Thursday, August 31, 2017

میرے بھی ہیں کچھ خواب


اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خواب
میرے بھی ہیں کچھ خواب
اس دور سے اس دور کے سوکھے ہوئے دریاؤں سے
پھیلے ہوئے صحراؤں سے اور شہروں کے ویرانوں سے
ویرانہ گروں سے میں حزیں اور اداس!
اے عشق ازل گیر و ابد تاب
میرے بھی ہیں کچھ خواب!
اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خواب
میرے بھی ہیں کچھ خواب
وہ خواب کہ اسرار نہیں جن کے ہمیں آج بھی معلوم
وہ خواب جو آسودگیٔ مرتبہ و جاہ سے
آلودگیٔ گرد سر راہ سے معصوم!
جو زیست کی بے ہودہ کشاکش سے بھی ہوتے نہیں معدوم
خود زیست کا مفہوم!
دنیا میں سب سے سستی چیز ایک عورت کے خواب ہیں، روز ٹوٹتے ہیں۔۔ روز وہ
 اِن خوابوں کی کرچیوں کو سمیٹتی ہے اور اپنے جسم کے کسی کونے میں دفنا دیتی ہے۔ پھر زندگی میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب اُسکا جسم اِن کرچیوں سے بھر جاتا ہے تب تک یہ کرچیاں اُس کا پور پور زخمی کردیتی ہیں، پھر یا تو وہ اِس تکلیف کے ساتھ مر جاتی ہے یا پھر اِن سے رِستے ہوئے خون کو نت نئے طریقوں سے چھپانے کے طریقے تلاشتی رہ جاتی ہے۔ اس طرح وہ ساری زندگی یہ ثابت کرتے ہوئے گزار دیتی ہے کہ وہ قربانی جیسے مقدس جذبے سے سرشار ہے، وہ خود غرض نہیں ہے کہ صرف اپنے بارے میں سوچے اور اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے اپنے رشتوں کو داؤ پر لگاتی جائے لیکن ہر بار کٹہرا ہی اُسکا مقدر بنتا ہے، احتساب کی سوُلی پر صرف عورت اور عورت کے خوابوں چڑھایا جاتا ہے، اور اگر بدقسمتی سے وہ اپنے خوابوں کو جینے کی ہمت کرنے والی بن جائے تو وہ ایک بری عورت ہے جس کے لئے مردوں کے بنائے ہوئے اس دوہرے معیار والے معاشرے میں کوئی اچھے القاب نہیں ہیں۔ مرد کی سب سے بڑی قابلیت یہ ہے کہ وہ مرد ہے! اِس ایک قابلیت کے آگے عورت کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ قابلیت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ 
اسی لئے کامیاب عورت وہ ہے جو تسلیم کر لے کہ گھر اور رشتے اُسکی قربانیوں کے مرہونِ منت تو ہیں لیکن وہ ان سب قربانیوں کے بعد بھی دنیا کی سب سے بے وقعت چیز ہے، جسے مرد کی زبان سے غصے میں نکلنے والے تین الفاظ بے یار و مددگار کر سکتے ہیں۔ 
________________________________




انڈس ویلی آرٹ کی خوبصورت عمارت کتنی ہی خواب پوش آنکھوں کے لئے آرامگاہ ہے، آرکٹکچر، ٹیکسٹائل اور فنِ مصوری جیسے آرٹ کی دنیا کے ونڈر لینڈ کا دروازہ ہیں۔ ایسے ہی ایک ونڈرلینڈ میں مارشمیلو کا قلعہ بنا کر چاکلیٹ کے بستر پر ویفر کا تکیہ لگائے وہ بادلوں کو پینٹ کر رہی تھی پورا آسمان اُسکا کینوس تھا، رنگ اُسکی زندگی تھے ، قدرتی مناظر کے حسن کو پوٹریٹ اور لینڈاسکیپ میں قید کرنا اُسکے لئے ایسا تھا جیسے جسم میں نئے خلیے جان بن کر پھیل گئے ہوں۔ تصویریں تو جانداروں کو بے جان ٹکڑے میں جکڑ لیتی ہیں لیکن عائشہ بےجان مناظر کو اپنی پینٹنگز سے جاندار بنا دیتی تھی۔  وہ گیارہ سال کی عمر سے پینٹ کررہی تھی اور اُسکے آس پاس سے لے کر حلقہ احباب میں دور دور تک کا ہر شخص اُسے اسی حیثیت سے جانتا تھا، اِس فن نے اُسے اپنے ہی جیسے لوگوں میں ایک امتیاز دیا تھا اور یہ امتیاز اب اُسکا جنون بن گیا تھا، لیکن ایک جنون اور تھا اُسکی زندگی میں جس نے اُسکے دل کے ہر موسم کو قوسِ قزح سے رنگ رکھا تھا، فراز سے اُس کی دوستی جب سے ہی ہوگئی تھی جب وہ پیدا ہوئی تھی، عائشہ سے پہلے فراز گھنٹوں اکیلے ادھر اُدھر دوڑتا پھرتا تھا، وہ چار سال کا تھا جب اُسکو حقیقتاً لگا کہ اللہ نے خالہ کے ہاتھ اُسکے لئے ایک پارٹنربھیج دیا ہے۔ اور اس احساس کے بعد زندگی میں کبھی بھی کسی اور کو پارٹنر بنانے کا خیال ہی نہیں آسکا۔ آج عائشہ نے شہر کے نامور ادارے سے گریجویشن مکمل کرلیا تھا، یہاں تک پہنچنے میں کی گئی ہر ایک لمحے کی محنت اور اپنے کام سے جنون کی حد تک لگاؤ اُس کی آنکھوں سےآنسو بن کر بہہ رہا تھا۔ وہ ونڈرلینڈ کے دروازے پر انٹری ٹکٹ لئے کھڑی تھی ۔۔ بس ایک قدم اُٹھانا تھا اور وہ اپنے مارشمیلو کے قلعے سے نکل کر اپنے  آسمان کے کینوس تک اُڑان بھر لیتی۔۔ 
بیجینگ میں ہونے والے انٹرنیشنل پینٹنگ بائےاینل میں عائشہ کا بنایا ہوا فن پارہ نمائش کے لئے منتخب ہوگیا تھا۔ پروفیسرز اُسکو فون پر فون کر کے مبارکباد دے  
رہے تھے، جیسے ہی
کالز کا سلسلہ رُکا اُس نے فراز کو کال کی،پہلی بیل پر ہی فون ریسیو ہو چکا تھا
فراز نے فون اُٹھاتے ہی کہا۔۔  کیا بات ہے، آپ ہی کو کال کرنے کے لئے موبائل
 اُٹھا رہا تھا

عائشہ: اوہ رئیلی؟ خیریت؟

فراز: ہاں، ممی کل آرہی ہیں تمہارے گھر ڈیٹ فکس کرنے۔

عائشہ خوشی سے چیختے ہوئے۔۔ سچ؟

فراز: جی جی بلکل سچ

عائشہ: اوہ گاڈ۔۔ یہ کیا ہورہا ہے، ایک ہی دن میں دو گُڈ نیوز

فراز: دو؟ دوسری کیا ہے؟

عائشہ: میری پینٹنگ اس سال کے انٹرنیشنل پینٹنگ بائےاینل کے لئے سلیکٹ ہوگئی ہے فراز، میں اگلے مہینے بیجنگ جاؤں گی۔۔ 

فراز نے حیرت سے کہا۔۔ واٹ؟ بیجنگ؟ مذاق کر رہی ہو

عائشہ: اوہ ناٹ ایٹ آل فراز۔۔ مجھے خود بھی یقین نہیں آرہا۔۔

عائشہ خوشی میں کہہ رہی تھی مگر اُسے احساس ہوا کہ فراز کے لہجے میں خوشی کا کوئی تاثر نہیں تھا۔۔

کیا ہوا؟ تم ایسے چپ کیوں ہو۔۔ عائشہ نے پوچھا

کچھ نہیں۔ میں یہاں تم سے ہماری ڈیٹ فکسنگ کی بات کررہا ہوں اور تمہیں پینٹنگ مقابلے کی پڑی ہے، فراز نے بے زاری سے کہا

میرے لئے دونوں بہت بڑی خوشیاں ہیں فراز ، عائشہ نے نرمی سے کہا

سوری! میرے لئے نہیں۔۔ میرے لئے اس وقت سب سے اہم میری اور تمہاری شادی کی بات ہے، فراز نے جتایا

عائشہ کو اُسکے رویے پر دکھ ہوا
اُسکی خاموشی پر فراز نے مزید کہا

اور پلیز بیجنگ جانے کا خیال بھی چھوڑ دو۔۔ ممّی شادی جلد ہی کرنا چاہتی ہیں، تو
 اس بیچ کے وقت میں ہم بہت سی تیاریاں کریں گے، ساتھ شاپنگ کریں گے۔۔ اپنی ویڈنگ ڈائری بنائیں گے۔۔ بہت یادگار . وہ خوشدلی سے اپنے منصوبے بتا رہا تھا

لیکن پورے پاکستان میں سے صرف میری پیںٹنگ سلیکٹ ہوئی ہے۔ اور جب سے
 یہ اناؤنس ہوا ہے میری یونیورسٹی کے ایک ایک فکیلٹی ممبر نے مجھے کال کر کے میری حوصلہ افزائی کی ہے، عائشہ نے اُسکو سمجھانے والے انداز میں کہا

عائشہ پلیز بچوں جیسی باتیں مت کرو، پینٹنگ نہ ہوگئی نوبل انعام ہوگیا۔۔ کیا ہوگا
 اس سلیکشن سے یا اس مقابلے سے۔۔ فراز نے الجھ کر کہا

یہ میرے کرئیر کا پہلا قدم ہے، عائشہ نے جتایا

کرئیر؟ سریئسلی؟ تم اسے کرئیر بناؤ گی؟ فراز نے ہنس کر پوچھا

عائشہ کو ایک دم ہی بہت تحقیر کا  احساس ہوا،
 ہاں فراز۔۔ میں نے زندگی میں صرف پینٹ کیا ہے، اور میں یہی کرنا چاہتی ہوں اسی لئے میں نے اس کی ڈگری کی ہے 

خیر زندگی میں تو تم نے مجھ سے محبت بھی کی ہے، رہی بات پینٹ کرنے کی تو ضرور کرو، لیکن گھر بیٹھ کر، یہ سوچ کر نہیں کہ تم اسکی نمائش کے لئے پوری دنیا گھومو گی ۔ فراز نے حتمی لہجے میں کہا

لیکن کیوں، اس میں کیا غلط ہے، اور تم مجھے بچپن سے جانتے ہو، تمہیں معلوم ہے میرے لئے یہ سب کتنا اہم ہے۔۔ عائشہ کا لہجہ ایکدم ہی ملتجی ہوگیا تھا

دیکھو عائشہ، تم بھی مجھے جانتی ہو، تمہیں معلوم ہے ممی کے سوشل ورک کے شوق کی وجہ سے میں نے اور ڈیڈی نے بہت سَفَر کیا ہے، میں اب اپنی زندگی میں ایسا کوئی تباہ کن مشغلہ شامل نہیں کرنا چاہتا جس سے میرا گھر میری فیملی ڈسٹرب ہو۔۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ ہم اس پر اتنی بحث کیوں کررہے ہیں کیا تم مجھ سے زیادہ اُن پینٹ برش سے پیار کرتی ہو۔۔ فراز نے نرمی سے کہا

تم جانتے ہو کہ میں کس سے کتنا پیار کرتی ہوں لیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ تم مجھے میرے اس جنون کے ساتھ قبول نہیں کر سکتے۔۔ عائشہ نے دکھ سے کہا

ٹھیک ہے پھر تم یہ سمجھ لو کہ محبت انسان سے قربانی مانگتی ہے، قربانی کے بغیر محبت ادھوری ہے۔۔ تو تم میرے پیار میں اپنے جنون کو قربان کردو۔۔ فراز نے اُسکی بات ہنسی میں اُڑا دی جیسے وہ کسی بچے کی بےبنیاد ضد ہو۔۔

تو میری محبت میں تم نے کیا قربان کیا ہے جس سے تمہاری محبت کامل ہوگئی ہے۔۔ عائشہ نے پوچھا۔
فراز کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔۔ 
عائشہ کا مارشمیلو کا قلعہ دنیا کی اِس تیز جلتی دھوپ کی حقیقت میں پگھل گیا، اُسکا چاکلیٹ کا بستر بہہ رہا تھا، ویفر کا تکیہ چورا چورا ہو چکا تھا۔۔ اور اُس کے فنکارانہ وجود پر جا بجا مارشمیلو چپک رہی تھی جس سے اُسکی اُنگلیاں جُڑ رہی تھی، اُس کے پیروں پر چاکلیٹ لتھڑی تھی لیکن سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا، اپنے خوابوں کے آسمان کو کانچ کی طرح بکھرتے ہوئے دیکھنا۔۔ ونڈرلینڈ ایک دم سے ہی اُس ظالم دیو کا قلعہ بن گیا تھا جہاں شہزادی کے جسم پر سوئیاں چبھو کر ، اُسکو اپنی خواہش کے مطابق قید رکھ کر دیو اُس سے محبت کا دعوی کرتا ہے، اور ایسی قید میں وہ اکیلے نہیں تھی۔
___________________________________________________

آج کیا کھلا رہی ہیں ڈاکٹر صاحب، ابّا اپنی واکنگ اسٹک ٹیکتے ہوئے آئے اور کچن کے سامنے بنے ہوئے ڈائننگ ہال میں بیٹھ گئے

وہی جو چھٹی کے دن آپ پسند کرتے ہیں۔ فضا نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا

ویری گُڈ۔۔ ابا بھی مسکرائے۔ ویسے پی ایچ ڈی آپ نے فائنانس میں کیا ہے لیکن صحت کا خیال آپ کسی ڈاکٹر سے بہتر رکھ لیتی ہیں۔۔ ابا نے کہا

شکریہ ابّا جان۔۔ آپ نے بھی تو مجھے ڈاکٹر صاحب کہہ کہہ کر جانے کہاں بٹھا رکھا ہے۔۔ اُس نے ناشتہ میز پر رکھتے ہوئے کہا اور خود بھی سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی

کہاں کیا بٹھایا رکھا ہے؟ آپ جس جگہ کے قابل ہیں بلکل وہیں رکھا ہے، آئی ایم پراؤڈ آف یو۔۔ اتنا تو مجھے آپ سے چھوٹے تینوں سپوتوں نے کبھی خوش نہیں کیا۔۔ بس میری یہ دعا ہے کہ اب آپ اپنی صحیح جگہ پہنچ جائیں۔۔  ابا نے آہ بھری

میں بلکل صحیح جگہ ہوں ابا جان۔۔ انشااللہ پیر سے میں ایسوسیٹ سے پروفیسر کی سیٹ پر پروموٹ ہوجاؤں گی۔۔ اُس نے خوشی سے کہا

انشااللہ کیوں نہیں اللہ آپ کو اور ترقی دے۔ یہ سب آپکی محنت کا ہی پھل ہے، ورنہ جس طرح آپکی اماں کے بعد آپ نے تینوں بھائیوں کے ساتھ اپنی تعلیم کو مینج کیا ہے وہ کوئی آسان بات نہیں لیکن بیٹا، ہر لڑکی کا اصل گھر تو اُسکا اپنا گھر ہوتا ہے۔۔ اب دیکھو تینوں بھائیوں کے بھی گھر بس گئے ہیں۔۔ ابا نے سمجھایا

ابا وہ موسم آ کرگزر گئے ہیں، اب یہی میرا گھر ہے، میرے پاس سب کچھ ہے۔۔ مجھے اب کیا ضرورت ہے نئے رشتوں کی۔۔ اُس نے بات ٹال دی

کون سے موسم گزر گئے؟ آپ ابھی بھی بہت ینگ اور فریش لگتی ہیں، معصومیت کا موسم آپ کے چہرے پر ٹھہر گیا ہے۔۔  ابا نے کہا

آج آپ یہ باتیں کیوں کررہے ہیں کہیں پھر سے پھپھو نے فون کر کے یہ سب یاد تو نہیں دلایا۔ فضا نے پوچھا

وہ کیا یاد دلائیں گی، میں یہ سب کبھی نہیں بھولتا میں چاہتا ہوں میری آنکھوں کے سامنے آپ کسی محفوظ  تعلق میں بندھ جائیں
ابا نے کہا

ابا میں بلکل محفوظ ہوں، میرے پاس فنانشل سیکیورٹی ہے، آپ ہیں، میرا علم ہے، میرے تین بھائی ہیں۔ اُس نے اپنے اطمینان کا احساس دلایا

لیکن یہ بھائی سب اپنے گھروں میں آباد ہیں، میری زندگی کا بھی کوئی بھروسہ نہیں، اور بیٹا ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں عورتیں شوہر کے ساتھ ہی محفوظ ہوتی ہیں۔۔ ابا کے لہجے میں عجیب سا اسرار تھا فضا کو کچھ محسوس ہوا

اچھا تو کیا آپ نے میرے لئے کوئی ایسا باڈی گارڈ دیکھ لیا ہے ، فضا نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو اُس کے مذاق پر ابا دیر تک ہنسے

ہاں، شاید تمہیں یاد ہو دو سال پہلے میرے ایک جاننے والے آئے تھے، تم سے اپنی پی ایچ ڈی کے لئے کچھ معاونت لینے۔۔ ابا نے کہا

جی جی ، اطہر صاحب مجھے یاد ہیں، اب بھی اکثر یونیورسٹی میں دکھتے ہیں۔۔ فضا نے کہا

ہمم۔۔ اکیلے ہیں وہ، ماں باپ ہیں نہیں اور بہن بھائی سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف۔۔ وہ چاہ رہے تھے کہ اگر اُن کا اور تمہارا۔۔  ابا کہتے کہتے چپ ہوگئے۔۔

اچھا، تو کیا وہ آپ کو میرے لئے ٹھیک لگتے ہیں، فضا نے پوچھا اور جانچتی ہوئی نظروں سے ابا کو دیکھا

میں حقائق پر مبنی بات کروں گا، تم بھی جانتی ہو کہ زندگی اکیلے گزارنا مشکل ہے۔۔ ابا نے کہا

اِس مشکل میں بھی میَں چالیس سال اکیلے گزار چکی ہوں ابا۔۔ فضا نے بات کاٹی

ہاں وہ بھی اتنے ہی سال اکیلے گزار چکے ہیں لیکن اگر پھر بھی وہ تمہیں زندگی 
میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو یہ میری نظر میں ایک اچھی بات ہے۔ وہاں تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ سسرال جیسا کوئی معاملہ نہیں ہے۔۔ بس ۔۔ ابا پھر چپ ہوگئے

کیا ہوا فضا جو اُنکی بات میں محو تھی چونکی

اُنکی ایک شرط ہے۔۔ ابا نے جھجکتے ہوئے کہا

کیا؟ فضا نے پوچھا

وہ چاہتے ہیں کہ تم نوکری نہ کرو   

کیا؟ یہ کیسی فضول شرط ہے؟ میں اتنی ترقی کر کے، اس مقام پر آ کے، اِتنا پڑھ 
لکھ کر تدریس کا پیشہ چھوڑ دوں۔۔ اُس نے حیرت سے کہا

ہاں، وہ کہتے ہیں کہ بلا ضرورت کیوں نوکری کرنا، وہ بینک میں بڑے اچھے عہدے پر ہیں، ابا نے اُن کا دفاع کیا

بات ضرورت کی نہیں ہے، میں نے نوکری اس لئے تو نہیں کی تھی کہ خدانخواستہ آپ میری ضرورتیں پوری نہیں کرتے تھے، شوق ہے میرا، اللہ نے مجھے علم دیا ہے، میرے پڑھائے ہوئے بچے بھی بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہیں، مجھے اس سے خوشی ملتی ہے۔ فضا نے کہا

دیکھو بیٹا، تم نے بہت محنت کی ہے، عمر گزار دی ہے اس سب میں اب تم اپنا گھر بناؤ، اور ہو سکتا ہے کہ ابھی اس بات پر مباحثہ کر کے شاید وہ تہمیں اجازت دے بھی سے مگر پھر تم ہی اپنی گھر داری میں لگ کر یہ نوکری نہ کرنا چاہو، اس لئے بہتر ہے کہ ابھی ہی۔۔ ابا کہہ رہے تھے اور اُسکی آنکھیں پانی سے بھر گئی تھیں۔۔ ابا اُسکی آنکھیں دیکھ کر شرمندگی سے چپ ہوگئے

ٹھیک ہے ابا مجھے آپ کی بات سمجھ آگئی کہ میری قابلیت اور میری خوشی صرف اس لئے اتنی ثانوی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ میں عورت ہوں اور میں خود سے کم پڑھے لکھے انسان کو اُسکی شرطوں پر زندگی میں اس لئے شامل کرلوں کیونکہ وہ مجھے تحفظ دے گا، اور مردوں کے معاشرے میں تحفظ دینے کا سب سے پہلا قدم ہے عورت کی آزادی چھین لینا۔ آپ اُنہیں ہاں کردیں۔ ٖ یہ کہہ کر فضا میز سے اُٹھ گئی ابا اسے جاتا ہوا دیکھتے رہے، اور اپنی بےبسی پر افسوس کرتے رہے
_____________________________________________________


عورت پر ہونے والے مظالم کی داستانوں کو بڑھا چڑھا کر سنانے والے لوگ اکثر اس حقیقت کو فراموش کرجاتے ہیں کہ ظلم صرف کسی عورت کو تیزاب ڈال کر جلانا یا جہیز کے نام پر مارنا پیٹنا نہیں ہے، معاشرے کے دوہرے معیار کی سوُلی پر ہر دوسرے دن کوئی عائشہ اور فضا لٹکائی جاتی ہے کبھی محبت جیسی لفاظی کے ہتھکنڈے استعمال کر کے تو کبھی خاندانی مجبوریوں اور عورت کی کمزوریوں کو نشانہ بنا کر۔۔ پھر ہم کس منہ سے کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت کی طرح ہم نے لڑکیوں کو دفنانے جیسی قبیح رسم کو چھوڑ دیا ہے، ہم تو اُن جاہلوں سے بھی چار ہاتھ آگے ہیں  جو اُنہیں زندہ رکھتے ہیں اور روز اُنہیں اس تکلیف کو محسوس کرنے دیتے ہیں کہ اُنہیں خواب دیکھنے کا کوئی حق نہیں۔ 

Friday, July 21, 2017

شاپنگ مالز بحیثیتِ تفریحی مقامات

موسم گرما کی طویل تعطیلات جہاں آغاز میں ایک لمبے آرام و سکون کی نوید لے کر آتی ہیں، وہیں گزرتے گزرتے اِن کا گزارنا مشکل ہوجاتا ہے اور آرام کر کر کے انسان اوب جاتا ہے۔ اسی لئے یہ تعطیلات اکثر متعدد پکنکوں اور تفریحی مقامات پر سیر و تفریح کی نذر ہوجایا کرتی ہیں۔ گو کہ بچپن گزرے کافی وقت نہیں ہوا اسلئے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے بچپن میں یہ تعطیلات کیسی ہوتی تھیں، امیّ تو صبح مرغے کی بانگ کے ساتھ اُٹھ جانے کی عادی رہی ہیں اور ایک بار وہ اُٹھ جائیں تو کسی کو سونے نہیں دیتیں تھیں، سو تعطیلات میں بھی ہم اکثر سویرے ہی اُٹھ جایا کرتے۔۔ مشترکہ خاندانی نظام کے کئی فائدوں میں سے ایک یہ بھی فائدہ تھا کہ گھر کے باہر جا کر کھیلنے کے لئے دوست نہیں بنانے پڑتے تھے، گھر کے صحن میں ہی سہولت سے سارا دن دھما چوکڑی مچائی جا سکتی تھی، پھر اسی اہتمام سے دن کے باقی کام ہوتے تھے جیسے آم کھانا، کھانے پر فرمائیشیں کرنا، اور ہوم ورک کرتے ہوئے ڈانٹ کھانا وغیرہ وغیرہ جب پھوپھی کے بچے اپنے گھر لوٹتے تو ہم بھی نانی کے گھر کو رختِ سفر باندھتے، نانی کے گھر کے مزے ہی اور ہوا کرتے ہیں، ویسے تو وہاں ہونا خود ہی ایک سیر و تفریح ہے پھر بھی ماموں اکثر یا تو قریبی پارکوں میں گھُما لاتے یا کبھی زیادہ موڈ میں ہوں تو ہم کسی بڑے تفریحی پارک بھی گھوم آتے۔۔ اسی طرح ایسی کئی تعطیلات میں ہم نے سمندر کی بھی خوب سیر کی ہے۔
 الغرض کوئی دس پندرہ سال پہلے بچوں کی تفریحات یہی تھیں اور اس کے لئے وہ بڑوں کی شمولیت کے بھی محتاج تھے۔ ایسی ہی طویل چھٹیاں اس سال بھی آئیں جیسی پچھلے چند سالوں سے آتی ہین جس میں نہ کوئی نانی کے گھر جا پاتا ہے، اور نہ کوئی پھوپھی کے بچے ہمارے یہاں آ پاتے ہیں، ٹیکنالوجی نے لوگوں کو ذہنی طور پر یہ باور کروادیا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں اتنے قریب کہ دنیا کے کسی کونے میں بیٹھے جب چاہیں ایک دوسرے تک مکمل رسائی حاصل کرسکتے ہیں، اور اسی جھوٹے احساس نے قرب اور فاصلوں کی معنویت کو مسخ کردیا ہے، ایسے حالات میں وہ دس سال پہلے والی ملاقاتوں اور باتوں کا تو سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے، مگر جس چیز میں ایک عجیب سا بدلاؤ آیا ہے وہ ہے ’’تفریحی مقامات‘‘ کراچی شہر کا بے ہنگم  ٹریفک تو ویسے ہی انسان کو باہر نکلتے ہوئے ہراساں کردیتا ہے اوپر سے شہر کے حالات اور خود کراچی والوں نے اپنے اعمال کی شامت سے اپنی زندگیاں مشکل بنا دی ہیں، پارکوں کو اب محفوظ نہیں چھوڑا کہ کوئی شخص کھُلی ہوا میں سکون کا سانس ہی لے لے، سمندر کو گٹر بنا دیا ہے، یعنی تفریح کی نیت سے باہر نکلنے والا شخص اچھا خاصا ذہنی دباؤ لے کر گھر لوٹے۔۔
جی تجربہ  کچھ ایسا ہی عجیب تھا جب میَں نے ایک دن کسی جگہ گھوم آنے کا سوچا، اور ہر ممکن طریقے سے اس سوچ کو پوار کرنے کی تگ و دو کی۔۔ لیکن تمام لوگوں کی مشترکہ رائے ایک نئے شاپنگ مال جانے کی تھی جبکہ جہاں تک میری معلومات تھی خریدنا تو ہمیں کچھ نہیں تھا! خیر وہاں جا کر معلوم ہوا کہ خریدنے تو یہاں کوئی نہیں آتا سو ہم بھی اعتماد سے ادھر ادھر گھومتے رہے اور اے سی کی ہوا کھاتے رہے۔ 




                                             


تشویش تب ہوئی جب بصیرت وہ دکھانے لگی جو وہاں موجود اور گھر بیٹھے لوگ جو ان شاپنگ مالز کو تفریحی مقام سمجھتے ہیں وہ نہیں دیکھ پاتے۔ ایشیا کے سب سے بڑے مال میں  جہاں ایک کونے سے دوسرے کونے تک مہنگے برانڈ کی دکانیں ہیں مگر خریدنے والے دور دور تک نہیں! ہوں بھی کیسے جب کراچی کی اسّی فیصد آبادی کی قوتِ خرید ہی اتنی نہیں، جہاں غریب لوگ عیدوں پر بھی نئے کپڑے نہیں بنا پاتے وہ عید کے دن تیار ہو کر ایسے ہی کسی مال میں پہنچ جاتے ہیں اور دس دس ہزار کے مہنگے جوڑے دیکھ کر حسرت کرتے ہیں، سیلفیاں بناتے ہیں اور واپسی میں سوئیٹ کارنز کھا کر آجاتے ہیں بعد ازاں فیسبک پر ایک اسٹیٹس لگایا جاتا ہے کہ فیلنگ یہ فیلنگ وہ۔۔  
بچپن میں برکاتِ حیدری مارکیٹ  سے ملحق ایک مسجد کی دیوار پر حدیث  پڑھی تھی کہ
 بستی کے بدترین مقامات اُن کے بازار ہیں

تب یہ بات سمجھ نہیں آئی تھی، اُس وقت یہ سوچا تھا کہ شاید بازار میں اکثر لوگ فضول خرچی کرجاتے ہیں تو اسی لئے یہ بد ترین مقام ہوتے ہونگے، مگر اب ان شاپنگ مالز میں دعوتِ نظارا بن کر آنے والی بچیوں کو دیکھ کر اُس حدیث کا ہر لفظ ہتھوڑے کی طرح سر پر لگتا ہے۔
یہ ایک برائی کتنی برائیوں کو جنم دے رہی ہے، ہماری نسلیں کس بے اراہ روی کی طرف گامزن ہیں، دکھاوا اور نمود و نمائش جیسی مہلک بیماری ان کی زندگیوں کا لازمی حصہ بن گئی ہے، آنکھوں سے حیا مکمل جاتی جا رہی ہے۔ 
تہذیب، ثقافت اور مذہبی ضابطوں کی بات تو بہت بعد کی ہے، ہم تو اپنی بنیادی سماجی اقدار کو بھی پیچھے چھوڑ آئے ہیں، یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ان اقدار کو پیچھے چھوڑنے سے ہم آگے نہیں بڑھتے بلکہ پاتال میں پہنچ جاتے ہیں۔۔ اور پاتال میں پچھتاوں کا ایک گہرا اندھیرا ہے۔ 
ایک بزرگ یہ واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ اُن کے پاس ایک نوجوان یہ مسئلہ لے کر آیا کہ روزانہ اُس کے راستے میں بازار پڑتا ہے اور وہ بد نظری سے نہیں بچ پاتا، بزرگ نے اُسکو دودھ سے بھرا ایک گلاس دیا اور کہا کہ تم  بازار سے گزرو تو اس بات کا دھیان رکھنا کہ دودھ نہ چھلکے، نوجوان دونوں ہاتھوں میں دودھ تھامے رہا اور نظر دودھ سے ہٹنے نہ دی، ایک قطرہ بھی چھلک نہ پایا۔ سرشاری کی سی کیفیت میں بزرگ کے پاس پہنچا بزرگ نے کہا آج خود سے بد نظری کی شکایت تو نہ ہوئی، نوجوان نے کہا میرا دھیان دودھ سے ہٹ ہی نہ سکا جو کسی اور طرف جاتا۔ بزرگ نے کہا کہ اگر تم روزانہ بازار سے گزرتے وقت آخرت پر اور اللہ کے سامنے جواب دہ ہونے پر ایسے ہی دھیان رکھو تو بھی نظر اُٹھ نہ پائے گی۔۔

یہ بات تو طے ہے کہ ہم نے اللہ کے حضور اپنی جواب دہی کو یکسر فراموش کردیا
 ہے۔ اور اس کے نتائج ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں بھگتنے پڑ رہے ہیں، رشتے ہوں یا رزق برکت اٹھتی جا رہی ہے۔ ہمارے بچے اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کا استعمال غیر نافع چیزوں کے لئے کرتے نظر آتے ہیں، سوچوں میں ایک عجیب انتشار کی سی کیفیت رہتی ہے۔۔
لیکن ہم سکون کی تلاش میں پھر اُنہی چیزوں کا رُخ کرتے ہیں کو فطرت سے بلکل اُلٹ ہیں
شاپنگ مالز جیسی رنگین جگہوں کو تفریحی مقامات بنانے کے بجائے انسان کا تعلق قدرت، قدرتی مناظر اور ان سب کے پیدا کرنے والے سے جوڑنا چاہیے، اس ضمن میں ماں باپ اور اہلِ خانہ کی ذمہ داری بہت زیادہ بنتی ہے کہ وہ چھوٹوں کو تفریح کے لئے مثبت مواقع فراہم کریں اور اُنہیں ایسی چیزوں سے متاثر نہ ہونے دیں۔ مگر اس سب کے لئے پہلے ماں باپ خود اپنی سوچ کا احتساب کریں کہ کہیں وہ بھی ایسی ہی وقتی اور سستی تفریح کے لئے طویل مدتی نقصان اُٹھانے کے حامی تو نہیں

اللہ  ہم  سب  کو  ہمارے  نیک  مقاصد  میں  کامیاب  کرے  اور  ہمیں  معاشرے  کی  فلاح  کے  لئے  فعال  کردار  ادا  کرنے کی  توفیق  دے۔ 
  آمین  

Saturday, April 1, 2017

الإجابة من طرف القرآن الكريم

جائے  نماز  پر  بیٹھا  لڑکا  عجیب  شش و پنج  کا  شکار  تھا،  اُسکی  زندگی  حاصل  اور  لا حاصل  کا  ایک  عجیب سا  امتزاج  تھی، دیکھو  تو  نعمتوں کا  ایک  انبار تھا  جس  کی  وجہ  سے  ایک  دنیا  اُسکی  گرویدہ  تھی۔۔ سوچو  تو  محرومیوں  کا  ایک  نا  ختم  ہونے  والا  اندھیرا  تھا۔۔ جس  سے  لڑتے  لڑتے  اُس  نے  اب  تک  کا  سفر  طے کیا  تھا  اور  ہمیشہ  کوشش  کی  تھی  کہ  اپنے  اندر  کے  اندھیرے  کو  دوسروں کی  زندگی  میں  روشنیاں  بھر  کر  ختم  کرنا ہے۔۔

وہ  رونا  چاہ  رہا  تھا  مگر  رو  نہیں پا  رہا  تھا اور  جب  رونا  نہیں  چاہتا  تھا  تو  آنسو  اُبلنے  لگتے  ۔۔ یقین  اور  بے  یقینی  کے  درمیان  دل  ڈانواڈول  ہورہا  تھا۔۔ ایمان  کا  تقاضا  تھا  کہ  راضی  بہ  رضا  رہا  جاتا۔۔ اور  فطرت  میں  اس  قدر  اِرتعاش  کہ  فیصلہ  کے  انتظار  کی  کوئی  گنجائش  نہ  تھی۔۔
مگر  وہ  اللہ  سے  سوال  کررہا  تھا  اُن  تمام  الجھنوں  کا  جن  میں  وہ  پھنسایا  گیا  تھا، ایسے  سوال  جن  میں شکوہ نہیں  تھا۔۔ آزردگی اور  افسوس  تھا،  خوف  تھا  کہ  کہیں  وہ  غلطی  پر  تو  نہیں۔۔
خوف  تھا  کہ  اگر  اُس  کا  سر  جھکا  تو  حق  کا  سر  جھک  جائے  گا۔۔ وہ  اُس  کے  قرآن  پڑھنے  کا وقت  نہ  تھا مگر  اُس کا  جواب  تو  اللہ  نے  قران  میں  پہلے  ہی  لکھ  دیا  تھا تو  وہ  آنسو  روکنے  اور  ٹپکانے  کی  سعی کرتا  ہوا  قرآن  اُٹھا  لایا  اور  ایک  سورۃ  میں  اُسکو  سارے  ہی  جواب  اللہ  نے  دے  دئے  تھے

حق  کے  لئے  آواز  اُٹھانا  قطعی  مشکل  نہیں،  مشکل  اُن  حالات  کا  سامنا  ہے  جو  اُس  آواز  کے  گونجنے  سے  انسان  سے  آ  ٹکراتے  ہیں۔۔ لیکن  انسان  اللہ  کے  بھروسے  وہ  بھی  کر  گزرتا  ہے۔۔ اُس  نے  بھی  یہی  کیا  تھا۔۔  اپنے  آس  پاس  کے  لوگوں  کے  لئے،  وہ  تو  اِس  جھگڑے  میں  کہیں  تھا  ہی  نہیں۔۔ مگر اُسے  اس  ہی  بات کی  سزا  دی  گئی۔۔ کیونکہ  اسکا  یقین  تھا  کہ  دنیا  کی  زندگی  محض  دھوکہ  ہے  اور ہم  یہاں  آسائش  کے  لئے  نہیں  آزمائش  کے  لئے  بھیجے  گئے  ہیں اور  ہو  سکتا  ہے  کہ  اللہ  اس  سے  یہیں  آزما  رہا  ہو،  وہ  اللہ اور رسول اللہ  ﷺ  کی  بتائی  ہوئی  باتوں کو صرف  لوگوں  پر  رعب  جھاڑنے  کے  لئے  نہیں  کرتا تھا۔۔ اُنہیں  دل  سے  مانتا  تھا۔۔ اسلئے  وہ  نڈر  تھا
 ڈرنا  تو اُنہیں  چاہیے  جو  لوگوں  کے  سامنے اللہ  کا  نام  لیتے ہیں  مگر  لوگوں  کے  خوف  اور  وقتی  فوائد  کے  لئے  دنیاوی فرعونوں  کے  مقرب  بنے  رہتے  ہیں،
قرآن  کے ورق اُس  کے  آنسوؤں  سے  بھیگتے  رہے اور  اُسکا  دل  قرآنِ  مبین  کی  روشنی  سے  پُر  ہوتا  گیا۔۔

لوگوں  کے  مکر  اور  جھوٹی  دوستی نے  مجھے  کس  قدر  نقصان  پہنچایا

اللہ سبحانہ  و  تعالیٰ نے سورۃ  فاطر  میں  فرمایا 
اﷲ انسانوں کے لئے (اپنے خزانۂ) رحمت سے جو کچھ کھول دے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے، اور جو روک لے تو اس کے بعد کوئی اسے چھوڑنے والا نہیں، اور وہی غالب ہے بڑی حکمت والا ہے  آیت  نمبر دو


  لوگوں  کے  مجموعے  کو  کوئی  بھی  عام  سماجی معاشی  یا  ذاتی  صورتحال  بتائی  جائے  تو  وہ  فوراً  آپکو  بتا  دیں  گے  کہ  یہ  کہاں  تک  حق  ہے  اور  اس  میں  کس  قدر  حق  تلفی  ہے۔۔ مگر  جب اُس  حق  تلفی  کی  خلاف ورزی  کرنے  کے  لئے  اکھٹا  ہونے  کا  وقت  آئے  تو  ہر کوئی  مجبوریاں  بیان  کرنے  لگتا  ہے۔۔ کوئی  ضرورتوں  کا  رونا  روئے  گا۔ کوئی  اپنے  تعلقات  کی  دہائیاں  دے  گا۔۔ 
اللہ  کی  وحدانیت  کی  چیخ  چیخ  کر دہائیاں دینے  والے  لوگوں  کو یہ  یاد  کیوں  نہیں آتا  کہ  رازق  اللہ  ہے،  اُس  سے  ڈرنا  انسان  کی  سب  سے  بڑی  ضرورت  اور  مجبوری  ہے  اور  یہی تعلق  باقی  تمام  تعلقات  پر  بھاری  ہے۔۔ اور  دنیا  میں  ملنے  والے  تمام  فائدے  اور  نقصانات  کس  قدر  عارضی  ہیں

اے لوگو! بیشک اﷲ کا وعدہ سچا ہے سو دنیا کی زندگی تمہیں ہرگز فریب نہ دے دے، اور نہ وہ دغا باز شیطان تمہیں اﷲ (کے نام) سے دھوکہ دے۔ سورۃ فاطر  آیت  نمبر ۵

لیکن  انسان  اپنے  ہر  غلط عمل  کا  ایک جواز  رکھتا  ہے  کیونکہ  اُسکی  نظر  میں  اُس ہی  کا  عمل  صحیح  ہے،  لیکن انسان  یہ  کیسے  بھول  جاتا  ہے  کہ  وہ  خدا  کو  دھوکہ  نہیں  دے  سکتا 

 سو بیشک اﷲ جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے، سو (اے جانِ جہاں!) ان پر حسرت اور فرطِ غم میں آپ کی جان نہ جاتی رہے، بیشک وہ جو کچھ سرانجام دیتے ہیں اﷲ اسے خوب جاننے والا ہے ۔  آیت  نمبر ۸

وہ  اللہ  سے  اپنے  تقدس  کا  سوال  کررہا  تھا  اور  فریب کاروں  کی  چالوں  سے  پریشان  تھا

جو شخص عزت چاہتا ہے تو اﷲ ہی کے لئے ساری عزت ہے، پاکیزہ کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور وہی نیک عمل(کے مدارج) کو بلند فرماتا ہے، اور جو لوگ بری چالوں میں لگے رہتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر و فریب نیست و نابود ہو جائے گا،  آیت  نمبر  ۱۰

وہ  حیران  تھا  کہ  زبان  زدِ  عام  ایک  محاورے  کی  طرح  کہیں  وہ  بھی  تو  کسی  کا  کیا  نہیں بھگت  رہا،  کہیں  یہ  اُس  سے  پہلے  والوں  کے  گناہ  تو  نہیں  جو  اُس  پر  آپڑے  ہوں؟

اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بارِ (گناہ) نہ اٹھا سکے گا، اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا (دوسرے کو) اپنا بوجھ بٹانے کے لئے بلائے گا تو اس سے کچھ بھی بوجھ نہ اٹھایا جا سکے گا خواہ قریبی رشتہ دار ہی ہو، (اے حبیب!) آپ ان ہی لوگوں کو ڈر سناتے ہیں جو اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کوئی پاکیزگی حاصل کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے پاک ہوتا ہے، اور اﷲ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے،  آیت  نمبر  ۱۸

پھر  وہ  کیوں  اُن  لوگوں  سے  کٹ  گیا  تھا  جن  کی  بھلائی  کے  لئے  اور  حق  تلفیوں  کے  لئے اُس  نے  آواز  اُٹھائی  تھی،  اُسکو  کنارے  کیوں  لگیا  گیا،  وہ  اُن  میں  سے  ایک  کیوں  نہ  تھا؟

اور اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے،    آیت  نمبر ۱۹

پھر  لوگ  کیوں  نہیں  سمجھتے  کیسے  بہک  جاتے  ہیں؟

ان میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے درمیان میں رہنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے اﷲ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والے بھی ہیں، یہی (آگے نکل کر کامل ہو جانا ہی) بڑا فضل ہے،  آیت نمبر  ۳۲

کون  جانتا  ہے  کہ  میَں  نے  اپنے  کام  سے  اور  اپنے  ہر  عمل  سے  کس  قدر  دیانت  کا  مظاہرہ  کیا  تھا،  ہر  عدالت میں،  مَیں  ہی  غلط  گردانا  جاؤں  گا۔۔ اُس  نے  دکھ  سے  سوچا

بیشک اﷲ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جاننے والا ہے، یقیناً وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں سے خوب واقف ہے،  آیت  نمبر  ۳۸

کیا  لوگ  یہ  سمجھتے  ہیں  کہ  وہ  لوگوں  کا  حق  مار  کر بھی  ہمیشہ  اقتدار پر  قائم  رہ  سکیں  گے،  اور  اُنکو  کوئی  طاقت اُنکی  جگہ  سے ہلا  نہیں  سکتی؟

کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں ہیں کہ دیکھ لیتے کہ اُن لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو اِن سے پہلے تھے حالانکہ وہ اِن سے کہیں زیادہ زورآور تھے  آیت  نمبر  ۴۴

تو  اللہ  حساب  کیوں  نہیں  کرتا  فیصلہ  کیوں  نہیں  سُنا  دیتا۔۔ وہ  کیوں  چھوڑے  رکھتا  ہے  ایسے  لوگوں  جو  دوسروں  کو  کلفت  اُٹھانے  پر  مجبور  کرتے  ہیں؟

وہ انہیں مقررہ مدّت تک مہلت دے رہا ہے۔ پھر جب ان کا مقررہ وقت آجائے گا تو بیشک اﷲ اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے،  آیت  نمبر  ۵۴  

اور  یہ  اللہ  سے  اُسکی  آخری  جرح  تھی،  اللہ  کا  وعدا بے  شک سچا  ہے  تو  پورا  ہوگا۔۔ اللہ  اُنہیں اپنی  منشاؑ  اور  اُنکے  فیصلے  کی  گھڑی  تک  کی  مہلت  دیتا  ہے،  جب اللہ  چاہے  گا  حق  اور  باطل  کا  فیصلہ  کردے  گا۔۔ 

کیونکہ  سورۃ  سبا  میں  بھی  اللہ  تعالی  کا  ارشاد  ہے  کہ
اے  محمد ﷺ فرما دیجئے: ہم سب کو ہمارا رب جمع فرمائے گا پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا، اور وہ خوب فیصلہ فرمانے والا خوب جاننے والا ہے،  آیت  نمبر  ۲۶


Saturday, March 11, 2017

عصرِ حاضر کے ابلیس

دینِ  اسلام  کی  تاریخ  کے  تین  اہم  واقعات  جو  انسانی  کردار  کی  تعمیر کے 
 لئے  اپنے  اندر  بہت  بڑی  مثالیں  رکھتے  ہیں  وہ  بلترتیب 
۔1 ابلیس  کا  تکبر  تھا،  جس  نے  اُسے  جنّت  سے  نکلوایا  تھا۔۔ حیرت  کی  بات  یہ  ہے  کہ  ابلیس  اس  واقعے  سے  پہلے  جن  ہونے  کے  باوجود  فرشتوں  کا  سردار  تھا،  کیونکہ  اُسکی  عبادت  اللہ  کے  حضور  مقبول  تھی  مگر  صرف  احساسِ  برتری  کے  زعم  نے  اُسکو  حکم  عدولی  کا  مرتکب  کیا۔۔
ایسے  ابلیس  ہمارے  درمیان  بھی  ہر  جگہ  موجود  ہوتے  ہیں،  جو  دین  کا  لبادہ  صرف  اسلئے  اوڑھتے  ہیں  کہ  لوگوں  پر  اپنے  اچھے  اعمال  کی  دھاک  بٹھا  سکیں۔۔  ہم  انسانوں  کے  بارے  میں  رائے  قائم  کرنے  میں  اتنی  جلدی  کردیتے  ہیں کہ  جب  انسان  گرگٹ  جیسے  رنگ  دکھاتا  ہے  تو  ہم  دنگ  رہ  جاتے  ہیں  کہ  ایک  چہرے  کے  آگے  کتنے  نقاب  ہیں،  حیرت  ہوتی  ہے  کہ  ایسے  لوگ  اپنے  منہ  سے  اللہ  کا  نام  کیسے  لے  لیتے  ہیں۔۔
ہمارے  محلے  میں  ایک  صاحب  سرکاری  افسر  تھے، اُنکے  بارے  میں مشہور  تھا  کہ دنیا  کا  کوئی  ایسا  عیب  نہیں  جو  اِس  شخص  میں  نہ  ہو،  اور  کوئی  ایسی  بری  عادت  نہیں جو  انکو  نہ  ہو۔۔ شراب  سے  لے  کر  غریبوں  اور  مظلوموں  کو  طیش  میں آکر  پیٹ  دینے  تک  محلے  والے  اُنکے  تمام  عیوب  کے  گواہ  تھے، مگر  سب  اُن  سے  اچھی  علیک  سلیک  رکھنے  پر مجبور  تھے  کیونکہ  وہ  بالآخر ایک  اثر  و  رسوخ رکھتے تھے ۔۔ ایک  دن  محلے  کی  ایک  خاتون نے  بتایا  کہ  اُن صاحب  نے میرے  شوہر  کا  کام  نکلوانے  سے  منع  کردیا  کہا  کہ  میں اوپر  کی  کمائی  لے  کر ہاتھ  گندے  نہیں  کرتا۔۔ خاتون  بڑی  ناراضگی  کا  اظہار  کرتے  ہوئے  بولیں  کہ ’’ پارسا  تو  ایسے  بن  رہے  ہیں  جیسے  ہم  انکی  اصلیت  نہیں جانتے‘‘  اُس  وقت  تک  باقی  محلے داروں  نے بھی  یہی  خیال  کیا  کہ  یقیناً  اُن  میں یہ  برائی  بھی  لازمی  ہوگی۔۔ پھر  کچھ  دنوں  بعد  محلے  کی  ایک  تقریب  میں  لوگوں  نے دیکھا  کہ  کھانا  ختم  کر  کے  جہاں  باقی  لوگ  غیبتیں اور  عیب  جوئی  میں  مشغول  تھے۔۔  وہیں  وہ  صاحب  اللہ کا  شکر  ادا  کررہے  تھے۔۔ ایک  سیکنڈ  کے  ہزارویں  حصے  میں  میرے  ذہن  میں  یہ  خیال  آیا۔۔ کہ  شاید اللہ  اِنکو  اس  عمل  کی  وجہ  سے  بخش  دے  گا  اور  ہم  سب  پکڑے  جائیں گے۔۔
 اللہ  تبارک و  تعالی  نے  حضرت  موسیٰ  سے  کہا  تھا  کہ  خود  سے  کمتر  کوئی  تلاش  کر  لاؤ۔۔ اور  سارا  دن  تگ  و  دو  کرنے  کا  بعد بھی حضرت  خالی  ہاتھ  لوٹے  اور  فرمایا  کہ  یا اللہ  میں  نے  خود  سے کمتر  کسی  کو  نہ  پایا۔۔ اللہ سبحانہ  وتعالی  نے  ارشاد کیا  کہ  اگر تم  بکری  کا  بچہ  بھی  لے  آتے  تو  پیغمبری  منصب  کے اہل  نہ رہتے ۔۔ اللہ  تو  جانتا  ہی  تھا  کہ  اُسکے  مبعوث  کئے ہوئے  نبی  معمولی  سے  معمولی  اخلاقی  کمزوری  بھی  نہیں رکھتے۔۔ مگر اس  واقعے  کے  باعث  رہتی  دنیا  تک  کہ انسانوں  کے  لئے  ایک  سیکھ  بھیج  دی  کہ  کبھی  خود  کو  برتر  و  بہتر  نہ سمجھو  کیونکہ  یہ  ابلیسیت ہے۔۔  

۔2 حضرت  آدم  علیہ سلام  کی  جنت  سے  رخصتی۔۔ اس واقعے  سے  ہمیں  یہ  سبق  ملتا   ہے  کہ  اللہ  کی  برگزیدہ  ہستیاں  بھی  انسان  ہونے  کی  حیثیت  سے  غلطیوں  کا  ارتکاب  کرسکتی  ہیں  اور  اللہ  اُنہیں  بھی ان  غلطیوں  کے  لئے   خاص  طریقوں  سے  گنجائش  دیتا  ہے۔۔ بے  شک  مکمل  اور بے  عیب  صرف  اللہ  کی  ذات  ہے۔۔ اور  انسان کی غلطیاں  اور  اُن  غلطیوں  پر  ندامت  ہی  اُسے  انسان بنائے  رکھتی  ہے۔۔ یہ  احساس  کہ  غلطی  کبھی  ہماری  ہو  ہی  نہیں  سکتی  ہمیں  صرف  پھاڑ  ماس  کے  ابلیس  بناتی  ہے ۔۔ 
 انبیاؑ  اکرام جیسی  ہستیوں  نے  بھی  اللہ  کے  حضور  اپنی  غلطیوں کا  اعتراف  کیا اور  یہی  اعتراف  انسانیت  کی  معراج  ہے۔۔
 یہ اعتراف  دراصل  اِس  بات  کی  نشاندہی  ہے  کہ  انسان  اپنے  اعمال  کے  معاملے  میں  اللہ  سے  ڈرتا  ہے نہ  کہ  اس  بات  سے  کہ  لوگ  اِن غلطیوں  کے  بعد  اُسے  کس  طرح  سے  دیکھیں  گے۔۔ لوگوں  کا  خوف  رکھنے  والے انسان  ایک  برائی  کو  دوسری  برائی  سے  چھپاتے  چلے  جاتے ہیں  کیونکہ  اس  سے  اُنکی  جھوٹی انا  کو  تسکین  ملتی  ہے۔۔ اور  یہی  عمل  دہراتے  دہراتے  وہ  اللہ  کی  رحمت  سے  دور  اور  اخلاقی  پستی  کے  دلدل  میں  دھنستے  چلے  جاتے  ہیں۔۔ اور پھر  خود  کو  غلط  نہ  ماننا  انسان  کو  اُس  ہی ابلیسیت  تک لے  جاتا  ہے۔۔ 
دینِ  اسلام  کی  عظیم  ہستیوں نے  جن  میں  سے  چند  کو  اللہ  تبارک  و  تعالی  نے دنیا  ہی  میں جنت  کی  بشارت  دے  دی تھی۔۔ اپنی زندگیاں  اللہ  کے  خوف  میں  رو  رو  کر  اور  حقوق اللہ اور  حقوق العباد  کو پورا  کرتے  ہوئے  گزاری  ہیں۔۔۔ تو  ہم صرف دن  میں  پانچ  بار  زمیں  پر  سر  مار کر  کس  زعم  میں مبتلا  ہیں۔؟  
چہروں  پر  نقاب ڈال  کر  سمجھتے ہیں کہ  ہمیں  پرہیزگاری  کا  سرٹیفکیٹ  مل  گیا۔۔ مگر  جب  منہ  کھولتے  ہیں  تو فرعونیت  بھی  شرمندہ  ہوجاتی  ہے۔ 
لوگوں کو لتاڑ  لتاڑ  کر  دین  سکھاتے  ہیں  مگر  خود  عالم  بے  عمل کی  زندہ  تصویر  ہیں
۔3 تیسرا  اہم  واقعہ  بھی  ہم  پچھلے  دو  واقعات کی طرح  ہمیشہ  سے  سنتے  آئے  ہیں  مگر  اُس کے  معنی  اخذ  کرنے  میں  اکژ لوگ  چُوک  جاتے  ہیں۔۔
 انسانیت کا  پہلا  قتل  جو  ایک  بھائی  نے  اپنے  بھائی  کا  کیا۔۔۔ ہابیل  کے قتل  کا  بہانہ  شاید ایک عورت  رہی  ہو مگر  اسکے  پیچھے  جو  جذبہ  کار  فرما  تھا  وہ  حسد  اور  رقابت کا  تھا۔۔  اللہ  کے  حضور  ہابیل  کی  قربانی  کا  قبولیت۔۔ اور  قابیل  کی  بددیانتی  کی  نشاندہی نے  قابیل  کو  اللہ  کی  قدرت  اور  اُسکی  لازوال  بادشاہت  کا  اقرار  کرنے  کے  بجائے اپنے سے  زیادہ  بہتر  اور  دیانت  دار  شخص  کا  دشمن  بنا  دیا۔۔ پس  تب سے  اب  تک  دنیا  میں  یہ  رواج  قائم  رہا  ہے  کہ  اگر  آپ  کسی  کی  طرح نہیں بن  سکتے  یا  اللہ نے  آپکو  اُس سے  مختلف  چیزوں میں  بہتر  بنایا  ہے  تو  آپ  اُس  سے  نفرت کرلیں۔۔ اور  جب  موقع  ملے  اُسکی  گردن  اُڑا  دیں۔۔ اور  یہ  ابلیسیت کی  معراج   ہے جسے لوگ عصرِ حاضر میں  اپنی عقلمندی  اور کامیابی  گردانتے  ہیں 

دینِ  اسلام  کی  تاریخ  صرف  دینِ  اسلام  کی  نہیں  بلکہ  بلا مبالغہ  تمام  انسانیت  کی  تاریخ  ہے،  اور  انسان  کی  تخلیق  سے  لے  کر  اب تک  انسان  کے  سامنے  آنے والے  تمام ممکنہ چیلنجز  کے  لئے  ایک  استاد  کی  حیثیت  رکھتی  ہے اور اُسکے  کردار  کی  تعمیر  کے  لئے   بھی  یہ  ایک  بہترین  رہنما  ہے۔  مگر  اس  رہنمائی  اور  اس  استاد  سے  مستفید ہونے  کے  لئے  خود  انسان  کا  ایمان  مضبوط  ہونا  چاہیئے  کیونکہ  ایمان  ہی  وہ  روشنی  ہے  جو  انسان کا  اندر  شفاف  رکھ  سکتی  ہے،  بغیر  ایمان  کے  انسان  کچھ  نہیں۔ 
 دنیا میں  بڑھتی  ہوئی  برائیاں  اور  نفسا  نفسی کا  یہ  عالم  ہے  کہ انسان  کو  اپنے  مفاد کے  علاوہ  کچھ  نہیں  سوجھتا۔۔ وہ  زمانہ  بھی  آ  ہی  پہنچا  ہے  کہ  اولاد  والدین  سے  اور  والدین  اولاد  سے  مخلص  نہیں۔۔  اِسکی  دو  وجوہات  جو  میں  نے  اپنے  تجربے  اور  عقل  سے  اخذ کی  ہیں  وہ  یہ  کہ
۔1  ہم  انسانوں  میں  اللہ  کا  خوف  ختم  ہوتا  جا  رہا  ہے۔۔ ہم  منہ  زبانی  تو  اللہ  اللہ  کرتے  ہیں  مگر  جب  عمل  پر  بات  آتی  ہے  تو  ہم  دنیاوی  مفاد  کو  ترجیح  دیتے  ہیں۔ انسانوں  کا  بد ترین  طبقہ  وہ  ہے  جو  دنیاوی  مفادات  کو  دین کے  چغے  میں  لپیٹ  کر پیش  کرتا  ہے۔
۔2  دوسری  وجہ  پہلی  وجہ  کا  ہی  نتیجہ  ہے،  ہم  یہ  بھول  جاتے  ہیں  کہ  ہمیں  واپس  اللہ  کے  حضور  جانا  ہے  جہاں  حقوق  اللہ  اور حقوق  العباد  کی  جواب  دہی  کرنی  ہوگی
نتیجتاً  یہ کیفیات  اُنہیں  غیر محسوس  طریقے  سے  بد اخلاق  بنا  دیتی  ہے
رسول اللہﷺ  نے  فرمایا : کیا  میں  تمہیں  جہنمی لوگوں  کے  بارے  میں  نہ   بتاؤں؟  ہر  سخت  مزاج ، بد اخلاق  اور  تکبر کرنے والا ،  جہنمی  ہے۔


ملک  اور  قوم  اور  دیگر  چھوٹے  بڑے  اداروں میں  رذیل  لوگوں  کی  حکمرانی  اور  شرفاٴ  کا  استحصال،  دین  کے  نام  پر  دنیا  کا  کمایا  جانا،  خائن  کو  امانتدار  اور  امانتدار  کو  خائن  سمجھا  جانا،  قیامت  کی  بہتّر  بڑی  نشانیوں  میں  سے  چند ہیں۔۔
قیامت  قریب  ہے،  اور  یہ  جیسے  جیسے  قریب  آتی  رہے  گی۔۔ ابلیسیت  کا  دور  دورہ  ہوگا  اور ہر  وہ  شخص  جو  خیر  کا  کام  کرے  گا  اور حق  بات  بولے  گا  وہ  رگڑے  میں آتا  رہے  گا۔۔  اللہ  ہمیں  ان  فتنوں  اور  ایسے  منافقین  کے شر  سے  محفوظ  رکھے۔۔
اللہ  ہم  سب  کو  ہمارے  نیک  مقاصد  میں  کامیاب  کرے  اور  ہمیں  معاشرے  کی  فلاح  کے  لئے  فعال  کردار  ادا  کرنے کی  توفیق  دے۔ 
  آمین 

Best Blogs

Reflective Journal ربوبیت کا

انسان  کے  لئے  دنیا  میں  جو  چیز سب  سے  زیادہ  اہم  ہے  وہ  ہے  ’’تعلق‘‘ خواہ  وہ  خونی  رشتے  ہوں،  معاشرتی  تعلقات،  یا  ارد  گرد  کے  ...