اندر۔۔ 

Best Blogs

Reflective Journal ربوبیت کا

انسان  کے  لئے  دنیا  میں  جو  چیز سب  سے  زیادہ  اہم  ہے  وہ  ہے  ’’تعلق‘‘ خواہ  وہ  خونی  رشتے  ہوں،  معاشرتی  تعلقات،  یا  ارد  گرد  کے  ...