Sunday, June 10, 2018

عالمی یومِ بحر ۲۰۱۸


عالمی یومِ بحر ۲۰۱۸ ؁


پلاسٹک سے ہونے والی آلودگی کی روک تھام
اور
سمندر کو صحت مندبنانے کی تجاویزات کی حوصلہ افزائی




خالقِ کائنات نے بھی دنیا کو کس قدر بیش قیمت نعمتوں سے مالا مال کررکھا ہے، حیرت انگیز طور پر ان نعمتوں کا صحیح توازن ہی اس کرّہ ارض کی بقا کا واحد راستہ ہے مگر بنی نوع انسان نے اپنی تمام تر صلاحیات کا استعمال کر کے اس توازن کو حتی الامکان بگاڑے رکھا ہے، بلاشبہ قدرتی وسائل کے معاملے میںیہ لاپرواہ رویہ ایک گھاٹے کاسودا ثابت ہوا ہے اورفی زمانہ ان نعمتوں کا بیان کسی خسارے کی روداد سا بن گیا ہے۔۔ اور میں بھی ایسی ہی ایک روداد ہوں۔
میَں بحرِ ہند کے وسیع و عریض دامن کا ایک حصہ ہوں، جو شمال مغرب کی سمت سے جنم لے کر بھارت، عمان، پاکستان اور یمن کے درمیان بہہ رہا ہے، میَں خلیجِ عمان کوپانی کی پتلی سی گزرگاہ ’’ہرمز‘‘ کی مدد سے خلیجِ فارس سے جوڑنے کا ذریعہ ہوں، یہی نہیں بلکہ جنوب مغربی سمت سے میں خلیجِ عدن کو ریڈ سی سے جا ملاتا ہوں۔۔ جی ہاں۔۔ میں بحیرۂ عرب ہوں!

میری اہمیت و افادیت سے کسی کو انکار نہیں ، خود قرآن مجھے اللہ کی نعمتوں میں شمار کر کے سورۃ النحل کی آیت ۱۴ میرا ذکر اس طرح کرتا ہے کہ
’’اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں۔ اور اس لیے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو تاکہ اس کا شکر کرو‘‘ ۔
اس آیت میں اللہ تعالی سمندر کو ایک فائدہ مند وسیلے کے طور پر پیش کرتا ہے جس سے انسان متعدد فائدے حاصل کر سکتا ہے مگر افسوس کہ انسان نے ان قدرتی وسائل کی قدر نہیں جانی، وہ ان سے فائدے ضرور حاصل کرتا ہے مگربدلے میں ان کا خیال نہیں رکھتا ، اسی لیے مجھ جیسے کئی وسائل بدحالی کاشکار ہیں، اور فائدہ پہنچانے کے بجائے خطرات کا پیش خیمہ بن گئے ہیں۔اور آج میں بات کروں گا ایشیائی ممالک بلخصوص پاکستان میں اپنی موجودگی اور اپنے حالات کی۔ 
پاکستان کی جغرافیائی اہمیت سے کسی کو انکار نہیںیہ بلاشبہ خطے کے اعتبار سے دوسرے کئی ملکوں کے مقابلے ایک امتیازی حیثیت کا حامل ہے، پھر چاہے اس حیثیت میں اضافہ کرنے والی شمال میں موجود بلند و بانگ برف پوش قراقرم کی پہاڑیاں ہوں یا پھرایشیا کا تیسرا بڑا صحرا ئے تھر، وہیں اس کی زرخیز زمین اور پھر میری موجودگی نے اسے متعدد خوبیوں کا مجموعہ بنا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ ہی ایک ممتاز حیثیت کا حامل رہا ہے۔
پاکستان میں میری شناخت اُس ۸۰۰ کلومیٹر لمبی ساحلی پٹی سے ہوتی ہے جوسندھ سے بلوچستان تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس ساحلی پٹی کوصوبۂ سندھ میں کراچی بندرگاہ اورصوبۂ بلوچستان میں گوادر بندرگاہ کی بدولت ملک کی صنعتی ترقی میں خاطرخواہ اضافہ کرنے کاشرف حاصل ہے۔ان بندرگاہوں کی وجہ سے یہ صوبے ملک کے نمایاں تجارتی مراکز ہیں۔میں متعدد مچھلیوں کے ساتھ ساتھ کئی قسم کی وہیل مچھلیوں، کچھوؤں، ڈولفن، سیپیوں والے متعدد جانور، اور کورل ریفز کا بھی گھر ہوں۔ میرے ساحل سے آنے والی ٹھنڈی ہواؤں نے شہر کے موسموں کو بھی باقی شہروں سے منفرد بنائے رکھا ہے، مون سون کے مہینوں میں سمندری ہوائیں بارشوں کا لطف دوبالا کئے دیتی ہیں۔جہاں ایک طرف گرمیوں کے موسم میں چلنے والی سمندری ہوائیں کسی عطیہ خداوند سے کم نہیں،وہیں میرا مزج بگڑنے پر کئی بار شہر کو سمندری طوفانوں جیسے خدشات کا بھی سامنا رہا ہے۔متعدد اہم باتوں کے علاوہ اسی ساحل سے میری بدترین یادبھی وابستہ ہے جب ۲۰۰۳ ؁ میں، مَیں ایک تکلیف دہ سانحے سے دوچار ہوا جس میں سمندری پانی اور حیات کئی عرصے کے لئے سیاہی میں ڈوب گئے ۔
کئی سو سال پہلے جب بھارت اور پاکستان برّصغیر کے نام سے جانے جاتے تھے تب بھی میری ساحلی پٹی نے صوبۂ سندھ کے شہر کراچی کو ایک امتیازی حیثیت دے رکھی تھی،گو اُس وقت کراچی ،کراچی نہیں بلکہ ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سی بندرگاہ، کولاچی تھا اور اسکی آبادی صرف ایک لاکھ ماہی گیروں پرہی مشتمل تھی۔ چونکہ بحیرۂ عرب سمندری حیات کے معاملے میں زرخیز مانا جاتا ہے اس لئے یہ پہلے بھی ماہی گیروں کے ذریعۂ معاش کا اہم مقام سمجھا جاتا تھا اور اب بھی ہے۔میرے وسییع و عؑ ریض د امن میں کولاچی کے ماہی گیروں کے لئے پاپلیٹ، پلّہ، اور سُرمئی مچھلی جیسی لذیذ خوراک کے علاوہ کئی قسم کے جھینگے اورانواع واقسام کے سمندری جانور ہیں جوصرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرونِ ممالک میں بھی لوگوں کی خوراک کے طور پر بے حد مرغوب سمجھے جاتے ہیں، اسی زرخیز سمندری حیات کی بدولت ماہی گیری کا یہ عام سا پیشہ صنعتی سطح تک ترقی کرتا گیا۔
وقت گزرتا گیا اور برٹش راج میں اس چھوٹے سے شہر کی اہمیت مزید بڑھ گئی اب یہ صرف بندرگاہ نہیں بلکہ صنعت و تجارت کے مرکز میں تبدیل ہوتا جا رہا تھااور میرا ساحل ملک میں درآمدات وبرآمدات کا بہترین ذریعہ بنا۔ ۱۸۹۹ ؁ تک کراچی بندرگاہ مشرق میں گندم کی برآمدات کرنے والی سب سے بڑ ی بندرگاہ بن چکی تھی۔
ترقی کے راستے پر ایک بار چل نکلنے کا بعد یہ شہر پھر کہاں رُکا،چند سو ماہی گیروں کی آبادی پر مشتمل یہ شہر اب ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے اور کئی مختلف زبانیں بولنے والے تقریباً۲ کروڑ سے زائد افراد کا گھر بن چکا ہے،جہاں ماہی گیری کی صنعت میں اب لگ بھگ ۸۰ ہزار کے قریب ماہی گیر شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کپڑا،چمڑا، ربڑ،پلاسٹک،ادویات، اور اشیأخوردونوش کی صنعتیں اس شہر کی شناخت کا حصہ ہیں،مگر دن دگنی رات چوگنی ترقی کے اس سفرکو دیکھنے میں سب سے زیاد ہ ظلم بھی مَیں نے ہی سہا ہے! 
شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور وسیع و عریض رقبے پر پھیلی ان صنعتوں نے سمندر کے سکون کو برباد کرکے رکھ دیا۔ سمندری پانی کی تمام خصوصیات کو بدل کر اُسے ایک کثیف چیز میں تبدیل کردیا اور اس پانی میں سانس لینے والی زندگی کے لئے جینا دو بھر کردیا۔سمندر کی ٹھنڈی ہوائیں جو شہریوں کے لئے تازگی اور فرحت کا احساس لاتی تھیں، اب بدبودار تھپیڑوں کی صورت انسانوں کو سمندر سے دور بھگا دیتی ہیں۔ 
یہ عظیم الشان صنعتیں جہاں شہر کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، وہیں یہ مجموعی طور پر ایک بڑی مقدار میں زہریلے مادّوں والا فضلہ پیدا کرنے کی بھی ذمہ دار ہیں ،ایسے مادے ہوا اور زمین کے ساتھ ساتھ پانی کو بھی آلودہ کر دیتے ہیں، کیونکہ یہ صنعتی فضلہ کسی بھی قسم کے حفاظتی عمل سے گزارے بغیر سمندر کے پانی میں شامل کردیا جاتا ہے، جس سے سمندری پانی آلودہ اور سمندری حیات بے حد متاثر ہوتی ہے۔

کراچی شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود شہر میں سیوریج اور سالڈ ویسٹ کے انتظامات بدستور عدم توجہی کا شکار ہیں۔شہر میں ایسی سرکاری کچرا کنڈیاں کم ہی ہیں جہاں پر کچرے کو صحیح طریقے سے ٹھکانے لگایا جا سکے ، اس لئے رہائشی علاقوں کے کچرے کوبھی جلا کر یا بغیر جلائے سمندر ہی کی نذر کردیا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی کی احتسابی کمیٹی کے مطابق روزانہ ۴۷۲ملین گیلن سیوریج میری نذر کردیا جاتا ہے۔ یہ فضلہ کورنگی انڈسٹریل ایریا، نہرِ خیام، کینجھر جھیل، اور ملیر ندی کے راستے مجھ تک پہنچایا جاتا ہے۔
سندھ اینوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر جنرل ، نعیم مغل نے بتایا کہ ’’ کراچی میں کُل دس ہزار مختلف صنعتی مراکز ہیں جو مجموعی طور پر ہر روز ۸۰ ملین گیلن فضلہ پیدا کرتے ہیں، اس فضلے میں متعدد زہریلے مادے اور کیمیکل موجود ہوتے ہیں اور یہ سب براہِ راست سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے ، اس کے علاوہ شہر کے رہائشی علاقوں میں سے ہر روز ۰۰۰،۱۲ ٹن کچرا اکھٹا کیا جاتا ہے لیکن کوئی لینڈفل نہ ہونے کی وجہ سے اُسے بھی سمندر بُرد کردیا جاتا ہے۔ ان رہائشی علاقوں سے آنے والے کچرے کی اکثریت پلاسٹک پر مشتمل ہے جو سمندری حیات کا بدترین دشمن ہے‘‘
پلاسٹک کیا ہے؟ اور یہ مجھ میں پناہ لینے والی حیات کو کس طرح متاثر کرتی ہے؟ یہ حقائق کوئی سمندر سے ہی پوچھے ۔۔ شہریوں کے لئے یہ پلاسٹک روزمرہ استعمال کی جانے والی ایک عام چیز ہے۔مختلف مہنگی دھاتوں سے احتراز کے پیش نظر برتنوں سے لے کر آلات تک اب ہر چیز پلاسٹک میں دستیاب ہے۔ اپنی دستیابی اور پائیداری کی بدولت یہ غیر محسوس طریقے سے زندگیوں کا حصہ بن چکی ہے۔ استعمال کے وقت انتہائی آسان لگنے والی یہ پلاسٹک بعد از استعمال جب کوڑے کرکٹ کا حصہ بن جاتی ہے تو ماحول پر سب سے زیادہ مضر اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ حیاتیاتی فضلے یعنی organic wasteمثلاً پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے اور دیگر باقیات کی طرح زمین یا پانی میں شامل ہو کر اپنی صورت بدل کر ماحول دوست صورت اختیار نہیں کرتی بلکہ کئی سال تک ماحول میں موجود رہ کر اسے نقصان پہنچانے کا ذریعہ بنتی رہتی ہے۔۔

روزمرہ کچرے میں کم ازکم بھی۱۰ فیصد پلاسٹک پائی جاتی ہے، یہ پلاسٹک اپنی بناوٹ میں موجود کیمیائی مادوں کی وجہ سے تنزلی یعنیdegradation کا شکار نہیں ہوتی بلکہ سالہا سال ماحول میں موجود رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ایک عام پلاسٹک کی بوتل ۴۰۰ سال جبکہ مچھلی پکڑنے کے لئے استعمال کئے جانے والا جال ۶۰۰ سال تک سمندر کے پانی میں اپنی صورت برقراررکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بحرِ اوقیانوس میں پچھلے چند سالوں میں کچرے کے ڈھیر سے بنے جزیرے نمودار ہوچکے ہیں۔یہ وہی کچرا ہے جو بنی نوع انسان وقتاً فوقتاً میری نذر کرتی رہتی ہے چاہے وہ صنعتوں سے آئے، رہائشی سے علاقوں سے یا سیرو تفریح کے لئے آنے والے لوگ تحفتاًمیری طرف اچھال جائیں یہ سب جمع ہو کرایسی ہی صورت اختیار کرتا ہے۔ایسے ہی چند حقائق کی بنیاد پر دنیا کے کئی محققین کی رائے ہے کہ ۲۰۵۰ ؁ تک سمندر میں مچھلیاں کم اور پلاسٹک کے زیادہ پائے جانے کا امکان ہے۔ 
سمندری پانی میں پلاسٹک اپنی موجودگی سے ’’بائی سیفنول‘‘ جیسے ماحول دشمن کیمیائی مادے کا اضافہ کرکے اسے کثیف بناتی ہے جسکی وجہ سے سمندری حیات بدستور تباہ حالی کا شکار ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ساحلی علاقے سے ۱۲۹ کلو میٹر تک اب مچھلیوں کا کوئی نام و نشان نہیں، اور ماہی گیر سمندر میں کئی گھنٹوں کی مسافت طے کرکے مچھلیوں اور جھینگوں کو تلاش کرتے ہیں۔خود میرے ساحل کے ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ پہلے میری ساحلی پٹی سے ہی اُنہیں خاطر خواہ مقدار میں مچھلیاں مل جاتی تھیں مگر اب اُنہیں سمندر میں چھ سے سات گھنٹے کا سفر کر کے تسلی بخش مقدار میں مچھلی ملتی ہے۔
مقدار کے ساتھ ساتھ سمندری خوار ک کا معیار بھی پستی کی طرف گامزن ہے،مچھلیاں نہ صرف اپنی ساخت میں کمزور دکھائی دینے لگی ہیں بلکہ ان سے ملنے والی غذائیت بھی متواتر کمی کا شکار ہے۔ پلاسٹک سے پھیلنے والی کثافت مچھلیوں کے جسم کا مستقل حصہ بنتی جا رہی ہے اور ایسی مچھلیوں کو خوراک کے طور پر استعمال کرنے سے انسان کینسر اور کئی دوسرے موذی امراض میں مبتلا ہونے کے خطرات سے دوچار ہے ۔مچھلیوں کے علاوہ دوسرے سمندری جانور بھی اس آلودگی کے سبب اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور اُن کی نسلیں خاتمے کی طرف رواں دواں ہیں، متعدد قسم کے کچھوے پلاسٹک کی تھیلیوں کو جیلی فش سمجھ کر نگلنے کی کوشش کرنے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، سمندری جانوروں کی بقا کے لئے انتہائی اہم کورل ریفز اب پتھر بن چکے ہیں، اور پچھلے کئی سالوں میں ڈولفنز اور وہیل مچھلیوں نے میرے ساحل کے پاس آنا چھوڑ دیا ہے، یہ ساری علامات مجھے اس بات سے خبرادر کرتی ہیں کہ ان جانوروں کی نسلوں کی تباہی سے قدرتی ماحولیاتی نظام بہت جلد اپنا توازن کھو دے گا، اور اگر ایسا ہوا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان انسانوں کو ہی ہوگا۔جس طرح اب سمندر کے کثیف پانی سے مسلسل قریب رہنے والے ماہی گیر بھی اب کئی قسم کی طبی شکایات درج کرواتے نظر آتے ہیں۔ ماہی گیروں میں اس کثافت سے جلد، تنفس، اور معدے کی کئی بیماریوں کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ 
ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتی فضلے کی بدولت مجھ سے معاش تلاش کرنے والے ماہی گیر اب کرومیم ، کیڈمیم اور لیڈ جیسی دھات کے زہریلے اثرات کا شکار ہورہے ہیں۔ ایسے اثرات کا انکشاف انسانوں کے لئے خطرے کی گھنٹی سے کم 



ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کسی سے چھپے نہیں یہ ایک قدرتی عمل ہے مگر انسانی افعال اس سے نمٹنے کو مشکل تر بنانے کے ذمہ دار ہیں۔ ۲۰۱۶ ؁ میں جرمنی کے ’’تھنک ٹینک‘‘ جرمن واچ کی شائع کردہ ایک فہرست میں ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کی نشاندہی کی گئی ، اس فہرست میں پاکستان پہلے پانچویں نمبر پر ہے۔ 
عالمی تپش یعنی global warming کی وجہ سے ساری دنیا ماحولیاتی مسائل سے دوچار ہے، انسان اپنے ماحول سے لاپرواہی برتتے ہوئے ایک ماحول دشمن روّیہ اختیار کئے ہوئے ہیں، جس میں اُسے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے پائیدارئ وسائل کا کوئی خیال نہیں، پھر چاہے وہ زمینی وسائل ہوں یا آبی۔۔ انسان تو جس ہوا میں سانس لیتا ہے اُسکو بھی آلودہ کر چھوڑا ہے، اور خود کو کثافت کے اس دلدل میں پھنسا کر وہ ترقی کی کون سی منازل طے کررہا ہے یہ وہ خود بھی نہیں جانتا،وہ بس ایک دوڑکاحصہ بن گیا ہے، جس کا اختتام شاید اس سیارے کی تباہی پر ہوگا۔ 
عالمی تپش کے پیشِ نظردنیا بھر میں موسم تیزی سے بدل رہا ہے، گرمیاں ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ رہی ہیں،اوزون لئیرکی خستہ حالی کے باعث سورج اپنی تمام تر صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرتے ہوئے برفانی تودوں کو تیزی سے پگھلا رہا ہے ،ان برفانی تودوں کا پانی دنیا بھر کے سمندروں سے جا ملتا ہے۔جس کی وجہ سے پچھلی دہائی میں سمندری سطح میں ۱۰ سینٹی میٹر تک اضافہ ہوا ہے، سمندری سطح کا یہ اضافہ سمندری طوفانوں کی شرح میں زیادتی کا پیش خیمہ ہے، یوں تو بحیرۂ عرب میں ان طوفانوں کی شرح نسبتاًکم ہے اور ان کے ممکنہ رُخ بھارت کے شہر گجرات، پاکستان میں بدین/تھرپارکر، کراچی/ٹھٹھہ، گوادر یا عمان کی ساحلی پٹی کی طرف ہوتا ہے۔ لیکن ان تبدیلیوں کے باعث اب شہرِ کراچی میں موجود میری ساحلی پٹی پران طوفانوں کا خدشہ قدرے بڑھ گیا ہے۔دو کروڑ سے زائد کی آبادی والے شہرکے لئے یہ خطرہ کتنابڑا ہے اس کا اندازہ کرنا بہت آسان ہے مگر اس کے باوجود اسکی روک تھام کے لئے کئے جانے والے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔



المیہ یہ ہے کہ مجھے قدرتی طور پر نتھار دینے والے تمر کے درختوں کو بھی ترقی کی نذر کر کے میرے لئے اپنا بچاؤ مزید مشکل کردیا۔ تمر کے یہ درخت نہ صرف مختلف قسم کی مچھلیوں،کیکڑوں اور جھینگوں کے نورسیدہ انڈوں کو نشونما کے لئے جگہ دیتے ہیں، بلکہ قدرتی طور پر طوفان کے مقابلے میں بھی شہریوں کے محافظ ہیں،تمر کے یہ درخت طوفان کے آنے پر پانی کے تیز بہاؤ کو قابو کرنے میں مدد دیتے ہیں جس کے نتیجے میں طوفان سے ہونے والے نقصانات کا اندیشہ تقریباً ختم ہوجاتا ہے۔ سمندری پانی کی یہ گزرگاہیں پانی کو صاف کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں مگر فی زمانہ مجھے محفوظ رکھنے والے یہ درخت بھی محفوظ نہیں۔

جہازرانی اور بندرگاہوں کی وفاقی وزارت کے سیکریٹری خالد پروز نے ایک اندازے کے مطابق بتایاکہ’ کراچی بندرگاہ کے علاقے سے تقریباً ۲۷۵ ملین گیلن سیوریج کا فضلہ سمندر برد کیا جاتا ہے جبکہ ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی سے سمندر میں بہائے جانے والے سیوریج فضلے کی مقدار ۱۳۶ ملین گیلن ہے۔ایسی صورتِ حال میں کراچی بندرگاہ پر موجود تمر کے یہ قدرتی جنگلات بلاشبہ ایک اثاثے کی حیثیت رکھتے ہیں مگر بندرگاہ پر ہونے والی تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان جنگلات کی نگہداشت ایک مشکل امر ہے ۔



جہازرانی بندرگاہوں پر ہونے والی تجارتی سرگرمیوں کا لازمی حصہ ہے مگر اس سے بھی سمندر کو کئی قسم کی آلودگی کا سامنا ہے۔ایسی صورتحال کے باوجود تجارتی سرگرمیوں کو روکنا یقیناًممکن نہیں مگر اُس کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے اقدامات کرنا لازم ہے۔ جس میں تمر کے درختوں کی شجرکاری اور نگہداشت سرِفہرست ہے۔ تاکہ میری قدرتی صفائی کے عمل کو یقینی بنایا جاسکے اورماحولیاتی تبدیلی کے باعث تجارتی عوامل میں بھی کبھی رکاوٹ نہ آئے۔ 
انسانیت کو بلاشبہ اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے مگر اُسے اشرف باقی تمام مخلوق اور قدرتی وسائل پر غالب آنے کے لئے نہیں بنایا بلکہ اُنہیں اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتے ہوئے آئندہ نسلوں کے استفادے کو بھی یقینی بنانا ہے،وہ اس سیارے کا مالک نہیں ہے بلکہ اس پورے قدرتی نظام کو ان مختلف مخلوق اور وسائل کے ساتھ بانٹ رہا ہے۔اُسے ان وسائل سے کام لیتے ہوئے انہیں تباہ و برباد نہیں کرنا بلکہ انکی قدرتی صورت کو محفوظ رکھنا ہے، تاکہ نسل در نسل نوعِ انسانی ان سے فائدہ لیتی رہے۔
مختلف زمینی اور آبی وسائل کی خستہ حالی سیارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی لئے ان کے تحفظ کی ذمہ داری انسان پر ہی سب سے زیادہ ہے۔ اس تحفظ کے عمل کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ ماحول کی طرف اپنے روّیے کو تبدیل کرلے، اپنے اندر ماحول کے متعلق حسّاسیت پیدا کرے۔۔انفرادی سطح پر کی جانے والی کاوشیں اجتماعی صورت میں کارگر ثابت ہوتی ہیں، جیسے میںَ بوند بوند سے مل کر سمندر بن جاتا ہوں، اور کتنے طریقوں سے نوعِ انسان کی فلاح میں مددگار ہوں۔ 
پلاسٹک کے مصنوعات کو ماحول سے ختم کرنانا ممکن ہے بجز اس کے کہ اس کا استعمال ہی ختم کردیا جائے، ورنہ وہ کسی نہ کسی صورت زمیں پر یا سمندر میں ماحول کا حصہ بن کر ماحول کو نقصان پہنچاتا رہے گا۔
پولیتھین بیگز کے بجائے کپڑے کے تھیلوں کے استعمال کو ترجیح دی جائے۔
سٹائروفوم کے کپ اور پانی پینے کیلئے پلاسٹک کی بوتلوں کے استعمال کی مکمل تردید ہونی چاہیئے ۔
پلاسٹک ریپرز اور پلاسٹک سے بنی دوسری چیزیں جیسے قلم ، تار یا پھر کھلونوں کے ٹوٹ جانے پر کچرے میں پھینکنے کے بجائے ری سائیکل کر کے کسی اور صورت میں استعمال کے قابل بنا لیا جائے، تاکہ وہ کچرے کے ڈھیر کا حصہ بن کر زمین یا پانی کو آلودہ کرنے کاسبب نہ بنیں۔
اور سب سے اہم یہ کہ سیر و تفریح کے غرض سے میرے ساحل پر آنے والے لوگ مجھے آلودہ نہ کرکے جائیں، کوشش کریں کہ اول توایسی کوئی چیز ساتھ نہ لائیں جو بعد از استعمال کچر ے کا حصہ بن جائے اور اگر کچرا جمع ہو بھی جائے تو اُسے ساحل پر نہ پھیلائیں، اپنے پولیتھین بیگز کو میرے کچھوؤں سے دور رکھیں۔ 
حکومتی عہدیداروں سے میری التجاء ہے کہ
حکومتی سطح پر پلاسٹک مصنوعات کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جائیں تا کہ لوگوں کے لئے انفرادی طور پر اس کا متبادل ڈھونڈنا اور استعمال کرنا آسان ہو
رہائشی علاقوں کے کچرے کی چھانٹی اور ری سائکلنگ سے اُسے کار آمد بنایا جائے تاکہ کچرے کی مقدار میں کمی آئے اوراس کو ٹھکانے لگانے کے لئے زمینی اور آبی وسائل کا ضیاع نہ کرنا پڑے 
صنعتوں کو اس بات کا پابند بنایاجائے کہ اپنے فضلے کو حفاظتی اقدامات سے گزارے بغیر مجھ میں نہ ملائیں تاکہ مجھ میں سانس لینے والی زندگی اور مجھ سے معاش تلاش کرنے والے انسان متاثر نہ ہو سکیں۔ 
کئی ترقی یافتہ ممالک کی طرح سیوریج کے پانی کو مختلف پلانٹز کے زریعے ممکنہ حد تک صاف کرکے دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ہونے والی پانی کی قلت جیسے مسائل سے نمٹنے کا انتظام ہو اور ملک کے زرعی شعبے کو کسی نقصان سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ 



کاش بنی آدم میری سر پٹختی لہروں کی آہ و فغاں سن لے، جو اپنے ہر طرزِ عمل سے اُسے یہ باور کروانا چاہتی ہیں کہ اللہ کے حکم کے مطابق مجھ
سے فائدہ لیتے رہو، اور بدلے میں مجھے نقصان نہ پہنچاؤ۔ورنہ ان نقصانات کا بدلہ لینا قدرت بھی جانتی ہے۔ 

Tuesday, March 6, 2018

بیچاری عورت

پتہ نہیں لوگ اتنے خود غرض کیسے ہوتے ہیں کہ اپنی خواہشوں کے پیچھے باقی تمام لوگوں کا سکون داؤ پر لگائے رکھتے ہیں‘‘
’’ہاں بیٹی بس یہی دنیا ہے، ابھی سے قیامت کا سماٴ ہے، سب اپنی اپنی میں لگے ہیں‘‘
اماں اور ثانیہ بظاہر ڈرامے پر تبصرہ کررہے تھے مگر اُن کی آنکھوں کے اشارے اور مخصوص جسمانی زبان یہ جتانے کے لئے کافی تھی کہ دراصل وہ صائمہ پر طنز کررہے ہیں، اور اللہ کے فضل سے چپ رہنے والوں میں سے تو بیگم صائمہ بھی نہیں تھیں، اُنہوں نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے لازمی دینا تھا
آج کل کسی کے پیچھے مرنے کا بھی تو زمانہ نہیں رہا امیّ، یہاں لوگوں کے لئے کچھ بھی کر لو شکایتیں کم نہیں ہوتیں، اس لئے اچھا ہے کہ انسان دوسروں کے حقوق پورے کرنے میں اپنے حق کو نہ مرنے دے
آپ تو حقوق کی بات ایسے کررہی ہیں جیسے ملک میں سب سے زیادہ فرض شناس ہیں‘‘۔ ثانیہ کو شروع ہونے کے لئے جو موقع چاہئے تھا وہ مل گیا تھا۔
سب سے زیادہ نہیں لیکن الحمداللہ کئی لوگوں سے زیادہ، کم از کم اگر کسی کو آسانی نہیں پہنچاتی تو کسی کی اذیت کا سامان بھی نہیں بنتی۔‘‘ صائمہ نے برابر کی ٹکر دی۔
اماں نے میری طرف دیکھا، میں بہروں کی طرح ٹی وی کو دیکھتا رہا، کسی ایک کے حق میں بولنے کا مطلب دوسرے کے سامنے مجرم بننا تھا
ثانیہ نے پھر کوئی جواب دینے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ صائمہ نے کھانا لگ گیا کا نعرہ بلند کر کے منہ بند کروا دیا۔
کھانا خاموشی میں کھایا گیا۔ مگر سب ایک دوسرے کو معنی خیز نظروں سے دیکھتے رہے۔ سب کے دل میں نہ ختم ہونے والے شکوے ہیں
اماں کو لگتا ہے صائمہ گھر کی ذمہ داری مکمل طور سے نہیں اُٹھا پاتی، اُس کی وجہ سے ثانیہ کو تکلیف ہوتی ہے، صائمہ کو لگتا ہے کہ وہ اپنے عزائم پورا کرنے کی تگ و دو  میں گھر کو حتی الامکان توجہ دینے کی کوشش کرتی ہے مگر اُسکی کاوشوں کو ہمیشہ تنقیدی نظروں سے دیکھ کر رد کر دیا جاتا ہے، ثانیہ کو لگتا ہے کہ اُسکو اچھی، ملنسار اور گھریلو بھابی نہ مل سکی جو ہمیشہ اُسکو خود سے برتر سمجھتی اور اُس کے لاڈ اُٹھاتی، اور ان سب کے بیچ میں، مَیں؟ میَں ایک مرد ہوں جس پر یہ الزام ہے کہ  وہ عورت کے دکھ درد اور اُسکی قربانیوں کو سمجھ ہی نہیں سکتا، جس ماں نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہمیں پالا پوسہ اُسکو لگتا ہے کہ بیوی کی خاطر ہم نے اُس کی قدر و منزلت کو فراموش کردیا، جس بیوی کے لئے ہم نے یہ الزام سر لیا ہے اُسکو لگتا ہے کہ ہم ماں کی باتوں میں آکر اُسکی حق تلفی کر جاتے ہیں، اور بچی بہن تو اُس کی اپنی بھاوج سے نفرت اتنی شدید ہوگئی ہے کہ بھائی کی محبت پر حاوی ہے۔ 
گھر میں ہر وقت ایک جنگ ہے کہ کون کس کو بہتر جواب دیتا ہے، ہر وقت ایک منہ زبانی جنگ۔۔۔۔ جس دن صائمہ جیت جائے اُسکا موڈ اچھا رہتا ہے جس دن ثانیہ جیت جائے تو وہ اُڑی اُڑی پھرتی ہے۔

مگر پھر بھی یہ تمام عورتیں بیچاری ہیں۔ ان کے دکھ لاتعداد ہیں جن میں سے اکثر ان کےاپنے بنائے ہوئے ہیں۔۔ مگر کیا کہیے۔۔ 
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                 


تمہیں اسماٴ یاد ہے؟ صائمہ نے مجھ سے پوچھا
کون اسماٴ؟
وہی جس نے لاسٹ ائیر مجھے نکلوانے کا خوب جتن کیا تھا۔۔
اوہ ہاں یاد آگیا، کیا ہوا اُسے
میںَ نے اُس سے اگلا پچھلا سب بدلہ برابر کرلیا آج، امید ہے کہ اب وہ کہیں اور نوکری تلاش کرنا شروع کردے گی۔۔ صائمہ نے خوش ہو کر بتایا
مگر جب اُس نے تفصیل بتانے کے لئے میری طرف دیکھا تو اُسے احساس ہوا کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے
کیا ہوا؟ سنو تو میں  نے کیا کِیا؟
مجھے نہیں سننا۔۔ مجھے ایسی کوئی بات نہیں سننی جس میں تم نے کسی اخلاقی پستی کا مظاہرہ کیا ہو، میرے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ میں اپنے شریک سفر کی عزت کروں کہ وہ ایک اچھ انسان ہے، ایسی باتوں سے تمہاری عزت گھٹتی ہے۔۔ مری آواز خود بخود گھٹ رہی تھی۔۔
تمہیں یاد نہیں ہے کہ اُس نے میرے ساتھ کیا کیا تھا؟ صائمہ نے ناراض ہو کر کہا
سب یاد ہے، اور یہ بھی یاد ہے کہ تمہارا اب تک کا ریکارڈ اتنا شاندار ہے، تمہارے ٹیلنٹ کے لوگ کتنے معترف ہیں اسلئے کوئی سازش تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکی، اور یہ بھی یاد ہے کہ یہ سب محسوس کر کے مجھے کتنا فخر ہوا تھا۔۔
تو کیا میں اُس سے بدلا نہ لیتی۔۔ صائمہ نے توجیہات پیش کی
مجھے لگا تھا کہ تم نے اپنے ٹیلنٹ کے زور پر خود کو منوا کر بہت بہتر بدلہ لے لیا ہے، مجھے نہیں پتہ تھا کہ تمہارے نزدیک اُس اچیومنٹ کی کوئی اہمیت نہ تھی
صائمہ شرمندگی سے خاموش ہوگئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                     


کل دوپہر گھر آیا تو اماں جلی بیٹھی تھیں
کیا ہوگیا اماں سب خیر ہے؟ میں نے حال پوچھا
کیا خیر ہوگی، کتنی بار کہا ہے تم لوگوں کو کہ نانی کو یہاں لے آؤ۔ لیکن تم بے غیرتوں کو کوئی اثر نہیں ہے، کیونکہ وہ آگئیں تو تمہاری بیوی کو آوارہ گردی چھوڑ کر اُنکی خدمت میں لگنا پڑے گا۔۔ اب مرو تم سب فقیر کے فقیر۔۔ 
کیا ہوا ہے اماں؟ 
چھوٹی کو لکھ دیا ہے اماں نے سب، کہتی ہیں اُس نے بیوگی میں اور اُس کی بیٹیوں نے یتیمی میں میری بہت خدمت کی ہے، تو میرے مرنے کے بعد ان کے سر پر چھت تو رہے گی،
اوہ! یہ تو اچھی بات ہے، اور نانو کے پاس اُس چھوٹے سے گھر کے علاوہ اور تھا بھی کیا اُنہیں دینے کے لئے۔۔ میں نے اطمینان سے کہا
ارے لعنت ہو تم پر، تمہاری ماں کا حق مارا گیا اور تم تسلی کررہے ہو، اماں نے غصے میں کہا
اماں اللہ نے تو ہمیں اپنا گھر دیا ہے، وہ لڑکیاں یتیم ہیں۔۔ میں نے سمجھانا چاہا
ابا بھی بیچ میں بول پڑے۔۔ کب سے اسے یہی سمجھا رہا ہوں، کہ خود کو گنہگار نہ کر۔۔ میں یہ گھر لکھ دیتا ہوں تجھے بس چپ ہوجا۔۔
میں نے اور ابا نے ایک دوسرے کو افسوس سے دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                     

آج میں چھت پر چلا گیا، ثانیہ وہاں کسی سے فون پر بات کررہی تھی، میں کافی کا مگ لے کر منڈیر کے پاس کھڑا ہوگیا، اُسکی باتیں جاری رہیں،
مَیں نے تو ہیڈ کو جا کر صاف صاف کہہ دیا ہے کہ علینہ مجھ سے جونئیر ہے اگر اُس نے پرزینٹیشن دی، تو میں میٹنگ میں نہیں بیٹھوں گی، ہونہہ۔۔۔ کہہ رہے تھے کہ ہمیں اُسکو موقع دینا ہے اُس میں پوٹینشل ہے۔۔ میں نے کہا تو یہ پوٹینشل آیا کہاں سے؟ ہونہہ۔۔ دو سال میرے انڈر کام کیا ہے اُس نے، انٹرنی تھی یہ لڑکی۔۔ بڑی آئی پریزنٹیشن دینے۔۔۔ ثانیہ نخوت سے کہہ رہی تھی۔۔ 
کھلی چھت پر بھی گھٹن کا احساس بہت بڑھ گیا۔۔ میں مگ لے کر واپس کمرے میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                     


باباآآ۔۔ یہ دیکھیں۔۔۔ صائمہ تقریباً چیختی ہوئی آئی تھی۔۔ اُس کے ہاتھ میں گلابی لفافہ تھا۔۔ میں سمجھ گیا تھا کہ یہ اُسکی کسی پروفیشنل اچیومنٹ کے بارے میں ہے۔۔ کیونکہ بابا اُسکی تعلیمی اور پروفیشنل قابلیت کے سب سے بڑے قدردان تھے تو اُس نے سب سے پہلے اُن ہی سے شئیر کرنا تھا۔۔
واہ بھئی کیا مل گیا جو آپ کے چہرے پر ایسی خوشی ہے۔۔ بابا نے کہا
یہ دیکھیں۔۔ اس سال خواتین کے عالمی دن پر مجھے ایوارڈ دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سال کی تھیم پریس سے متعلق ہے توہمارے میگزین آفس نے اس تنظیم کو میرا سارا ریکارڈ بھیج کر مجھے نامزد کروایا ہے۔۔ وہ بے حد خوش تھی
ارے واہ، زبردست، بہت خوشی کی بات ہے۔۔ اس ہی بات پر آج تم اپنا اسپیشل میٹھا بنا کر کھلاؤ۔۔ بابا نے خوشی سے کہا جب کہ اماں اور ثانیہ بہروں کی طرح ٹی وی دیکھتے رہے۔۔
صائمہ اُن دونوں کی طرف دیکھا کہ شاید کچھ تعریف و توصیف اُدھر سے بھی ملے۔۔ مگر وہاں ہمیشہ کی طرح مقابلے بازی کے نت نئے طریقوں ہر غور جاری تھا۔۔ 
ضروربناؤں گی۔۔ اُس نے بابا سے کہا۔
مگر ایک بات اور ہے، مجھے وہاں ایک چھوٹی سی تقریر کرنی ہے۔۔ میں کیا بولوں بابا؟ کچھ ایسا بتائیں کہ بس سب کو میری بات یاد رہ جائے۔۔۔ صائمہ نے جوش سے کہا
زبان کے معاملے میں تو آپ ماشااللہ سب سے تیز ہیں بھابی، آپ کو اس کے لئے بابا کی مدد کی کیا ضرورت؟ ثانیہ نے کہا
صائمہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے شاید وہ اپنی خوشی کے موقعے پر ایسے جملے کی توقع نہیں کررہی تھی۔۔۔
بابا نے ثانیہ کو گھورا۔۔ ثانیہ نے رُخ پھیر لیا۔۔۔
صائمہ نے بابا کی خاموشی محسوس کی تو ایک بار پھر کہا۔۔ بابا بتائیں نا؟ کیا بولوں آپ کی برادری کے خلاف۔۔ 
بابا ہنس گئے۔۔ ہماری برادری کے خلاف کیوں۔۔ ؟
بھئی مردوں سے اپنے حقوق کی لڑائی ہی تو لڑ رہی ہیں ہم عورتیں۔۔ وہ دھپ سے کرُسی پر بیٹھ گئی شاید اُسے لگ رہا تھا کہ اب ایک لمبی بحث چھڑ جائے گی۔۔
ہممم۔۔ دیکھو سب سے پہلے تو میں تمہیں کہوں گا کہ جس کی سوچ اچھی ہوتی ہے اُس کی باتیں بھی اچھی ہوجاتی ہیں، اُسکو تقریر کرنے میں مسئلہ پیش نہیں آتا۔۔ اور اچھی سوچ کا مطلب ہے تعصب سے عاری سوچ۔۔ جس میں دوہرا معیار نہ ہو۔۔۔ سب سے پہلے تو یہ سوچنا چھوڑ دو کہ عورت کی حمایت میں بولنے کا مطلب ہے کہ مرد کے خلاف بولنا۔۔ ایسا نہیں ہے۔۔ بابا نے نرمی سے کہا
بابا سب سے بڑے تعصب کی بات توآپ نے خود کہہ دی۔۔ ثانیہ بہت جوش سے پلٹی تھی اور اُس نے ثابت کردیا تھا کہ جہاں مردوں کے خلاف بات ہو عورتیں اپنے سارے اختلاف بھول کر اکھٹی ہوجاتی ہیں۔۔
واقعی؟؟ بابا نے اُس سے پوچھا
جی ہاں بابا۔۔ مردوں کی وجہ سے ہی تو یہ سارے جھگڑے ہیں، یہ بقا کی جنگ ہم کس کے خلاف لڑ رہے ہیں۔۔ ثانیہ نے کہا۔۔
اوہ اچھا اچھا۔۔ یہ مسائل مردوں کے بنائے ہوئے ہیں۔۔ بابا نے معصومیت سے کہا۔۔
اچھا تو شاید میری ہی سوچ الگ ہے۔۔ مجھے ہی اب تک لگتا رہا کہ زیادہ تر وہی مرد عورتوں کی عزت نہیں کرتے جن کی ماں نے اُنہیں اس بارے اچھی تربیت نہیں دی ہوتی۔۔ اوروہ خبریں پڑھ کر تو میری روح کانپ جاتی تھی جب ساسیں جہیز اور اولاد کے جھگڑوں پر بہوؤں کی طلاقیں کروادیتی ہیں۔۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ ساس نندوں کے ساتھ روز مرہ ہونے والی ناچاقی بھی مردوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔۔ اور جب سے خواتیں نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنی قابلیت منوانا شروع کی ہے تو اکثر دفاتر میں بھی وہی ساس نندوں والا ماحول دکھائی دیتا ہے۔۔ کیوں صائمہ بیٹی؟ میں غلط ہوں؟ بابا نے صائمہ کی طرف دیکھا۔۔ صائمہ نظریں جھکا کر بیٹھی رہی۔۔ 
بابا نے پھر ثانیہ کی طرف دیکھا۔۔ تم بتاؤ ثانیہ۔۔ 
ثانیہ حیرانی سے بابا کو دیکھتی رہی کہ وہ کیا کہہ گئے ہیں۔۔۔
ہممم۔۔۔ اب خاموشی جواب ہے۔۔ ٹھیک ہے ۔۔ اس کا مطلب میرے مشاہدات درست تھے اور اب تم لوگوں کو قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔۔ تو صائمہ تم میری طرف سے تقریر میں جا کر یہ کہنا کہ بہنوں! مردوں سے حقوق لینے کی بات رہنے دیں، پہلے آپ عورتیں آپس میں اپنے معاملات درست کرلیں، ایک دوسرے کے لئے دل بڑا کریں، آپ ایک دوسرے کی طاقت بن جائیں تو مرد کون ہوتے ہیں آپ کے حقوق چھیننے والے 
!!!!

Sunday, February 25, 2018

باغی یا بے عقل؟

دورِ حاضر میں معاشرہ جس بے راہ روی کا شکار ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، لبرل اور سیکیولر نظریات کو فروغ دینے کے لئے مختلف عناصرتندہی سے کام کررہے ہیں، جس میں میڈیا سرِ فہرست ہے، کیونکہ یہ اُن چند ذرائع میں سے ایک ہے جو کم وقت میں زیادہ لوگوں تک نہ صرف رسائی رکھتا ہے بلکہ بے حد موثر طریقے سے لوگوں کے ذہنوں کو قابو کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے، جیسے کئی گھنٹے تعفن زدہ ماحول میں کام کرنے کے بعد انسانی حسیات بُو محسوس کرنے کے قابل نہیں رہتیں اسی طرح برے کاموں کی خوبصورت انداز میں بارہا یاد دہانی کے بعد اُن کی برائی بھی برائی معلوم نہیں ہوتی۔ اور اس کام کا بیڑا مارننگ شوز سے لے کر ہر انٹرٹینمنٹ چینل نے اُٹھایا ہوا ہے۔

لیکن اب بات صرف شادی، طلاق اور گلی محلوں کے معاشقوں سے نکل کر خود ساختہ سلیبرٹیز تک پہنچ گئی ہے، کیونکہ یہاں اس سوچ کو عام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی کے افعال کی اچھائی یا برائی کا تعین کرنے والے ہم کوئی نہیں ہوتے یہ تو اُس شخص کی ذاتی رائے ہے کہ وہ کس چیز کو اچھا اور کسے برا خیال کرتا ہے، گویا یہ سوچ دینِ اسلام کے چند اہم ترین اصولوں میں سے ایک کی سراسر نفی ہے جس کے تحت ہر اہلِ ایمان یہ مانتا ہے کہ ہم سب مسلمانوں کو اچھائی اور برائی میں تمیز اور تفریق کرنے والا ہونا چاہیے نیز اللہ سبحانہ و تعالی خود بھی حق اور باطل کو الگ الگ ظاہر کردیتے ہیں، 

قندیل بلوچ نامی خود ساختہ سوشل میڈیا سلیبرٹی کی وجہ شہرت  اُسکی اُوٹ پٹانگ بے باک ویڈیوز تھیں، مگر آہستہ آہستہ الیکٹرانک میڈیا نے اُس کو ایک سنسنی خبر بنانا شروع کردیا، جن ٹاک شوز میں ملک کے اہم مسائل پر بات کر کے لوگوں میں شعور و آگہی کو فروغ دینا چاہئے وہاں میزبان متعدد بار قندیل بلوچ  کو مدعو کر کے اُسکی ویڈیوز پر تبادلہ خیال کرتے رہے، ہر شخص اپنے تئیں اس معاملے ہر رائے رکھتا تھا، کچھ اُس کو گالیاں دیتے تھے، کچھ دوستی کی پیشکش کرتے   رہے، کچھ نے اُس سے ہمدردی ظاہر کی، چند لبرلز نے لوگوں کو 
non judgmental
ہونے کی مشہورِ زمانہ ترغیب دی اور ملک کی ایک بہت بڑی آبادی صرف وقت گزاری کے لئے اُن ویڈیوز سے محظوظ    
ہوتے رہے،
اور پھر ایک دن اس سب تماشے کا اختتام قندیل بلوچ کی موت پر ہوا، 
مگر یہ اختتام قرار نہیں پایا یہاں سے ایک نئی تحریک کا آغاز ہوا جہاں حقوقِ نسواں کی متعدد تنظیموں نے عورت کی آزادی کی حمایت اور غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کی شدید مخالفت کی، بات یہیں تک رہتی تو شاید قابلِ قبول ہوتی کچھ تنظیموں نے تو ہمدردی کی انتہا میں اُسکو شہید کے درجے تک پہنچا دیا۔ اِلاّ ماشاؑاللہ

مگر بات یہاں بھی ختم نہیں ہوئی، کئی سالوں سے جس قندیل بلوچ کا تماشا بنوانے میں جس میڈیا نے اہم کردار ادا کیا، وہی اُسکی موت کو بھی بہت ذہانت سے استعمال کرنے کی ایک ترکیب لے آیا، جس کا نتیجہ حال ہی میں پیش ہونے والا ڈرامہ ’باغی‘ تھا۔ جس نے نہ صرف چینل کی ٹی آر پی میں بیش قیمت اضافہ کیا بلکہ یوٹیوب پر بھی سینکڑوں صارفین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ 

افسوس اس بات کا ہے کہ ایک عبرت لینے والی ایک کہانی کو انتہائی متاثر کن چیز بنا کر پیش کیا گیا، جس کے بعد کوئی بھی لڑکی معاشی حالات، گھریلو مسائل یا محض چند بچکانہ خواہشوں کے حصول کے بہانے اب با آسانی دلائل کے ساتھ ڈٹ سکتی ہے، اور خود کو ’’باغی‘‘ تصور کر کے ایک نئی خود ساختہ سلیبرٹی بن سکتی ہے۔

مزید دل شکن بات یہ ہے کہ لاکھوں فن کاروں ، ہدایت کاروں، تخلیق کاروں اور ادیبوں کے ہوتے ہوئے بھی ہم 
 تخلیق نہیں کر سکتے۔ original content

نیز یہ کہ ماڈل کی زندگی میں پیش آنے والے چھوٹے چھوٹے واقعات کی عکس بندی کے لئے انڈسٹری کے کئی نامور فنکاروں کو ڈرامے میں شامل کیا گیا، جس سے لوگوں کے ذہنوں میں بلاواسطہ یہ خیال پختہ ہوجاتا ہے کہ ملک کے کئی بڑے فنکار اس طریقہ کار کے حامی ہیں

اگلا ہتھیار موسیقی کا ہے جس سے ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی کو نشے کی حد تک عشق ہے، اور یہ ہتھیار یہاں بھی کار گر ثابت ہوا، گلوکار کی درد بھری آواز نے الفاظ میں جان ڈال دی، گانے کے بیشتر بول یہ ظاہر کرتے رہے کہ ماڈل انتہائی تکلیف میں ہے اور اپنے حالات سے مجبور ہو کر وہ بغاوت کرنے کے لئے مجبور ہے،

ڈرامے میں کئی ایک جگہ تکنیکی غلطیاں بھی محسوس کی جاسکتی تھیں، جیسے گاؤں  میں رہنے والی لڑکی فوزیہ جو پورا دن پنجابی بولتی نظر آتی تھی وہ رات کو اپنے بستر پر لیٹ کر جب خود سے بات کرتی تھی تو اُسکی زبان اُردو ہوجاتی تھی،

اسی طرح ماڈل کو جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں کوٹ ادو کی رہائشی بتایا گیا جہاں پر سرائیکی زبان بولی جاتی ہے، جبکہ ڈرامے میں گاؤں کے تمام رہائشی پنجابی بولتے رہے،


ڈرامے میں کئی ایک جگہ کہانی کو مصلحتاً یا ضرورتاً تبدیل کیا گیا جو اخلاقی طور پر کسی بھی سوانح کے لئے ٹھیک نہیں، نیز ماڈل کی زندگی کے کئی غیر اخلاقی پہلوؤں کو ڈھکے چھپے انداز میں اس طرح دکھایا گیا کہ اُن کی برائی ناظر پر واضح نہ ہو سکے۔ 

اب بات کرتے ہیں ڈرامے کی کہانی کی، یا یوں کہہ لیں ماڈل کی زندگی کی، ڈرامے کے آغاز سے ہی کئی منفی اور مثبت چیزوں کو آپس میں اس طرح گڈمڈ کر کے دکھایا گیا جس سے ناظرین پر مرکزی کردار کی ہر بری عادت پر اچھائی کا پردہ پڑ جائے، جیسے کہ لڑائی یا بدتمیزی کر کے کسی کے حق میں بولنا، حالانکہ حق گو ہونے کےلئے منہ پھٹ اور بد تمیز ہونا قطعی ضروری نہیں

بچکانہ اور حقیقت سے دور خواہشوں کی تکمیل کے لئے کسی بھی حد تک چلے جانا، شوبز کو کمائی اور شہرت حاصل کرنے کا آسان طریقہ سمجھنا، کئی قسطوں تک کہانی کا مرکز تھے

پسند کی شادی اور شادی کے بعد کی زندگی کے بارے میں توقعات اور غیر حقیقت پسندانہ روّیہ بھی مادل کی زندگی  کو خراب کرنے کی اہم وجہ دکھائی دیتا رہا، مگر اُسکو دکھانے کے انداز کی بدولت ماڈل کو وہاں بھی ڈھیروں ہمدردیاں موصول ہوتی رہیں

ہر بار طلاق کی وجہ ماڈل کی غصیلی طبیعت اور سینہ تان کر طلاق مانگنا تھا، جس پر وہ بعد ازاں خود کو ملامت بھی کرتی دکھائی گئی

شوبز میں قدم رکھنے کی کوششوں کے دوران بھی اُسکو جگہ جگہ اپنی بچکانہ اورشدید رد عمل کی وجہ سے نقصان اُٹھانا پڑا

اور ایک مرتبہ اس گندگی میں پیر رکھنے کے بعد وہ دیکھتے ہی دیکھتے اس دلدل میں دھنستی رہی،
محفوظ چار دیواری میں مرد کے آگے عزت کے لئے آواز اّٹھانے والی لڑکی  دنیا بھر کے سامنے ذلت اُٹھاتی رہی،
پھر اپنی ساری زندگی کی ذلت کے بدلے وہ اپنے خاندان کی بھلائی کے لئے کوشاں رہی مگر وہاں بھی اُسے مایوسی کا سامنا ہوا کیونکہ حرام رزق پر پلنے والے جسم اور ذہن وہی کچھ کر سکتے ہیں جو ماڈل کے خاندان نے کیا۔

ڈرامے کے اختتام پر یہ دکھانا چاہا کہ ماڈل ذلت و رسوائی کی یہ زندگی چھوڑ کر دوبارہ کسی چار دیواری میں جانا چاپتی تھی مگر دنیا نے اُسے اس کا موقع نہ دیا، اور خود ہی منصف بن کر اُس کو ختم کردیا۔۔ یہاں ہر شخص کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ وجہ چاہے کچھ بھی ہو، زندگی ہر کسی کو تصحیح کا موقعہ نہیں دیتی اس لئے ہمیں حتی ال امکان اللہ سے ڈرنا چاہئے اور خود کو سیدھے راستے کی طرف گھسیٹنا چاہیے۔ 

اس تمام کہانی میں واضح کرنے کی باتیں یہ تھیں کہ تعلیم تربیت اور شعور کی کمی کی وجہ سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں کتنی ہی عورتیں نہ صرف ذلت کی زندگی گزارتی ہیں بلکہ اسی ذلت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں 

ساتھ ہی یہ کہ ہر وہ لڑکی جو اپنی کامیابی اور اپنے مستقبل کے لئے خواب دیکھتی ہے وہ یہ جان لے کہ دنیا وہ نہیں ہے جو رنگین میگزین اور ٹی وی ڈراموں میں نظر آتی ہے یہاں ہر کوئی اپنے طے شدہ راستوں کی بنیاد پر خود اپنے لئے جنت اور دوزخ کا انتخاب کرتا ہے۔

پھر بھی ہماری اللہ سے دعا ہے کہ وہ ظالموں سے بدلہ لے، اور مرحومہ کی مغفرت فرما کر اُس کے درجات بلند کردے۔ آمین


Friday, February 9, 2018

سنڈریلا - After the Shoe-Fit

میَں سنڈریلا ہوں۔۔ اور میں کسی تعارف کی محتاج نہیں، دنیا کے ہر کونے میں بسنے والی لڑکی نے میری کہانی سُنی اور کبھی نہ کبھی کسی لمحے میں اس کہانی کو جینے کی تمّنا ضرور کی ہے، لیکن یہ کہانی اور اس کے کئی ایسے حقائق ہیں جو کسی نے نہیں سُنے کیونکہ یہ کہانی ہمیشہ راوی نے آپ تک پہنچائی ہے، اور اپنی زندگی کی کہانی دوسرے کے نظریے سے دیکھی جائے تو بہت مختلف محسوس ہوتی ہے! 
میں صرف ’’ایلا‘‘ تھی لیکن میری کہانی اور شہزادے کی لازوال محبت نے مجھے سنڈریلا کے نام سے مشہور کردیا، یہ نام بھی شہزادے کی محبت کی طرح لازوال رہا، لیکن یہ میرا نام نہیں ہے، میں ایلا ہوں چاہے دنیا مجھے کچھ بھی کہے، نئے نام اور نئی زندگی کے یہ حسین تخیل دل دماغ میں رنگ ضرور بھر دیتے ہیں مگر جب ان لمحوں کو جینا پڑتا ہے تو ہم خود سے سوال کرتے ہیں کہ کیا  اس نئی زندگی کے لئے ہم نے خود کو چھوڑ دیا؟
میں سارے شہر میں اپنی رحمدلی کی وجہ سے مشہور تھی، ایسی معصوم رحمدلی جو ہر اک کے لئے یکساں تھی، اُس میں کوئی تفریق نہ تھی، میری زندگی سادہ تھی اور میں اُس میں خوش تھی۔۔ ہاں یہ بات ضرور تھی کہ ہر ایک کی طرح میری زندگی بھی پرفیکٹ نہ تھی۔۔ میرے آس پاس موجود لوگوں نے میری محبت کی قدر نہ کی، اور مجھے خاندانی اعتبار سے معیاری زندگی نہ ملی، مگر اس میں میرا قصور نہیں تھا، سو میں نے اس پر افسوس نہ کیا، اور خود پر محنت کرتی رہی۔۔ میں اپنی زندگی میں خوش تھی، بطخوں کو کھانا کھلا کر، مرغیوں کے پیچھے بھاگ کر، اور فارغ اوقات میں ڈبل روٹیاں بیک کر کے میرے دن رات اچھے گزر جاتے تھے، اس دن رات میں بظاہر کوئی کمی نہ تھی سوائے محبت بھرے رشتوں کے، جن کے بغیر میں نے جینا سیکھ ہی لیا تھا۔۔
 پھر اچانک ایک نئے ایڈونچر نے میرے جسم میں برق سی دوڑادی،
 شہر میں کتنا بڑا اہتمام ہورہا تھا، رنگ و نور کی بارش سے بھیگا شاہی محل ساری عوام کے لئے کھولا جا رہا تھا، میں بھی چاہتی تھی کہ اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر زندگی میں ایک بار شاہی محل دیکھ لوں لیکن یہ اتنا آسان نہ تھا، اس کے لئے خدا نے ایک روحانی ماں بھیج کر میری زندگی کو ایک جادوئی موڑ دیا، اور میں شاہی محل تک پہنچا دی گئی، وہاں پہنچ کر احساس ہوا کہ خداوند نے مجھے شاہی محل کے لئے نہیں بلکہ شہزادہ تھامس کے لئے وہاں بھیجا تھا۔۔
 شہزادے کے حسنِ نظر نے مصنوعی مسکراہٹوں اور منافق نیتوں والے چہروں کے بیچ میں میرے چہرے کو پسند کیا، اُس نے چند لمحوں میں ایک طویل سفر کر کے  اس بات کا فیصلہ کیا کہ میں الگ ہوں، اور یہ انفرادیت اتنی خاص ہے کہ وہ اپنے اور میرے بیچ حائل کئی تفریقات کے خلاف کھڑا ہو کر بھی مجھے اپنا لے گا، میں وہاں سے نکل گئی، مگر وہ میرا کانچ کا جوتا لئے مجھے ڈھونڈتا رہا۔۔ 
اُس کی محبت میرے لئے کسی نعمت سے کم نہ تھی، کیونکہ میری زندگی میں یہ واحد کمی تھی، اور ایسی کمی جس کو میں نے کبھی پورا کرنے کی کوشش نہ کی، بلکہ خود ہمیشہ دوسروں کی زندگی میں اس کمی کو پورا کرتی رہی۔ 
شہزادے کے لئے مجھ سے پیار کرنا کیوں آسان ہوا میں کبھی نہیں سمجھ سکی۔۔
شاید اس لئے کہ وہ مرد ہے اور مرد کے لئے سب آسان ہے، وہ محبت کر کے بھی ہر چیز پر قابض رہنا جانتا ہے، وہ محبت کرتا ہے مگر خود کو نہیں لُٹاتا۔۔ 
اب تک آپ سب نے جو کہانی سُنی ہے وہ جوتا فِٹ آنے پر ختم ہوجاتی ہے، جبکہ میری اصلی کہانی اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔۔

محبت کرنا بلاشبہ ایک حسین ترین احساس ہے اور یہ اپنی خالص حالت میں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے، مگر اس کا اگلا مرحلہ اس احساس کو نبھانے کا ہے۔۔ ہم سب انسانوں کی پہلی محبت ہم ’خود‘ ہوتے ہیں،  مگر کبھی کبھی کسی سے محبت کر کے ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم خود سے محبت کرنے کے قابل نہیں رہے، 
شہزادے سے شادی کا دن آگیا تھا، اور اُس دن مجھے ادراک ہوا کہ عورت کے لئے اپنا گھر اور اپنے لوگ چھوڑنا اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا جتنا خود اپنے آپ کو چھوڑنا ہوتا ہے، میں ایلا سے شہزادی سنڈریلا تھامس بن رہی تھی، مگر مجھے سنڈریلا نامی  نئی زندگی کی خوشی کے ساتھ ساتھ معصوم ایلا کی موت کا بہت افسوس تھا۔۔
سارے شہر کی لڑکیاں شہزادہ تھامس سے شادی کرنے اور شاہی محل میں رہنے کی خواہش مند تھیں، مگر یہ تاج میرے سرَ پہنایا گیا، اُس وقت کئی آنکھیں مجھ پر رشک اور حَسد سے اُٹھتی رہیں، مگر کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ اِس تاج کے وزن نے  میرے سِر اور گردن تمام عمر جھکائے رکھنی ہے، شاہی محل میں قدم رکھتے ہی مجھے احساس ہوا کہ باہر سے اس محل کی دیواریں جتنی شاندار ہیں اندر رہنے والوں کے دل اُتنے ہی تنگ ہیں، شاہی محل کے لئے میں ایک غیر ضروری اضافہ تھی جس کے ہونے یا نہ ہونے سے شاہی زندگیوں پر کوئی اثر نہ پڑتا،  میری کم مائیگی کا احساس مزید بڑھ گیا۔۔  میں  مس فٹ تھی، شاید میں شاہی زندگی کے قابل نہ تھی، میں ایک آزاد روح تھی، ایک ایسا سورج جس کی حدت اور روشنی سب کے لئے تھی، شاہی محل نے اس سورج کو طاقچے میں بند کر کے اس کی رونق محفوط کرنی چاہی، اس کی تقدیس کو بڑھانا چاہا کیونکہ اگر شاہی خاندان کی بہو بطخوں کے پیچھے بھاگے اور ڈبل روٹی بیک کرے تو شاہی خاندان کی عزت گھٹتی ہے،
شہزادہ چاہتا تھا میں اُسکی مشکور رہوں کہ وہ مجھے اس زندگی میں لایا تھا، وہ خوش تھا، اُس کی زندگی مکمل تھی۔۔ کیونکہ اُس نے میرے لئے شاہی محل نہیں چھوڑا تھا، میں نے اُس کے لئے اپنی سادہ زندگی چھوڑی تھی، اُس نے اپنے روزمرہ کے شاہی معمولات نہیں چھوڑے تھے، اُس کی زندگی میں وہ سب تھا جو میرے آنے سے پہلے بھی ہوتا تھا، اور میں اُن سب میں ایک اضافہ تھی، مگر میری زندگی سے وہ سب چلا گیا تھا جو میرا تھا، اور میرے پاس اب صرف شہزادہ تھا۔۔  
میرے بارے میں ہر وہ چیز جو میرے لئے باعثِ خوشی تھی وہ مجھ سے ختم ہوتی جا رہی تھی، میرے دن رات، میرے الفاظ یہاں تک کہ میری سوچ بھی میری اپنی نہ رہی تھی، کچھ اپنا تھا تو صرف شہزادے کی محبت جو قلعے میں بند شہزادی کے جسم سے ساری سوئیاں نکال دیتی تھی۔۔ حقائق کا یہ بیان اس لئے تھا تا کہ ہر وہ لڑکی جو بچپن سے اب تک میری کہانی سے فینٹاسائز ہو کر سنڈریلا بننے کے خواب دیکھتی آئی ہے، وہ یہ جان لے کہ ’فیری ٹیل‘ تو وہیں ختم ہوگئی تھی جہاں وہ جوتا مجھے فِٹ آیا تھا، مگر زندگی وہاں ختم نہیں ہوتی، 

Thursday, November 30, 2017

پیاری بیٹی

پیاری بیٹی 
            ہمیشہ خوش رہو، اللہ تمہیں شاد اور آباد رکھے۔ تمہیں حیرت ہوگی کہ جو باتیں میں تم سے با آسانی کہہ سکتی تھی اور جن میں سے کئی باتیں پہلے ہی سے تمہاری تربیت کا خاص حصہ تھیں، اُن کی یاددہانی کے لئے میں کاغذ اور قلم کا سہارا کیوں لے رہی ہوں، تو اس کی کئی وجوہات ہیں، جس میں سے ایک میری ادیبہ بننے کی خواہش جو عمر کے اِس حصے میں بھی مجھے بار بار لکھنے پر اُکساتی ہے، دوسرا یہ کہ مجھے ہمیشہ ہی لگا ہے کہ لکھی ہوئی بات کہی ہوئی بات سے زیادہ سمجھی جاتی ہے اور اپنا دیر پا چھوڑ جاتی ہے، تیسرا یہ کہ اِس لکھے ہوئے مواد کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے، بار بار پڑھ کر نئی طرح سے سمجھا جا سکتا ہے، اس سے رہنمائی لی جا سکتی ہے، اور اکثر اُن احساسات کو تر و تازہ کیا جا سکتا ہے جن کے پیشِ نظر یہ لکھا گیا تھا، منہ زبانی باتوں کا معاملہ اگرچہ بے حد مشکل اور پیچیدہ ہے، اور میں اہم معاملات میں زبان کا استعمال کم کرنے کو ترجیح دیتی رہی ہوں۔  جانتی ہوں کہ تمہیں میرے اس رویے سے شکایت بھی تھی، مگر مجھے معلوم تھا کہ وقت ایک دن تمہیں اُس کردار کو نبھانے کا موقع ضرور دے گا جو میں نے اتنے برس نبھایا ہے تب تم سمجھ جاؤگی کہ انسان کو اپنے نفس اور اپنے الفاظ کا غلام نہیں بننا چاہئیے۔
بیٹی، میرے زمانے میں سوشل میڈیا جیسی نعمتیں موجود نہیں تھیں ورنہ میں بھی دنیا کے ایک کونے میں بیٹھ کر باقی دنیا کو دیکھ پاتی، دنیا کو جان پاتی، میں نے دنیا کو یا کتابوں سے جانا ہے یا اس اصلی دنیا میں میرے آس پاس چلتے کرداروں سے۔۔ لوگوں کے روّیوں کو ضمرہ بند کرتے کرتے، معاشرے اور دین کے تقاضوں کو پورا کرتے کرتے کبھی مجھے لگتا کہ یا تو میں بہت منافق ہوگئی ہوں یا اللہ کے بے حد نزدیک ہوگئی ہوں۔۔ اور اب میں بوڑھی ہوگئی ہوں، اب میں مرکزی کردار نہیں ہوں، میرا کردار اب ایک ناظر کا ہے، جو کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر نئے کرداروں کو اپنے ہی جیسی غلطیاں دوہراتے دیکھے گا۔۔ کل میں بیوی تھی، اب میں ساس بن جاؤں گی۔۔ تم بیٹی تھیں، مگر تم میری جگہ آ کھڑی ہوگی۔۔ 
جس دن تم پیدا ہوئیں مجھے راجندر سنگھ بیدی کے لکھے ہوئے وہ لفظ بہت یاد آئے۔۔
                                        بیٹی تو کسی دشمن کے بھی نہ ہو بھگوان، زرا بڑی ہوئی ماں باپ نے سسرال 
                                        دھکیل دیا، سسرال والے ناراض ہوئے میکے لڑھکا دیا۔ ہائے یہ کپڑے کی گیند
                                        جب اپنے ہی آنسوؤں سے بھیگ جاتی ہے، تو لڑھکنے کی جوگی بھی نہیں رہتی

چند منٹوں کے لئے مجھے لگا کے جیسے مجھے کسی بہت بڑی آزمائش میں ڈال دیا ہو، اولاد تو اولاد ہوتی ہے، لیکن معاشرے کے دوہرے معیار کا سامنا کرنے کے لئے میں اپنی بیٹی کے نازک خواب کیسے روند سکوں گی، بہت زیادہ سوچنے اور پڑھنے والوں کا یہی حال ہوتا ہے۔ آگہی بہت بڑا عذاب ہے بیٹی۔ جب تک انسان نا آشنا رہتا ہے اُسے غلط کاموں کی لذت محسوس ہوتی رہتی ہے۔ جوں ہی اُسے غلطیوں کا ادراک ہوجائے اور وہ اللہ کے حضور جواب دہی کا تصور کرے، اُسکا پورا وجود دوزخ بن کر اُسے جلانے لگتا ہے۔۔ لیکن پھر ایک وقت آتا ہے کہ ندامت کی دوزخ میں تپ تپ کر انسان کندن ہوجاتا ہے۔ 
اللہ تو بہت مہربان ہے، کیونکہ وہ نیتوں کا حال جانتا ہے، اسلئے اُسے منانا بہت آسان ہوجاتا ہے۔۔ اُس سے کچھ نہیں چھپا۔ 
لیکن بیٹی اس سب کے باوجود جو زندگی تم اب شروع کرنے جا رہی ہو، وہ بہت سخت ہے کیونکہ یہ بیک وقت چیلنجنگ اور خوبصورت ہے۔۔  توازن بگڑنے سے یہ کبھی کبھی زندگی کی شکل کو مسخ کردیتی ہے۔  بازار میں میرے ساتھ رنگ برنگی چوڑیاں خریدتے ہوئے، تم سوچتی ہو کہ زندگی بھی ہمیشہ  ان کے رنگوں سے مزین رہے گی، تو یہ غلط ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ تم یہ ذہن نشین کرلو کہ یہ زندگی جنت ہوگی یا جہنم اسکا فیصلہ تمہارا ہوگا۔ اور اس فیصلے کو حقیقت بنانے میں سراسر کوشش بھی تمہیں کرنی ہوگی۔۔ اللہ نے بندے کو دنیا میں آزمائش کے لئے بھیجا ہے، اور شیطان کے بارے میں بھی تمہیں آگاہ کردیا ہے کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، پھر بھی کتنے لوگ اس دشمن کی باتوں میں آکردنیا ہی میں جنت سے نکال دئے جاتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ ہے کہ یہاں اہم اور مقدس رشتوں کو کبھی بھی تقدس کے اُس مقام پر نہیں رکھا گیا جس کے وہ حقدار تھے۔۔ اُس پر غضب یہ کہ مغربی معاشرے سے متاثر فی زمانہ کئی لوگ ازدواجی زندگی میں برابری قائم رکھنے کی تگ و دو اپنے اصلی مقام سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اِس رشتے میں برابری نہ فطرت کی رُو سے ممکن ہے نہ کسی عقلی دلائل سے ثابت۔۔ لیکن انسانی نفس شیطان کے شر کی وجہ سے کبھی کبھی بدی پر مائل ہو جاتا ہے۔۔ جبکہ اللہ نے مرد کو حاکم کہا ہے، اُس میں اپنی روح پھونکی ہے اور اُسے اپنے جیسی کئی خوبیاں دی ہیں،  جب وہ تمہارے رزق کے لئے دوڑ دھوپ کرتا ہے اور تمہیں لا کھلاتا ہے تو وہ رازق ہے، جب زمانے کی دھوپ سے تمہیں بچانے کے لئے تم پر سختی کرتا ہے یا پابندی لگاتا ہے تب وہ حفیظ ہوتا ہے، تمہاری غلطیاں درگزر کر کے کبھی غفور کبھی تمہاری تکلیف آسان کر کے رحیم الغرض وہ ایسی کئی خوبیوں سے نوازا گیا ہے جو خود اللہ کی بھی  ہیں، مگر اس سب کے باوجود وہ بلآخربشر ہے اور اُس میں بھی کچھ خامیاں ہونگی، کبھی کبھی وہ عادت سے ہٹ کر کچھ غیر متوقع کر دے گا، تو اُس وقت بدگمان ہونے کے بجائے اُس کیفیت کو چمجھنے کی کوشش کرنا جو اِس روّیے کی وجہ بنی۔۔
  بانو قدسیہ نے لکھا تھا کہ انسان ہمہ وقت نیکی اور بدی کی کشمکش میں پھنسا رہتا ہے، دل جو ربِ کائنات کے نام سے دھڑکتا ہے اُسے اطاعت اور نرم روی کی ترغیب دیتا ہے جبکہ شیطان اُسے خودغرضی پر اُکساتا ہے، بیٹی ایسے موقعوں پر ہمیشہ دین تمہارے لئے راہبر کا کام کرے گا۔۔ جب تمہارا دل اور دماغ کسی بات پر ایک دوسرے کے مخالف ہوجائیں تو یہ جاننے کی کوشش کرنا کہ دین اس معاملے میں تمہیں کس روّیے کی تجویز دیتا ہے، اور اگر کبھی جلدبازی میں جو شیطان کا سب سے کارگر ہتھیار ہے کوئی غلطی کر بیٹھو تو ابلیس مت بننا، آدم بننا اور معافی مانگ لینا، آسمان کے خدا سے بھی اور اُس سے بھی جس کو اللہ نے زمین پر تمہارا خدا بنایا ہے۔ 

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"دو فرد ایسے ہیں جن کی نماز ان کے سروں سے اوپر نہیں جاتی (قبول نہیں ہوتی):
1۔اپنے مالکوں سے بھاگا ہوا غلام،جب تک واپس نہیں آجاتا۔
2۔خاوند کی نافرمان عورت،جب تک اسے راضی نہیں کر لیتی۔"
مستدرک حاکم:183/4،ح:8330۔السلسلة الصحيحة:288

بس کسی کے مقام کا تعین کرنے کے لئے اس سے بڑی دلیل کیا ہوگی، جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اُسکے معاملے میں بلاشبہ احسان کرتا ہے۔۔ لیکن ہمارے چلن اس سے کتنے مختلف ہیں، ہمیں ساری عمر جس کا سب سے زیادہ مشکور رہنا چاہئے اور جس کا سب سے زیادہ خیال رکھنا چاہیے، ہم اُسکے ساتھ انا کی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ شروع کردیتے ہیں، ہم مقابلہ اور موازنہ کرتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ اس معاملے میں ہمارے لئے دین نے کوئی حجت نہیں چھوڑی، ہمارے حقوق اور فرائض کی بہترین وضاحت کی گئی ہے، مگر ہم حقوق کو یاد رکھتے ہیں اور فرائض کو بھول جاتے ہیں، اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اگر سب اپنے فرائض صحیح طور پر پورے کریں تو کسی کی حق تلفی نہ ہو، اور پھر کسی انسان کی زرا سی کمزوری پر ہم شکایت اور بدگمانی کا ایک لمبا سلسلہ کھول بیٹھتے ہیں، بھول جاتے ہیں کہ انسان تو ہم بھی ہیں اور غلطی ہم سے بھی ہوتی ہے۔۔اور جانے ہماری کتنی ہی غلطیوں کو سامنے والا ہم پر جتائے بغیر درگزر کردیتا ہوگا۔۔ ہم سامنے والے سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ ہماری طرح سوچے یہ نہیں سوچتے کہ مختلف زاویوں کی سوچ سے کیسے بہتر راہ نکالی جائے۔۔ خیر صبر برداشت تو اس قوم سے مجموعی طور پر ختم ہوتا جا رہا ہے۔۔ 
یہ تو ہے دین اور خوفِ خدا کی بات لیکن اس تعلق میں ایک چیز اور بھی ہے جو شاید سب سے زیادہ اہم مگر سب سے زیادہ نظر انداز کی جانے والی ہے۔
اور وہ ہے محبت، جو دنیا کی ایسی واحد طاقت ہے کہ انسان سے وہ کچھ کرواسکتی ہے جس کا وہ کبھی خود سے گمان بھی نہیں کرسکتا ہو، یہ انسان کو اُسکا اپنا آپ بھلا دیتی ہے۔ محبت کرنے والا انسان حقوق اور فرائض کی بحث یا ناپ تول میں نہیں پڑتا، وہ بہت کچھ منطق کے بغیر کرتا ہے، جو نہ اُس پر فرض ہوتا ہے، نہ کسی اخلاقی حدود میں اُس پر لازم ہوتا ہے مگر وہ احساس کرتا ہے، ایسی کئی چیزیں ساتھ ایک دوسرے کے لئے کرتے ہیں جنہیں جتانے یا بتانے کی نہیں محسوس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر ہماری محبتیں سارے زمانے کی ہوتی ہیں سواےٴ اُسکے جسکا اس محبت پر ہر قسم کا حق ہے، اس حقدار کو اپنا مخالف سمجھتے ہیں اور اپنے ارد گرد ایسے کئی لوگ جمع کرلیتے ہیں جو سیاسی پارٹیوں کی طرح ایک دوسرے کے خلاف مہم چلانے میں مدد دے سکیں۔ یہ نہ صرف اس تعلق کی تذلیل ہے، بلکہ یہ اللہ کے احکامات سے کھلی جنگ ہے۔۔ بس اس جنگ کا خاتمہ ہونے تک انسان اپنی دنیا اور آخرت کے لئے دوزخ تیار کر چکا ہوتا ہے۔ 
کچھ باتیں سوچ کر لگتا ہے کہ یہ کتنی ناقابلِ برداشت ہیں، مگر ہر قسم کے رد عمل کا مظاہرہ کرنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ زندگی پر اُنکا کوئی اثر نہیں پڑتا اگر ہمارا ردعمل ہمارے قابو میں ہوتا۔۔ ایسے بہت سے موقعوں پر ثابت قدمی یہ ظاہر کرے گی کہ تم نے دین اور دنیا کے لئے کیا کمایا ہے۔ کئی موقعوں پر یہ ہمت ٹوٹ جایا کرے گی، غلطیاں ہونگی، شیطان کا دام با اثر ہوگا، تب سب سے زیادہ ضروری  یہ ہوگا کہ چیزوں کو مزید خراب کیا جائے یا تصحیح کی طرف لوٹا جائے۔۔ 
ایسی ہر مشکل میں حدیث کے مطابق صبر اور نماز سے مدد لینا، یا کسی ایسے مخلص دوست سے جو حق اور صبر کی تلقین کرنے والا ہو، اور کوشش کر کے یہ دوست اُس ہی میں تلاش کرلینا جس کے ساتھ اب یہ ساری عمر گزارنی ہے۔ اللہ نے تم دونوں کو ایک دوسرے کا لباس بنایا ہے۔۔ تم ایک دوسرے کا آئینہ بھی بن جانا، ایسا آئینہ جو ایک دوسرے کی بہتریں اور شفاف عکاسی کر کے ایک دوسے کے عیوب کو ختم کروانے میں مدد دے، ایسا آئینہ جو اپنے اندر پڑنے والی دراروں کو بھرنے کی قوت رکھتا ہو، اور ایسا آئینہ جو کبھی کسی شر کی وجہ سے دھندلا نہ جائے۔
دعا کروں گی کہ زندگی کی تمام آزمائشوں کو ایک دوسرے کی محبت کی بدولت آسائش میں بدل لو۔ آمین
                                                                                                              تمہاری ماں                                                                                    

Thursday, August 31, 2017

میرے بھی ہیں کچھ خواب


اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خواب
میرے بھی ہیں کچھ خواب
اس دور سے اس دور کے سوکھے ہوئے دریاؤں سے
پھیلے ہوئے صحراؤں سے اور شہروں کے ویرانوں سے
ویرانہ گروں سے میں حزیں اور اداس!
اے عشق ازل گیر و ابد تاب
میرے بھی ہیں کچھ خواب!
اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خواب
میرے بھی ہیں کچھ خواب
وہ خواب کہ اسرار نہیں جن کے ہمیں آج بھی معلوم
وہ خواب جو آسودگیٔ مرتبہ و جاہ سے
آلودگیٔ گرد سر راہ سے معصوم!
جو زیست کی بے ہودہ کشاکش سے بھی ہوتے نہیں معدوم
خود زیست کا مفہوم!
دنیا میں سب سے سستی چیز ایک عورت کے خواب ہیں، روز ٹوٹتے ہیں۔۔ روز وہ
 اِن خوابوں کی کرچیوں کو سمیٹتی ہے اور اپنے جسم کے کسی کونے میں دفنا دیتی ہے۔ پھر زندگی میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب اُسکا جسم اِن کرچیوں سے بھر جاتا ہے تب تک یہ کرچیاں اُس کا پور پور زخمی کردیتی ہیں، پھر یا تو وہ اِس تکلیف کے ساتھ مر جاتی ہے یا پھر اِن سے رِستے ہوئے خون کو نت نئے طریقوں سے چھپانے کے طریقے تلاشتی رہ جاتی ہے۔ اس طرح وہ ساری زندگی یہ ثابت کرتے ہوئے گزار دیتی ہے کہ وہ قربانی جیسے مقدس جذبے سے سرشار ہے، وہ خود غرض نہیں ہے کہ صرف اپنے بارے میں سوچے اور اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے اپنے رشتوں کو داؤ پر لگاتی جائے لیکن ہر بار کٹہرا ہی اُسکا مقدر بنتا ہے، احتساب کی سوُلی پر صرف عورت اور عورت کے خوابوں چڑھایا جاتا ہے، اور اگر بدقسمتی سے وہ اپنے خوابوں کو جینے کی ہمت کرنے والی بن جائے تو وہ ایک بری عورت ہے جس کے لئے مردوں کے بنائے ہوئے اس دوہرے معیار والے معاشرے میں کوئی اچھے القاب نہیں ہیں۔ مرد کی سب سے بڑی قابلیت یہ ہے کہ وہ مرد ہے! اِس ایک قابلیت کے آگے عورت کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ قابلیت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ 
اسی لئے کامیاب عورت وہ ہے جو تسلیم کر لے کہ گھر اور رشتے اُسکی قربانیوں کے مرہونِ منت تو ہیں لیکن وہ ان سب قربانیوں کے بعد بھی دنیا کی سب سے بے وقعت چیز ہے، جسے مرد کی زبان سے غصے میں نکلنے والے تین الفاظ بے یار و مددگار کر سکتے ہیں۔ 
________________________________




انڈس ویلی آرٹ کی خوبصورت عمارت کتنی ہی خواب پوش آنکھوں کے لئے آرامگاہ ہے، آرکٹکچر، ٹیکسٹائل اور فنِ مصوری جیسے آرٹ کی دنیا کے ونڈر لینڈ کا دروازہ ہیں۔ ایسے ہی ایک ونڈرلینڈ میں مارشمیلو کا قلعہ بنا کر چاکلیٹ کے بستر پر ویفر کا تکیہ لگائے وہ بادلوں کو پینٹ کر رہی تھی پورا آسمان اُسکا کینوس تھا، رنگ اُسکی زندگی تھے ، قدرتی مناظر کے حسن کو پوٹریٹ اور لینڈاسکیپ میں قید کرنا اُسکے لئے ایسا تھا جیسے جسم میں نئے خلیے جان بن کر پھیل گئے ہوں۔ تصویریں تو جانداروں کو بے جان ٹکڑے میں جکڑ لیتی ہیں لیکن عائشہ بےجان مناظر کو اپنی پینٹنگز سے جاندار بنا دیتی تھی۔  وہ گیارہ سال کی عمر سے پینٹ کررہی تھی اور اُسکے آس پاس سے لے کر حلقہ احباب میں دور دور تک کا ہر شخص اُسے اسی حیثیت سے جانتا تھا، اِس فن نے اُسے اپنے ہی جیسے لوگوں میں ایک امتیاز دیا تھا اور یہ امتیاز اب اُسکا جنون بن گیا تھا، لیکن ایک جنون اور تھا اُسکی زندگی میں جس نے اُسکے دل کے ہر موسم کو قوسِ قزح سے رنگ رکھا تھا، فراز سے اُس کی دوستی جب سے ہی ہوگئی تھی جب وہ پیدا ہوئی تھی، عائشہ سے پہلے فراز گھنٹوں اکیلے ادھر اُدھر دوڑتا پھرتا تھا، وہ چار سال کا تھا جب اُسکو حقیقتاً لگا کہ اللہ نے خالہ کے ہاتھ اُسکے لئے ایک پارٹنربھیج دیا ہے۔ اور اس احساس کے بعد زندگی میں کبھی بھی کسی اور کو پارٹنر بنانے کا خیال ہی نہیں آسکا۔ آج عائشہ نے شہر کے نامور ادارے سے گریجویشن مکمل کرلیا تھا، یہاں تک پہنچنے میں کی گئی ہر ایک لمحے کی محنت اور اپنے کام سے جنون کی حد تک لگاؤ اُس کی آنکھوں سےآنسو بن کر بہہ رہا تھا۔ وہ ونڈرلینڈ کے دروازے پر انٹری ٹکٹ لئے کھڑی تھی ۔۔ بس ایک قدم اُٹھانا تھا اور وہ اپنے مارشمیلو کے قلعے سے نکل کر اپنے  آسمان کے کینوس تک اُڑان بھر لیتی۔۔ 
بیجینگ میں ہونے والے انٹرنیشنل پینٹنگ بائےاینل میں عائشہ کا بنایا ہوا فن پارہ نمائش کے لئے منتخب ہوگیا تھا۔ پروفیسرز اُسکو فون پر فون کر کے مبارکباد دے  
رہے تھے، جیسے ہی
کالز کا سلسلہ رُکا اُس نے فراز کو کال کی،پہلی بیل پر ہی فون ریسیو ہو چکا تھا
فراز نے فون اُٹھاتے ہی کہا۔۔  کیا بات ہے، آپ ہی کو کال کرنے کے لئے موبائل
 اُٹھا رہا تھا

عائشہ: اوہ رئیلی؟ خیریت؟

فراز: ہاں، ممی کل آرہی ہیں تمہارے گھر ڈیٹ فکس کرنے۔

عائشہ خوشی سے چیختے ہوئے۔۔ سچ؟

فراز: جی جی بلکل سچ

عائشہ: اوہ گاڈ۔۔ یہ کیا ہورہا ہے، ایک ہی دن میں دو گُڈ نیوز

فراز: دو؟ دوسری کیا ہے؟

عائشہ: میری پینٹنگ اس سال کے انٹرنیشنل پینٹنگ بائےاینل کے لئے سلیکٹ ہوگئی ہے فراز، میں اگلے مہینے بیجنگ جاؤں گی۔۔ 

فراز نے حیرت سے کہا۔۔ واٹ؟ بیجنگ؟ مذاق کر رہی ہو

عائشہ: اوہ ناٹ ایٹ آل فراز۔۔ مجھے خود بھی یقین نہیں آرہا۔۔

عائشہ خوشی میں کہہ رہی تھی مگر اُسے احساس ہوا کہ فراز کے لہجے میں خوشی کا کوئی تاثر نہیں تھا۔۔

کیا ہوا؟ تم ایسے چپ کیوں ہو۔۔ عائشہ نے پوچھا

کچھ نہیں۔ میں یہاں تم سے ہماری ڈیٹ فکسنگ کی بات کررہا ہوں اور تمہیں پینٹنگ مقابلے کی پڑی ہے، فراز نے بے زاری سے کہا

میرے لئے دونوں بہت بڑی خوشیاں ہیں فراز ، عائشہ نے نرمی سے کہا

سوری! میرے لئے نہیں۔۔ میرے لئے اس وقت سب سے اہم میری اور تمہاری شادی کی بات ہے، فراز نے جتایا

عائشہ کو اُسکے رویے پر دکھ ہوا
اُسکی خاموشی پر فراز نے مزید کہا

اور پلیز بیجنگ جانے کا خیال بھی چھوڑ دو۔۔ ممّی شادی جلد ہی کرنا چاہتی ہیں، تو
 اس بیچ کے وقت میں ہم بہت سی تیاریاں کریں گے، ساتھ شاپنگ کریں گے۔۔ اپنی ویڈنگ ڈائری بنائیں گے۔۔ بہت یادگار . وہ خوشدلی سے اپنے منصوبے بتا رہا تھا

لیکن پورے پاکستان میں سے صرف میری پیںٹنگ سلیکٹ ہوئی ہے۔ اور جب سے
 یہ اناؤنس ہوا ہے میری یونیورسٹی کے ایک ایک فکیلٹی ممبر نے مجھے کال کر کے میری حوصلہ افزائی کی ہے، عائشہ نے اُسکو سمجھانے والے انداز میں کہا

عائشہ پلیز بچوں جیسی باتیں مت کرو، پینٹنگ نہ ہوگئی نوبل انعام ہوگیا۔۔ کیا ہوگا
 اس سلیکشن سے یا اس مقابلے سے۔۔ فراز نے الجھ کر کہا

یہ میرے کرئیر کا پہلا قدم ہے، عائشہ نے جتایا

کرئیر؟ سریئسلی؟ تم اسے کرئیر بناؤ گی؟ فراز نے ہنس کر پوچھا

عائشہ کو ایک دم ہی بہت تحقیر کا  احساس ہوا،
 ہاں فراز۔۔ میں نے زندگی میں صرف پینٹ کیا ہے، اور میں یہی کرنا چاہتی ہوں اسی لئے میں نے اس کی ڈگری کی ہے 

خیر زندگی میں تو تم نے مجھ سے محبت بھی کی ہے، رہی بات پینٹ کرنے کی تو ضرور کرو، لیکن گھر بیٹھ کر، یہ سوچ کر نہیں کہ تم اسکی نمائش کے لئے پوری دنیا گھومو گی ۔ فراز نے حتمی لہجے میں کہا

لیکن کیوں، اس میں کیا غلط ہے، اور تم مجھے بچپن سے جانتے ہو، تمہیں معلوم ہے میرے لئے یہ سب کتنا اہم ہے۔۔ عائشہ کا لہجہ ایکدم ہی ملتجی ہوگیا تھا

دیکھو عائشہ، تم بھی مجھے جانتی ہو، تمہیں معلوم ہے ممی کے سوشل ورک کے شوق کی وجہ سے میں نے اور ڈیڈی نے بہت سَفَر کیا ہے، میں اب اپنی زندگی میں ایسا کوئی تباہ کن مشغلہ شامل نہیں کرنا چاہتا جس سے میرا گھر میری فیملی ڈسٹرب ہو۔۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ ہم اس پر اتنی بحث کیوں کررہے ہیں کیا تم مجھ سے زیادہ اُن پینٹ برش سے پیار کرتی ہو۔۔ فراز نے نرمی سے کہا

تم جانتے ہو کہ میں کس سے کتنا پیار کرتی ہوں لیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ تم مجھے میرے اس جنون کے ساتھ قبول نہیں کر سکتے۔۔ عائشہ نے دکھ سے کہا

ٹھیک ہے پھر تم یہ سمجھ لو کہ محبت انسان سے قربانی مانگتی ہے، قربانی کے بغیر محبت ادھوری ہے۔۔ تو تم میرے پیار میں اپنے جنون کو قربان کردو۔۔ فراز نے اُسکی بات ہنسی میں اُڑا دی جیسے وہ کسی بچے کی بےبنیاد ضد ہو۔۔

تو میری محبت میں تم نے کیا قربان کیا ہے جس سے تمہاری محبت کامل ہوگئی ہے۔۔ عائشہ نے پوچھا۔
فراز کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔۔ 
عائشہ کا مارشمیلو کا قلعہ دنیا کی اِس تیز جلتی دھوپ کی حقیقت میں پگھل گیا، اُسکا چاکلیٹ کا بستر بہہ رہا تھا، ویفر کا تکیہ چورا چورا ہو چکا تھا۔۔ اور اُس کے فنکارانہ وجود پر جا بجا مارشمیلو چپک رہی تھی جس سے اُسکی اُنگلیاں جُڑ رہی تھی، اُس کے پیروں پر چاکلیٹ لتھڑی تھی لیکن سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا، اپنے خوابوں کے آسمان کو کانچ کی طرح بکھرتے ہوئے دیکھنا۔۔ ونڈرلینڈ ایک دم سے ہی اُس ظالم دیو کا قلعہ بن گیا تھا جہاں شہزادی کے جسم پر سوئیاں چبھو کر ، اُسکو اپنی خواہش کے مطابق قید رکھ کر دیو اُس سے محبت کا دعوی کرتا ہے، اور ایسی قید میں وہ اکیلے نہیں تھی۔
___________________________________________________

آج کیا کھلا رہی ہیں ڈاکٹر صاحب، ابّا اپنی واکنگ اسٹک ٹیکتے ہوئے آئے اور کچن کے سامنے بنے ہوئے ڈائننگ ہال میں بیٹھ گئے

وہی جو چھٹی کے دن آپ پسند کرتے ہیں۔ فضا نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا

ویری گُڈ۔۔ ابا بھی مسکرائے۔ ویسے پی ایچ ڈی آپ نے فائنانس میں کیا ہے لیکن صحت کا خیال آپ کسی ڈاکٹر سے بہتر رکھ لیتی ہیں۔۔ ابا نے کہا

شکریہ ابّا جان۔۔ آپ نے بھی تو مجھے ڈاکٹر صاحب کہہ کہہ کر جانے کہاں بٹھا رکھا ہے۔۔ اُس نے ناشتہ میز پر رکھتے ہوئے کہا اور خود بھی سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی

کہاں کیا بٹھایا رکھا ہے؟ آپ جس جگہ کے قابل ہیں بلکل وہیں رکھا ہے، آئی ایم پراؤڈ آف یو۔۔ اتنا تو مجھے آپ سے چھوٹے تینوں سپوتوں نے کبھی خوش نہیں کیا۔۔ بس میری یہ دعا ہے کہ اب آپ اپنی صحیح جگہ پہنچ جائیں۔۔  ابا نے آہ بھری

میں بلکل صحیح جگہ ہوں ابا جان۔۔ انشااللہ پیر سے میں ایسوسیٹ سے پروفیسر کی سیٹ پر پروموٹ ہوجاؤں گی۔۔ اُس نے خوشی سے کہا

انشااللہ کیوں نہیں اللہ آپ کو اور ترقی دے۔ یہ سب آپکی محنت کا ہی پھل ہے، ورنہ جس طرح آپکی اماں کے بعد آپ نے تینوں بھائیوں کے ساتھ اپنی تعلیم کو مینج کیا ہے وہ کوئی آسان بات نہیں لیکن بیٹا، ہر لڑکی کا اصل گھر تو اُسکا اپنا گھر ہوتا ہے۔۔ اب دیکھو تینوں بھائیوں کے بھی گھر بس گئے ہیں۔۔ ابا نے سمجھایا

ابا وہ موسم آ کرگزر گئے ہیں، اب یہی میرا گھر ہے، میرے پاس سب کچھ ہے۔۔ مجھے اب کیا ضرورت ہے نئے رشتوں کی۔۔ اُس نے بات ٹال دی

کون سے موسم گزر گئے؟ آپ ابھی بھی بہت ینگ اور فریش لگتی ہیں، معصومیت کا موسم آپ کے چہرے پر ٹھہر گیا ہے۔۔  ابا نے کہا

آج آپ یہ باتیں کیوں کررہے ہیں کہیں پھر سے پھپھو نے فون کر کے یہ سب یاد تو نہیں دلایا۔ فضا نے پوچھا

وہ کیا یاد دلائیں گی، میں یہ سب کبھی نہیں بھولتا میں چاہتا ہوں میری آنکھوں کے سامنے آپ کسی محفوظ  تعلق میں بندھ جائیں
ابا نے کہا

ابا میں بلکل محفوظ ہوں، میرے پاس فنانشل سیکیورٹی ہے، آپ ہیں، میرا علم ہے، میرے تین بھائی ہیں۔ اُس نے اپنے اطمینان کا احساس دلایا

لیکن یہ بھائی سب اپنے گھروں میں آباد ہیں، میری زندگی کا بھی کوئی بھروسہ نہیں، اور بیٹا ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں عورتیں شوہر کے ساتھ ہی محفوظ ہوتی ہیں۔۔ ابا کے لہجے میں عجیب سا اسرار تھا فضا کو کچھ محسوس ہوا

اچھا تو کیا آپ نے میرے لئے کوئی ایسا باڈی گارڈ دیکھ لیا ہے ، فضا نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو اُس کے مذاق پر ابا دیر تک ہنسے

ہاں، شاید تمہیں یاد ہو دو سال پہلے میرے ایک جاننے والے آئے تھے، تم سے اپنی پی ایچ ڈی کے لئے کچھ معاونت لینے۔۔ ابا نے کہا

جی جی ، اطہر صاحب مجھے یاد ہیں، اب بھی اکثر یونیورسٹی میں دکھتے ہیں۔۔ فضا نے کہا

ہمم۔۔ اکیلے ہیں وہ، ماں باپ ہیں نہیں اور بہن بھائی سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف۔۔ وہ چاہ رہے تھے کہ اگر اُن کا اور تمہارا۔۔  ابا کہتے کہتے چپ ہوگئے۔۔

اچھا، تو کیا وہ آپ کو میرے لئے ٹھیک لگتے ہیں، فضا نے پوچھا اور جانچتی ہوئی نظروں سے ابا کو دیکھا

میں حقائق پر مبنی بات کروں گا، تم بھی جانتی ہو کہ زندگی اکیلے گزارنا مشکل ہے۔۔ ابا نے کہا

اِس مشکل میں بھی میَں چالیس سال اکیلے گزار چکی ہوں ابا۔۔ فضا نے بات کاٹی

ہاں وہ بھی اتنے ہی سال اکیلے گزار چکے ہیں لیکن اگر پھر بھی وہ تمہیں زندگی 
میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو یہ میری نظر میں ایک اچھی بات ہے۔ وہاں تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ سسرال جیسا کوئی معاملہ نہیں ہے۔۔ بس ۔۔ ابا پھر چپ ہوگئے

کیا ہوا فضا جو اُنکی بات میں محو تھی چونکی

اُنکی ایک شرط ہے۔۔ ابا نے جھجکتے ہوئے کہا

کیا؟ فضا نے پوچھا

وہ چاہتے ہیں کہ تم نوکری نہ کرو   

کیا؟ یہ کیسی فضول شرط ہے؟ میں اتنی ترقی کر کے، اس مقام پر آ کے، اِتنا پڑھ 
لکھ کر تدریس کا پیشہ چھوڑ دوں۔۔ اُس نے حیرت سے کہا

ہاں، وہ کہتے ہیں کہ بلا ضرورت کیوں نوکری کرنا، وہ بینک میں بڑے اچھے عہدے پر ہیں، ابا نے اُن کا دفاع کیا

بات ضرورت کی نہیں ہے، میں نے نوکری اس لئے تو نہیں کی تھی کہ خدانخواستہ آپ میری ضرورتیں پوری نہیں کرتے تھے، شوق ہے میرا، اللہ نے مجھے علم دیا ہے، میرے پڑھائے ہوئے بچے بھی بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہیں، مجھے اس سے خوشی ملتی ہے۔ فضا نے کہا

دیکھو بیٹا، تم نے بہت محنت کی ہے، عمر گزار دی ہے اس سب میں اب تم اپنا گھر بناؤ، اور ہو سکتا ہے کہ ابھی اس بات پر مباحثہ کر کے شاید وہ تہمیں اجازت دے بھی سے مگر پھر تم ہی اپنی گھر داری میں لگ کر یہ نوکری نہ کرنا چاہو، اس لئے بہتر ہے کہ ابھی ہی۔۔ ابا کہہ رہے تھے اور اُسکی آنکھیں پانی سے بھر گئی تھیں۔۔ ابا اُسکی آنکھیں دیکھ کر شرمندگی سے چپ ہوگئے

ٹھیک ہے ابا مجھے آپ کی بات سمجھ آگئی کہ میری قابلیت اور میری خوشی صرف اس لئے اتنی ثانوی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ میں عورت ہوں اور میں خود سے کم پڑھے لکھے انسان کو اُسکی شرطوں پر زندگی میں اس لئے شامل کرلوں کیونکہ وہ مجھے تحفظ دے گا، اور مردوں کے معاشرے میں تحفظ دینے کا سب سے پہلا قدم ہے عورت کی آزادی چھین لینا۔ آپ اُنہیں ہاں کردیں۔ ٖ یہ کہہ کر فضا میز سے اُٹھ گئی ابا اسے جاتا ہوا دیکھتے رہے، اور اپنی بےبسی پر افسوس کرتے رہے
_____________________________________________________


عورت پر ہونے والے مظالم کی داستانوں کو بڑھا چڑھا کر سنانے والے لوگ اکثر اس حقیقت کو فراموش کرجاتے ہیں کہ ظلم صرف کسی عورت کو تیزاب ڈال کر جلانا یا جہیز کے نام پر مارنا پیٹنا نہیں ہے، معاشرے کے دوہرے معیار کی سوُلی پر ہر دوسرے دن کوئی عائشہ اور فضا لٹکائی جاتی ہے کبھی محبت جیسی لفاظی کے ہتھکنڈے استعمال کر کے تو کبھی خاندانی مجبوریوں اور عورت کی کمزوریوں کو نشانہ بنا کر۔۔ پھر ہم کس منہ سے کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت کی طرح ہم نے لڑکیوں کو دفنانے جیسی قبیح رسم کو چھوڑ دیا ہے، ہم تو اُن جاہلوں سے بھی چار ہاتھ آگے ہیں  جو اُنہیں زندہ رکھتے ہیں اور روز اُنہیں اس تکلیف کو محسوس کرنے دیتے ہیں کہ اُنہیں خواب دیکھنے کا کوئی حق نہیں۔ 

Best Blogs

Reflective Journal ربوبیت کا

انسان  کے  لئے  دنیا  میں  جو  چیز سب  سے  زیادہ  اہم  ہے  وہ  ہے  ’’تعلق‘‘ خواہ  وہ  خونی  رشتے  ہوں،  معاشرتی  تعلقات،  یا  ارد  گرد  کے  ...